settings icon
share icon
سوال

ایمان کا بیج کیا ہے؟

جواب


"خوشحالی کی جھوٹی انجیل " اور ورڈ آف فیتھ موومنٹ کو فروغ دینے والے اکثر "بیج بونے "، " ایمان سے ہدیے کا بیج بونے" اور "سَو گنا پانے " کے بارے میں بات کرنا پسند کرتے ہیں۔ ہدیے کی صورت میں بیج بونا اس ایمان کے ساتھ دی گئی رقم ہے کہ خُدا دینے والے کو اُسے کئی گنا بڑھا کر واپس کر دے گا۔ آپ جتنی زیادہ پیسہ دیتے ہیں - اور آپ کا جتنا زیادہ ایمان ہے - آپ کو بدلے میں اتنا ہی زیادہ پیسہ ملتا ہے۔ خوشحالی کی انجیل کے مبلغین اکثر بدلے میں ایسے اجر کا وعدہ کرتے ہوئے اپنی خدمات کے لیے تحائف طلب کرتے ہیں جیسے کہ "مجھے 10 ڈالربھیجیں اور خدا پر بھروسہ کریں کہ وہ آپ کو 1000 ڈالرواپس دے گا" ۔ وہ پیسے کے لیے اپنی گزارشات کو ایسے بیانات کے ساتھ رُوحانی چمک دمک بخشتے ہیں جیسے کہ "خدا آپ کو معجزے سے نوازنا چاہتا ہے" اور "یسوع آپ کے قرض سے بڑا ہے" ۔ وہ مرقس 4باب 8آیت جیسی دیگر آیات کا غلط استعمال کریں گے"کُچھ اچّھی زمین پر گِرا اور وہ اُگا اور بڑھ کر پھلا اور کوئی تِیس گُنا کوئی ساٹھ گُنا کوئی سَو گُنا پھل لایا"۔ہمارے لیے اس بات کو یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس آیت میں "بیج" پیسہ نہیں خدا کا کلام ہے (مرقس 4باب 14آیت) ۔

مرحوم اورل رابرٹس ایمان سے ہدیے کا بیج بونے کے تصور کو پھیلانے پر بہت زیادہ اثر انداز ہواتھا اور اُس نے لوگوں کو سکھایا کہ جب وہ اپنی "ضرورت" سے "بیج" بوتے ہیں تو وہ معجزہ ہونے کی توقع رکھیں ۔ اُس نے لکھاکہ "اپنی صلاحیت کو جاننے کے لیے، زندگی کے مسائل پر قابو پانے کے لیے، اپنی زندگی کو پھلدار بنانے ، بڑھانے اور فراوانی (یعنی صحت، خوشحالی، خاندان میں یا شخصی طور پر رُوحانی تجدید ) پانے کے لیے آپ کو بونے اور کاٹنے کے الٰہی اصول پر عمل کرنے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ ۔ اپنی ضرورت کی زمین میں اُس کے وعدے کا بیج بوئیں" (“Principles of the Seed”سے اقتباس)۔ ابنڈنٹ لائف/ Abundant Life کے جولائی 1980 کے ایڈیشن میں رابرٹس نے لکھا " پیسے سے متعلقہ اپنی ضروریات کو پیسے کے بیجوں سے حل کریں" (صفحہ 4)۔

اورل کا بیٹا رچرڈ رابرٹس اپنی ویب سائٹ پر کہتا ہے کہ "خدا کو کام کرنے کے لیے کچھ دیں۔ اس سوچ سے قطع ِ نظر کہ آپ کے پاس کتنا کم ہے اِسے خوشی اور ایمان کے ساتھ بوئیں، اپنے دل میں یہ جانتے ہوئے کہ آپ بیج بو رہے ہیں تاکہ آپ معجزات کی فضل کاٹ سکیں۔ پھر ہر قسم کے معجزات کی توقع کرنا شروع کر دیں!" مئی 2016 میں رابرٹس نے اپنے خبر نامے میں اس بیان کے ساتھ مالی تحائف کی گزارش کی: " 100 ڈالرکا ایک خصوصی بیج بوئیں۔ . . . اگر آپ اپنی ضرورت کے تحت اس بیج کو بوئیں گے اور میرے ساتھ ایک مقدس معاہدہ کریں گے تو آپ اور مَیں ایک ساتھ مل کر خدا سے ایک زبردست معجزے کی توقع کریں گے" ۔

اورل رابرٹس کے مطابق بونے اور کاٹنے کے اُصول سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ ہے:( 1) خدا کو اپنےسرچشمے کے طور پر دیکھیں،( 2) پہلے دیں تاکہ آپ کو دیا جائےاور( 3) کسی معجزے کی توقع کریں۔ دوسرے نکتے کی تقویت کے لیےایمان سے بیج بونے کے عقیدے کے استاد لوقا 6باب 38آیت کی غلط تشریح کو استعمال کرتے ہیں "دِیا کرو۔ تمہیں بھی دِیا جائے گا۔ اچھّا پَیمانہ داب داب کر اور ہِلا ہِلا کر اور لبریز کر کے تمہارے پلّے میں ڈالیں گے کیونکہ جس پَیمانہ سے تم ناپتے ہو اُسی سے تمہارے لئے ناپا جائے گا"۔ اس آیت کا غلط استعمال مادی فائدے کے لیے اِس کے اطلاق سے شروع ہوتا ہے - یسوع لوقا 6باب 27آیت میں معافی کے بارے میں بات کر رہا تھا نہ کہ پیسے کے بارے میں۔ اس کے علاوہ "دو" اور "دو تاکہ" میں فرق ہے۔ا یمان سے بیج بونے کے عقیدے کے استاددینے کے لیے خود غرضانہ مقصد کی وکالت کرتے ہیں - دیں تاکہ آپ حاصل کر سکیں - اور وہ اتنا ہی بیان کرتے ہیں۔ بائبل سکھاتی ہے کہ ہم خود کو امیر کرنے کے لیے نہیں بلکہ ہم دوسروں کو فائدہ پہنچانے اور خُداوند کی تمجید کرنے کے لیے دیتے ہیں۔

ایمان سے ہدیے کا بیج بونے کے عقیدے کے استاد متی 17باب 20آیت کو بھی پسند کرتے ہیں کہ "مَیں تم سے سچ کہتا ہُوں کہ اگر تم میں رائی کے دانے کے برابر بھی اِیمان ہو گا تو اِس پہاڑ سے کہہ سکو گے کہ یہاں سے سِرک کر وہاں چلا جا اور وہ چلا جائے گا اور کوئی بات تمہارے لئے ناممکِن نہ ہو گی"۔ بلاشبہ، یہ آیت پیسہ حاصل کرنے یا ایمان سے ہدیے کا بیج بونے کے بارے میں کچھ نہیں کہتی ہے۔

مرقس 10باب 29-30آیات ایک اور حوالہ ہے جو ایمان سے ہدیے کا بیج بونے کی تعلیم دینے والے مبلغین کی طرف سے غلط طور پر استعمال کیا جاتا ہے " مَیں تم سے سچ کہتا ہُوں کہ اَیسا کوئی نہیں جس نے گھر یا بھائیوں یا بہنوں یا ماں یا باپ یا بچّوں یا کھیتوں کو میری خاطِر اور انجیل کی خاطِر چھوڑ دِیا ہو۔ اور اب اِس زمانہ میں سَو گُنا نہ پائے۔ گھر اور بھائی اور بہنیں اور مائیں اور بچّے اور کھیت مگر ظُلم کے ساتھ" ۔ ایمان سے ہدیے کابیج بونے کی تعلیم دینے والے استاد "سو گنا " کے وعدے پر قائم رہتے ہیں لیکن وہ اس کا اطلاق صرف "گھروں" اور "کھیتوں" یعنی مادی دولت پر کرتے ہیں۔ وہ باقی کی فہرست کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کیا ہم یہ فرض کر سکتے ہیں کہ یسوع نے اپنے پیروکاروں سے سو حقیقی ماؤں کا وعدہ کیا تھا یا یہ کہ اب ہمیں سو گنا سے زیادہ خونی رشتہ داروں کی توقع کرنی چاہیے ؟ یا یسوع ایک ترقی پذیر رُوحانی خاندان کی بات کر رہا تھا؟ چونکہ مائیں اور باپ اور بھائی بہن رُوحانی ہیں تو شاید گھر اور کھیت بھی رُوحانی ہیں۔

ایمان سے ہدیے کا بیج بونے کے عقیدے کو فروغ دینے والے کتاب ِ مقدس میں سے کئی اہم تفصیلات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر 2کرنتھیوں 9باب 10-12آیات پر غور کریں" پس جو بونے والے کے لئے بیج اور کھانے کے لئے روٹی بہم پہنچاتا ہے وُہی تمہارے لئے بیج بہم پہنچائے گا اور اُس میں ترقّی دے گا اور تمہاری راست بازی کے پھلوں کو بڑھائے گا۔ اور تم ہر چیز کو اِفراط سے پا کر سب طرح کی سخاوت کرو گے جو ہمارے وسیلہ سے خُدا کی شُکرگُذاری کا باعث ہوتی ہے۔ کیونکہ اِس خِدمت کے انجام دینے سے نہ صِرف مُقدّسوں کی اِحتیاجیں رفع ہوتی ہیں بلکہ بہت لوگوں کی طرف سے خُدا کی بڑی شُکرگُذاری ہوتی ہے "۔ یہ حوالہ بیان کرتا ہے کہ بونے کے لیے بیج خدا فراہم کرتا ہے۔ یعنی وہ فراخدلی سے دینے کے لیے ہمیں وسائل فراہم کرتا ہے۔ اور جب ہم دیتے ہیں توخدا مزید وسائل فراہم کرے گا تاکہ دینے کا عمل جاری رہے۔ تاہم غور کریں اجر مالی فائدہ نہیں بلکہ آپ کی " راست بازی " کے پھل ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ ہمارے بینک اکاؤنٹس نہیں بلکہ خدا کی شُکر گزاری ہے جو ہماری زندگیوں میں بڑھتی جاتی ہے ۔ اس حوالے میں بویا گیا بیج معجزات یا ذاتی دولت کا باعث نہیں بنتا۔

ایمان سے ہدیے کا بیج بونے کے عقیدے کو فروغ دینے والے اس حقیقت کو بھی نظر انداز کرتے ہیں کہ رسول امیر لوگ نہیں تھے۔ رسولوں نے یقیناً دوسروں کو دیا تھا : " مَیں تُمہاری رُوحوں کے واسطے بُہت خُوشی سے خرچ کرُوں گا بلکہ خُود بھی خرچ ہو جاؤُں گا "(2 کرنتھیوں 12باب 15آیت)۔ ایمان سے ہدیے کا بیج بونے کے عقیدے کی بناء پر پولس رسول کو ایک امیر آدمی ہونا چاہیے تھا۔ مگر "ہم اِس وقت تک بُھوکے پِیاسے ننگے ہیں اور مُکّے کھاتے اور آوارہ پِھرتے ہیں " (1 کرنتھیوں 4باب 10-11آیات )۔ رسول مادی لحاظ سے غریب تھے تاہم وہ رُوحانی طور پر خُداوند کی طرف سے بابرکت تھے۔

خُدا خوشی سے دینے والے کو پسند کرتا ہے (2 کرنتھیوں 9باب 7آیت ) لیکن ہمیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ اُس کی مہربانی مالی اجر میں ظاہر ہوگی۔ اور نہ ہی ہمیں پرانے عہد نامے میں بنی اسرائیل کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو اپنے لیے مخصوص کرنا چاہیے۔ دینے کے پیچھے ہمارا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بدلے میں ہمیں پیسہ حاصل ہو۔ بلکہ ہمارا مقصد قناعت کے ساتھ دینداری ہونا چاہیے (1 تیمتھیس 6باب 6-10آیات دیکھیں)۔ ہمیں دُعا کرنی چاہیے کہ " جو میرے پاس ہے خداوند مجھے اُس میں مطمئن رہنا سیکھنے میں مدد کرے گوکہ مَیں بھوکا یا ضرورت مند ہو " (فلپیوں4باب 11-13آیات دیکھیں)۔

ایمان سے ہدیے کا بیج بونے کے عقیدے کی تعلیم محض فوراً دولت مند ہونے کی سکیم کے برابر ہے جو خدا کے اُن لوگوں کو نشانہ بناتی ہے جو مایوس اور تکلیف دہ حالت میں ہیں ۔ پطرس رسول نے کلیسیا کو اس طرح کی جعل سازی کے بارے میں خبردار کیا ہے : "وہ لالچ سے باتیں بنا کر تم کو اپنے نفع کا سبب ٹھہرائیں گے "(2پطرس 2باب 3آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ایمان کا بیج کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries