"کیا خُدا کو کبھی کسی نے دیکھا ہے؟



سوال: "کیا خُدا کو کبھی کسی نے دیکھا ہے؟

جواب:
بائبل بیان کرتی ہے کہ خُداوند یسوع مسیح کے سوا خُدا کو کبھی کسی نے نہیں دیکھا (یوحنا۱۸:۱)۔ خروج۲۰:۳۳ میں خُدا اعلان کرتا ہے، "تُو میرا چہرہ نہیں دیکھ سکتا، کیونکہ انسان مُجھے دیکھ کر زندہ نہیں رہے گا"۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ حوالہ جات دوسرے حوالہ جات کے متضاد ہیں جو بہت سے لوگوں کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے خُدا کو دیکھا۔ مثال کے طور پر، خروج ۱۱:۳۳ بیان کرتی ہے کہ موسٰی خُدا سے " رُو برو " باتیں کرتا تھا۔ اگر کوئی خُدا کو دیکھ کر زندہ نہیں رہ سکتا تو موسٰی خُدا سے "رُوبرو" بات کیسے کر سکتا ہے ؟ اِس موقع پر، "رُوبرُو" اصطلاح "فِگر آف سپیچ" یعنی صعنتِ بدیعی ہے جو اِس بات کی علامت ہے کہ موسٰی خُدا کے ساتھ گہری رفاقت میں تھا۔ خُدا اور موسٰی ایک دوسرے کے ساتھ اِس طرح بات کر رہے تھے جیسے دو انسان قُربت میں گفتگو کرتے ہیں۔

پیدائش۳۰:۳۲ میں یعقوب نے خُدا کو فرشتہ کے رُوپ میں دیکھا، اُس نے حقیقی طور پر خُدا کو نہیں دیکھا تھا۔ سمسون کے والدین خوفزدہ ہو گئے جب اُنہیں احساس ہوا کہ اُنہوں نے خُدا کو دیکھ لیا ہے (قضاۃ۲۲:۱۳)، لیکن اُنہوں نے خُدا کوصرف فرشتہ کے رُوپ میں دیکھا تھا، یسوع انسانی جسم میں خُدا تھا (یوحنا۱:۱، ۱۴) لہذہ جب لوگ اُسے دیکھتے تو وہ خُدا کو دیکھ رہے تھے۔ لہذہ، جی ہاں، خُدا کو دیکھنا ممکن ہے اور بہت سے لوگوں نے خُدا کو دیکھا۔ دوسری جانب، خُدا کو کبھی کسی نے اُس کے پُورے جلال میں نہیں دیکھا۔ ہماری گناہ آلودہ انسانی حالت میں، اگر خُدا اپنے آپ کو اپنے جلال میں مکمل طور پر ہم پر ظاہر کر دے تو ہم جل کر راکھ ہو جائیں گے اور برباد ہو جائیں گے۔ اِس لیے خُدا اپنے آپ کو اُسی رُوپ میں ظاہر کرتا ہے جس میں ہم اُسے "دیکھ" سکتے ہیں۔ تاہم یہ دیکھنا بھی اُس کو اُس کے مکمل جلال اور پاکیزگی میں دیکھنے سے مختلف ہو گا۔ لوگوں نے خُدا کی صورت ، اُس کا ظہور رویا میں دیکھا، لیکن اُس کے کامل جلال میں کبھی کسی نے اُسے نہیں دیکھا (خروج۲۰:۳۳)۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



"کیا خُدا کو کبھی کسی نے دیکھا ہے؟