settings icon
share icon
سوال

بائبل خود پسندی/اپنے آپ سے محبت رکھنے کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟

جواب


بائبل میں بیان کردہ محبت اُس محبت سے بالکل مختلف ہے جیسی دنیا پسند کرتی ہے۔ بائبلی محبت بے لوث اور غیر مشروط ہے جبکہ دنیا کی محبت خود غرضی کی خصوصیت رکھتی ہے۔ مندرجہ ذیل حوالہ جات میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کے بغیر محبت کا کوئی وجود نہیں ہے اور یہ کہ حقیقی محبت کا تجربہ صرف وہی انسان کرسکتا ہے جس نے خودشخصی طور پر خدا کی محبت کا تجربہ کیا ہو۔

رومیوں 13باب 9-10آیات " کیونکہ یہ باتیں کہ زِنا نہ کر۔ خُون نہ کر۔ چوری نہ کر۔ لالچ نہ کر اور اِن کے سِوا اَور جو کوئی حکم ہو اُن سب کاخلاصہ اِس بات میں پایا جاتا ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنی مانِند محبّت رکھ۔محبّت اپنے پڑوسی سے بدی نہیں کرتی۔ اِس واسطے محبّت شرِیعت کی تعمیل ہے۔"

یوحنا 13باب 34-35آیات" مَیں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہُوں کہ ایک دُوسرے سے محبّت رکھّو کہ جیسے مَیں نے تم سے محبّت رکھّی تم بھی ایک دُوسرے سے مُحبّت رکھّو۔ اگر آپس میں مُحبّت رکھّو گے تو اِس سے سب جانیں گے کہ تُم میرے شاگرد ہو۔"

1یوحنا 4باب 16-19آیات" جو مُحبّت خُدا کو ہم سے ہے اُس کو ہم جان گئے اور ہمیں اُس کا یقین ہے۔ خُدا محبّت ہے اور جو محبّت میں قائم رہتا ہے وہ خُدا میں قائم رہتا ہے اور خُدا اُس میں قائم رہتا ہے۔ اِسی سبب سے محبّت ہم میں کامِل ہو گئی ہے تاکہ ہمیں عدالت کے دِن دِلیری ہو کیونکہ جیسا وہ ہے وَیسے ہی دُنیا میں ہم بھی ہیں۔ محبّت میں خَوف نہیں ہوتا بلکہ کامِل محبّت خَوف کو دُور کر دیتی ہے کیونکہ خَوف سے عذاب ہوتا ہے اور کوئی خَوف کرنے والا محبّت میں کامِل نہیں ہُوا۔ ہم اِس لئے محبّت رکھتے ہیں کہ پہلے اُس نے ہم سے مُحبّت رکھّی ۔"

یہ بیان کہ " اپنے پڑوسی سے اپنی مانِند محبّت رکھ " اپنے آپ سے محبت کرنے کا حکم نہیں ہے۔ اپنے آپ سے محبت کرنا فطری اور عام بات ہے - یہ ہماری بنیادی حالت ہے۔ ہماری دنیا میں خود پسندی کی کمی نہیں ہے۔ " اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبّت"رکھنے کا یہ حکم بنیادی طور پر دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرنے کے لیے کہہ رہا ہے جیسے ہم اپنے آپ سے کرتے ہیں۔ کلام ِ مقدس ہمیں خود سے محبت کرنے کا کبھی حکم نہیں دیتا؛وہ فرض کرتا ہے کہ ہم پہلے ہی ایسا کرتے ہیں۔ درحقیقت، اپنی پُرانی انسانیت میں لوگ اپنے آپ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں- یہی ہمارا مسئلہ ہے۔

نیک سامری کے بارے میں خُداوند یسوع کی تمثیل میں صرف سامری ہی وہ واحد شخص تھا جس نے خود کو ضرورت مند آدمی کا سچا پڑوسی ثابت کیا(لوقا 10 باب 30-37آیات)۔ وہاں دو اوراشخاص، ایک کاہن اور ایک لاوی بھی تھے جنہوں نے ضرورت مند آدمی کی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ زخمی آدمی سے محبت کا اظہار کرنے میں اُن کی ناکامی اُن کی خود پسندی میں کمی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ اپنے آپ سے بہت زیادہ محبت کرنے اور اس لیے اپنے مفادات کو اوّلین ترجیح دینے کا نتیجہ تھی ۔ سامری نے سچی محبت کا اظہار کیا تھا - اُس نے اپنی پروا کئے بغیر اپنے وقت، وسائل اور پیسے کو دے دیا تھا۔ اس کی توجہ اندر کی طرف نہیں بلکہ باہر کی طرف تھی ۔ خُداوند یسوع نے اس کہانی کو اس بات کی مثال کے طور پر پیش کیا تھا کہ اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھنے کا کیا مطلب ہے (27آیت )۔

ہمیں خود سے نظریں ہٹا کر دوسروں کا خیال رکھنا ہے ۔ مسیحی ایمان کی پختگی اس بات کا تقاضا کرتی ہے"تفرقے اور بے جا فخر کے باعث کُچھ نہ کرو بلکہ فروتنی سے ایک دُوسرے کو اپنے سے بہتر سمجھے۔ ہر ایک اپنے ہی اَحوال پر نہیں بلکہ ہر ایک دُوسروں کے اَحوال پر بھی نظر رکھّے"(فلپیوں 2باب 3-4آیات )۔ اس حوالے کے مطابق دوسروں سے محبت رکھنا فروتنی، دوسروں کو اہمیت دینے اور دوسروں کے مفادات کو ترجیح دینے کی شعوری کوشش کا تقاضا کرتا ہے۔ اس سے کم تر کوئی بھی چیز خودغرضانہ اور بے فائدہ ہے - اور مسیح کے معیار پر پورا نہیں اُترتی ۔

اِن میں سے کسی بھی بات سے یہ مراد نہیں لی جانی چاہیے کہ ہمیں خود کو "بے کار" سمجھنا چاہیے ۔ بائبل سکھاتی ہے کہ ہم خُدا کی صورت و شبیہ پر بنائے گئے ہیں اور یہ واحد حقیقت ہی ہمیں بڑی اہمیت بخشتی ہے (دیکھیں لوقا 12باب 7آیت )۔ ایک متوازن بائبلی نقطہ نظر یہ ہے کہ ہم خُدا کی بے جوڑ مخلوق ہیں، خدا نے ہمارے گناہ کے باوجود ہم سے محبت رکھی ہے اور ہم نے مسیح کے وسیلہ سے نجات پائی ہے۔ اُس کی محبت میں ہم دوسروں سے محبت رکھ سکتے ہیں۔

ہم مسیح میں اپنے لیے خُدا کی دائمی محبت کی بنیاد پر دوسروں سے محبت رکھتے ہیں۔ اُس محبت کے ردّعمل میں ہم اِسے اُن تمام لوگوں -اپنے "پڑوسیوں"کے ساتھ بانٹتے ہیں جو ہمارے رابطے میں آتے ہیں ۔ کوئی شخص جو فکر مند ہے کہ وہ خود سے مناسب محبت نہیں رکھتا ہے غلط سوچ کا شکار ہے۔ بائبل کے مطابق خدا سے محبت اور اپنے پڑوسی سے محبت اُس کی اصل فکر ہونی چاہیے۔ "خودی " ایک ایسی چیز ہے جسے ہم ختم کرناچاہتے ہیں تاکہ ہم عملی طور پر محبت رکھ سکیں جیسا کہ ہمیں رکھنی چاہیے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل خود پسندی/اپنے آپ سے محبت رکھنے کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries