settings icon
share icon
سوال

کیا مسیحی میاں بیوی کا الگ الگ گرجا گھروں میں جانا غلط ہے ؟

جواب


میاں اور بیوی کی طرف سے الگ الگ گرجا گھروں میں عبادت کے لیے جانا ایک ایسی صورتحال ہے جو عام لوگوں کے تصور سے بڑھکر ہے۔ اِس قسم کے جوڑے کے بچّوں کا دو گرجا گھروں کے درمیان تقسیم ہو جانا بھی ایک عام بات ہے جس کی وجہ سے خاندان کے اندر ایک دراڑ پڑ جاتی ہے جو کہ کبھی بھی صحت مند نہیں ہوتی۔ اِس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ شوہر اور بیوی کا علیحدہ گرجا گھروں میں جانا "غلط" ہے یا نہیں، ہمیں سب سے پہلے شادی کو خُدا کی طرف سے قائم کردہ رشتے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

پیدایش 2باب24 آیت ہمیں بتاتی ہے کہ خُدا نے مرد اور عورت کو شادی کے وقت "ایک جسم"ہونے کے لیے پیدا کیا تھا، نہ کہ دو الگ الگ ہستیاں ہونے کے لیے جو اپنی الگ الگ راہوں پر چلیں۔ شادی میں ایک اتحاد ہے جو منفرد اور مُقدس ہے۔ مزید برآں شادی مسیح اور اُسکی کلیسیا (ایمانداروں) کے باہمی اتحاد کی تصویر ہے جیسا کہ افسیوں 5باب31-32 آیات بیان کرتی ہیں۔ ایک مرد اور عورت کے درمیان شادی کا عہد مسیح اور اُن لوگوں کے درمیان عہد کی علامت ہے جن کی خاطر اُس نے اپنی جان دی ہے۔ اُس کا عہد ابدی ، مُقدس اور پاکیزہ ہے بالکل اُسی طرح جیسے شادی کا عہد مُقدس، پاکیزہ اور اٹوٹ ہے۔ دو لوگوں کا یہ اتحاد جس میں وہ ایک بنتے ہیں رُوحانی عالم میں اپنے بلند ترین مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں دونوں کو مسیحیت کے بنیادی عقائدیعنی خُدا، مسیح، گناہ، نجات، فردوس/جہنم وغیرہ کے بارے میں ایک ذہن ہونا چاہیے۔ رُوح القدس کی خدمت کے ذریعے افہام و تفہیم کا یہ اتحاد ‏ایک شوہر اور بیوی کو اِس زمین پر ایک ایسے بندھن میں باندھتا ہے جس کی اِس زمین پر کوئی دوسری مثال نہیں ہے۔

اگرچہ ایک شوہر اور بیوی کی موسیقی، پرستش کے انداز، بچّوں کے پروگرام وغیرہ کے تعلق سے مختلف پسندیدگی ہو سکتی ہے، لیکن اِن میں سے کوئی بھی چیز اِس قدر اہم نہیں ہے کہ اُس کی وجہ سے خاندان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے تاکہ وہ اپنی پسندیدگی کی بنیاد پر مختلف گرجا گھروں میں شرکت کر سکیں۔ اگر دونوں گرجا گھروں میں بائبل پر مبنی درست تعلیم دی جاتی ہے اور مسیح کے نام کو جلال دیا جاتا ہے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایک شریکِ حیات تھوڑا سا جھک کر اپنی ذات ترجیحات کو ایک طرف نہ رکھ سکے۔ اِس سے بھی بہتر بات یہ ہے کہ دونوں لوگ ایک ایسے چرچ کی تلا ش کریں جہاں پر ایمان اور عمل کے لیے خُدا کے کلام کی تعلیم دی جاتی ہے ، جہاں پورا خاندان یسوع مسیح کی حقیقی خوشخبری کے بارے میں سیکھ سکتا ہے اور جہاں پورا خاندان ہم خیال ایمانداروں کے ساتھ رفاقت رکھ سکے۔ اِس سب میں شوہر کو خاندان کے رُوحانی سربراہ کی حیثیت سے قیادت کرنی چاہیے اور اپنی بیوی کی طرف سے مدد اور کاوش کو پیار سے مدِ نظر رکھتے ہوئے حتمی فیصلہ کرنا چاہیے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ دو کلیسیاؤں میں بٹا ہوا خاندان اُن شادیوں کی صورت میں پیدا ہوتا ہے جہاں ایک شریکِ حیات کی پرورش رومن کیتھولک اور دوسرے کی پروٹسٹنٹ فرقے میں ہوئی ہوتی ہے۔ اِس طرح کے حالات میں جوڑے کے لیے دانشمندی کی بات یہ ہوگی کہ وہ باہمی طو ر پر شادی نہ کریں۔ مزید جاننے کے لیے براہِ مہربانی مندرجہ ذیل مضمون کا مطالعہ کیجئے: کیا مختلف فرقوں کے لوگوں کوآپس میں محبت بھری ملاقاتیں اور شادی کرنی چاہیے؟اگر ایسی کوئی شادی پہلے سے ہو چکی ہے تو جوڑے کو رُوحانی ہم آہنگی کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ دو ایسے لوگ جو دو مختلف طرح کے عقائد کو ماننے والے ہوتے ہیں اُن کے لیے اکثر ایسی باتوں پر سمجھوتہ اور مصالحت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن خُدا کے لیے کچھ بھی کرنا نا ممکن نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں دونوں میں سے ایک ایسا محسوس کر سکتا ہے کہ اُسے مختلف گرجا گھروں میں جا کر عبادت میں شرکت پر مجبور کیا جا رہا ہے، خاص طور پر اُس صورت میں جب ایک یا دونوں شریکِ حیات اپنے ساتھی کے عقائد کو غیر بائبلی سمجھتے ہوں۔ ایسی صورت میں دونوں میاں بیوی کو خُدا سے یہ دُعا کرنی چاہیے کہ خُدا اُن پر سچائی کو ظاہر کرے اور اُن کے درمیان رُوحانی ہم آہنگی پیداہو۔

حقیقی اتحاد حاصل کرنے سے پہلے کسی بھی خاندان کے اندر اِن عقائدی تنازعات کو حل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ایک ایسا جوڑا جو علیحدہ علیحدہ گرجا گھروں میں جاتا ہے اُسے چاہیے کہ وہ خُدا کے کلام کی روشنی میں سکھائی گئی ہر ایک سچی بات کو تھامے رکھےاور ہر اُس بات کو مسترد کرنے کے لیے تیار ہو جو غیر بائبلی ہے۔ اُن کے لیے ہدایت ہے کہ " سب باتوں کو آزماؤ ۔ جو اچھّی ہو اُسے پکڑے رہو" (1 تھسلنیکیوں 5باب21 آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا مسیحی میاں بیوی کا الگ الگ گرجا گھروں میں جانا غلط ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries