settings icon
share icon
سوال

پہلے خُدا کی بادشاہی ڈھونڈنے سے کیا مُراد ہے ؟

جواب


خُداوند یسوع نے اپنے پہاڑی وعظ میں کہا کہ تم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راستبازی کی تلاش کرو (متی 6باب33 آیت)۔ اِس آیت کا مفہوم اُتنا ہی واضح اور براہِ راست ہے جتنا کہ یہاں پر لگ رہا ہے۔ ہمیں دُنیا کی چیزوں پر خُدا کی چیزوں کی تلاش کو ترجیح دینی چاہیے۔ بنیادی طور پر اِس کا مطلب ہے کہ ہمیں نجات کی تلاش کرنی ہے جو کہ خُدا کی بادشاہت میں موجود ہے کیونکہ یہ دُنیا کی تمام دولت سے زیاد ہ اہمیت کی حامل ہے۔ تو پھر کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اُن معقول اور روزمرہ کے فرائض کو نظر انداز کر دیں جو ہماری زندگی کو برقرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں؟ یقیناًنہیں ۔ لیکن اُن کے تعلق سے مسیحیوں کے رویے میں فرق ہونا چاہیے۔ اگر ہم ترجیحاً اُس کی نجات کی تلاش کرنے ، اُس کی فرمانبرداری میں رہنے اور بادشاہی کی خوشخبری کودوسروں کے ساتھ بانٹنے کے وسیلہ سے خدا کے کا م کی پرواہ کررہے ہیں –تو پھر وہ ہمارے کام کی پر واہ کرے گا جیسا کہ اُس نے وعدہ کیا ہے - اور اگر یہ انتظام ہے توفکر کیسی؟

لیکن ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ آیا ہم واقعی پہلے خدا کی بادشاہی کی تلاش کر رہے ہیں؟ یہاں کچھ ایسے سوالات پیش کئے جاتے ہیں جو ہم اپنے آپ سے پوچھ سکتے ہیں۔ "مَیں بنیادی طور پر اپنی توانائیاں کہاں خرچ کرتا ہوں؟ کیا میرا سارا وقت اور پیسہ اُن چیزوں اور کاموں پر صرف ہوتا ہے جو یقینی طور پر ختم ہو جائیں گےیا پھر مَیں اُنہیں خدا کی خدمات میں خرچ کرتا ہوں - جن کے نتائج ابد تک رہیں گے ؟" وہ ایماندار جو واقعی خدا کو اوّلین ترجیح دینا سیکھ چکے ہیں وہ اُس مُقدس تسلی میں اطمینان پا سکتے ہیں: "یہ سب چیزیں بھی تم کو مِل جائیں گی۔"

خُدا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی دولت کے موافق ایمانداروں کی ہر ضرورت پوری کرے گا (فلپیوں 4باب 19آیت) لیکن ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے اِس بارے میں اُس کا خیال اکثر ہمارے خیال سے مختلف ہوتا ہے، اور اُس کا وقت ہماری توقعات پر کبھی کبھار پورا اترتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم اپنی ضرورت کو دولت یا ترقی کے طور پر دیکھ سکتے ہیں لیکن شاید خدا جانتا ہے کہ ہمیں اصل میں غربت، نقصان یا تنہائی کا وقت درکار ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے، ہم اچھی صحبت میں ہوتے ہیں۔ خُدا ایوب اور ایلیاہ دونوں سے پیار کرتا تھا، لیکن اُس نے( بالکل اپنی آنکھوں کے سامنے ) شیطان کو ایوب کو بُر ی طرح اذیت دینےکی اجازت دی اور اُس نے اُس بُری عورت ایزبل کو اپنے ہی نبی ایلیاہ کی حوصلہ شکنی کرنے دی (ایوب 1-2ابواب؛ 1سلاطین 18-19ابواب )۔ دونوں معاملات میں خدا نے اپنے بندوں کو قیام اور بحالی بخشی ۔

بادشاہی کے یہ "منفی" پہلو اُس بدعت کے برخلاف ہیں جو پوری دنیا میں نام نہاد "خوشحالی " کی انجیل کے طور پر پھیل رہی ہے۔ جھوٹے استادوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس پیغام کے تحت پیروکاروں کو جمع کر رہی ہےکہ : "خدا چاہتا ہے کہ آپ امیر ہوں!" لیکن یہ فلسفہ بائبلی صلاح نہیں ہے - اور یہ یقینی طور پر متی 6باب 33آیت کی بھی صلاح نہیں ہے جو کہ کسی طور پر بھی دولت حاصل کرنے کا کوئی فارمولا نہیں ہے۔ یہ اس بات کی وضاحت ہے کہ خدا کیسے کام کرتا ہے۔خُداوند یسوع نے سکھایا کہ ہماری توجہ اِس دنیا - اِس کی حیثیت اور اس کی جھوٹی ترغیبوں سے دور اور خدا کی بادشاہی کی چیزوں پر مرکوز ہونی چاہیے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

پہلے خُدا کی بادشاہی ڈھونڈنے سے کیا مُراد ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries