سات مہلک گناہ کونسے ہیں؟



سوال: سات مہلک گناہ کونسے ہیں؟

جواب:
سات مہلک گناہ اصلیت میں ایک فہرست ہے جو ابتدائي مسیحی تعلیم میں مسیح کے نئے شاگردوں کے سکھانے اور نصیحت دینے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ گرے ہوئے انسان کی فطرت سے تعلق رکھتا ہے۔ سات "مہلک" گناہوں کی فہرست سے متعلق جو غلط تصور ہے وہ یہ کہ ان گناہوں کو خدا معاف نہیں کریگا۔ مگر کلام پاک اس بارے میں صاف طور سے کہتا ہے کہ لگاتار بے اعتقادی کے گناہ کو معاف نہیں کریگا کیونکہ یہ معافی پانے کے واحد ذریعہ کا انکار کرتا ہے— یعینی کہ یسوع مسیح اور صلیب پر اس کے کفارہ کی موت کا۔

کیا سات مہلک گناہوں کا خیال پاک کلام کے مطابق ہے؟ ہاں اور نہیں۔ امثال19- 6:16 بیان کرتا ہے "چھ چيزیں ہیں جن سے خداوند کو نفرت ہے :1) اونچی آنکھیں، 2) جھوٹی زبان، 3) بے گناہ کا خون بہانے والے ہاتھ ، 4) برے منصوبے باندھنے والا دل، 5) شرارت کے لئے تیز رو پاؤں، 6) جھوٹا گواہ جو دروغ گوئی کرتا ہے اور 7) جو بھائيوں میں نفاق ڈالتا ہے" ۔ کسی طرح، یہ وہ فہرست نہیں ہے جو بہت سے لوگ سات مہلک گناہ بطور سمجھتے ہیں۔

پوپ جارجی دی گریٹ جو عیسوی 600 میں تھے ان کے مطابق مہلک گناہ کی فہرست اس طرح ہے گھمنڈ، حسد، پیٹوپن، شہوت پرستی، غصہ، لالچ، اور کاہلی۔ حالانکہ یہ ساتوں بغیر انکاری کے گناہ ہیں مگر بائيبل میں کبھی بھی انکو "سات مہلک گناہ" بطور ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ سات مہلک گناہ کی روایاتی فہرست کو ایک اچھے طریقہ سے عمل میں لایا جا سکتا ہے تاکہ کئی ایک گناہ جو پائے جاتے ہیں انہیں فرق فرق گناہوں میں تقسیم کرسکے۔ قریب قریب ہر ایک قسم کے گنا کو ساتھ قسم کے گناہ کے ماتحت رکھا جاسکتا تھا۔ اور زیادہ لازمی طور سے ہم کو پہنچاننا ہے کہ یہ سات گناہ دیگر گناہوں سے زیادہ مہلک نہیں ہے۔ بلکہ تمام گناہوں کا انجام موت ہے (رومیوں 6:23)۔ خدا کی حمدوستایش ہوکہ یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہ ان "سات مہلک گناہ" کو شامل کرتے ہوئے معاف کیا جاسکتا ہے (متی 26:28؛ اعمال 10:43؛ افسیوں 1:7)۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



سات مہلک گناہ کونسے ہیں؟