settings icon
share icon
سوال

بائبل اپنی ذات کی قدر کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟

جواب


بائبل میں دراصل ایسے حوالہ جات ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ خُدا کی نظر میں ہماری اہمیت اور ہماری قدر کیا ہے۔ پیدایش 1باب26-27 آیات بیان کرتی ہیں کہ ہم خُدا کی صورت پر اُس کی شبیہ کی مانند بنائے گئے ہیں۔ 139 زبور 13-16 آیات بیان کرتی ہیں کہ ہم عجیب و غریب طور پر بنائے گئے ہیں، ہمار ےایام اُس کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں۔ اور یہ آیت بیان کرتی ہے کہ اِس سے پہلے کہ ہم پیدا ہوئے، خُدا کو ہماری ذات کا علم تھا اور ہماری زندگیوں کے لیے اُس کے پاس منصوبہ بندی تھی۔ افسیوں 1باب4 آیت بیان کرتی ہے کہ خُدا نے اپنے فرزندوں کو بنایِ عالم سے پیشتر چن لیا تھا، اور افسیوں 1باب13-14 آیات میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہم خُدا کی ملکیت ہیں اور یہ کہ آسمان پر ہماری اُس کے ساتھ ایک خاص میراث ہے۔

لیکن اوپر بیان کردہ ہر ایک آیت کے اندر الفاظ پرغور کیجئے: "بنائے گئے" عجیب و غریب طور پر بنائے گئے"، "لکھے تھے"، "خُدا نے اپنے فرزندوں کو چُنا"، "ہم خُدا کی ملکیت ہیں"، اور اُس کے ساتھ ہماری "میراث" ہے۔ اِن سب فقروں کے اندر ایک چیز مشترک ہے: یہ ہمارے ساتھ یا خُدا کی طرف سے ہمارے لیے کئے گئے کام ہیں۔ یہ وہ کام نہیں ہیں جو ہم نے اپنے لیے کئے ہیں ، نہ ہی ہم نے اُن کے عوض کچھ دیا ہے اور نہ ہی ہم اُن کے مستحق ہیں ۔ درحقیقت ہم محض "مسیح میں آسمانی مقاموں پر ہر طرح کی رُوحانی برکت" کے وصول کنندگان ہیں (افسیوں 1باب3 آیت)۔ اِس لیے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ہماری جو قدر اور اہمیت ہے وہ ہماری اپنی ذات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ وہ قدر ہے جو خُدا نے ہمیں عطا کی ہےہم اُس کے لیے ناقابلِ بیان حد تک قابلِ قدر ہیں کیونکہ اُس نے ہمیں قابلِ قدر بنانے کے لیے ایک خاص قیمت ادا کی ہے یعنی اپنے بیٹے خُداوند یسوع مسیح کی صلیبی موت۔

بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ" جب ہم گناہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مؤا(رومیوں 5باب8 آیت)۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم "اپنےقصوروں اور گناہوں کے سبب سے مُردہ تھے" (افسیوں 2باب1 آیت)مُردہ چیزوں کی کیا قدر ہوتی ہے؟ کوئی نہیں۔ خُدا نے اپنی راستبازی کو ہمارے ساتھ منسوب کیا (2 کرنتھیوں 5باب21 آیت)، اِ س لیے نہیں کہ ہم اُس کے مستحق تھے، بلکہ اِس لیے کہ ہم غیر مستحق، ناقابلِ محبت، اور کسی بھی طرح سے اپنے آپ کو قابل بنانے سے قاصر تھے۔ لیکن –اور یہاں پر معجزہ ہوتا ہے – ہماری بُری حالت کے باوجود اُس نے ہم سے محبت رکھی (یوحنا 3باب16 آیت) اور چونکہ اُس نے ایسا کیا اِس لیے ابھی ہماری قدر و قیمت لا محدود ہے۔

یوحنا 1باب 12 آیت ہمیں بتاتی ہے کہ جن لوگوں نے مسیح کو قبول کیا اور اُس کے نام پر ایمان لائے اُنہیں اُس نے خُدا کے فرزند ہونے کا حق بخشا۔ 1 یوحنا 1باب9 آیت بیان کرتی ہے کہ "اگر اپنے گُناہوں کا اِقرار کریں تو وہ ہمارے گناہوں کے مُعاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچّا اور عادِل ہے "اگر ہم اِس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ خُدا ہم سے کتنا پیار کرتا ہے اور اُس نے ہمیں چھڑانے کے لیے کتنی قیمت ادا کی ہے تو ہم اپنے آپ کو اُس طرح دیکھیں گے جیسے خُدا ہمیں دیکھتا ہے، اور اِس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ہم سب سے بلند و بالا خُدا کے فرزندوں کے طور پر واقعی ہی کس قدر زیادہ اہمیت اور قدر کے حامل ہیں۔

ہماری ذات کی قدر کا انحصار اِس بات پر ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ ہمیں ہمارے بارے میں کیا بتاتے ہیں۔ ہماری ذات کی قدر پر ایک حقیقی اختیار خُداوند یسوع مسیح کی ذا ت کا ہے، اور چونکہ اُس نے صلیب پر جان دینے کے وسیلے سے اپنا آپ ہمارے لیے دے دیا لہذا یہ چیز ہمیں بتاتی ہے کہ ہم واقعی ہی کتنے قیمتی اور قابلِ قدر ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل اپنی ذات کی قدر کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries