settings icon
share icon
سوال

کیا مسیحیوں کو دُنیاوی موسیقی سننی چاہیے؟

جواب


بہت سے مسیحی اِس سوال کی وجہ سے کشمکش کا شکار رہتے ہیں۔ بہت سے دُنیاوی موسیقار بہت زیادہ باصلاحیت ہوتے ہیں۔ دُنیاوی موسیقی بہت زیادہ باعثِ تفریح ہو سکتی ہے۔ بہت سے دُنیاوی گیت ہیں جو پُرکشش دُھنیں ، متفکر بصیرت، اور مُثبت پیغامات رکھتے ہیں۔ اِس بات کے تعیّن میں اور اِس بات کو سمجھنے کے لیے کہ آیا دُنیاوی موسیقی کو سُننا چاہیے یا نہیں تین بنیادی عوامل قابلِ غور ہیں: 1) موسیقی کا مقصد، 2) موسیقی کا سٹائل، اور 3)اور گیت کا مواد۔

‌أ. موسیقی کا مقصد: کیا موسیقی کو صرف خُدا کی پرستش کے لئے ترتیب دیا اور بنایا جاتا ہے، کیا خُدا بھی اِرادہ رکھتا ہے کہ موسیقی سکون بخش/باعثِ تفریح ہو؟ بائبل کا مشہور ترین موسیقار داؤد بادشاہ موسیقی کو بنیادی طور پر خُدا کی پرستش کے مقصد کےلئے استعمال کرتا تھا (دیکھیں 4زبور1 آیت؛ 6 زبور 1آیت ؛ 54زبور 1 آیت ؛ 55 زبور 1 آیت؛ 61 زبور 1آیت؛ 67 زبور 1 آیت؛ 76 زبور 1 آیت)۔ تاہم جب ساؤل بادشاہ کو بدرُوحیں تکلیف دیتی تھی ، تو وہ داؤد کو بُلایا کرتا تھا تاکہ وہ اُسے پُرسکون کرنے کے لئے بربط بجائے (1سموئیل16 باب 14-23 آیات)۔ اسرائیلی بھی خطرے سے خبردار کرنے(نحمیاہ 4باب20 آیت)، اور اپنے دشمنوں کو پریشان کرنے (قضاۃ7 باب 16-22آیات) کے لئے موسیقی کے آلات استعمال کیا کرتے تھے۔ نئے عہد نامے میں پولُس رسول مسیحیوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ موسیقی کے ساتھ ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں:"اور آپس میں مزامیر اور گیت اور رُوحانی غزلیں گایا کرو اور دِل سے خُداوند کے لئے گاتے بجاتے رہا کرو"(افسیوں 5باب 19 آیت)۔ پس اگرچہ موسیقی کابنیادی مقصد خُدا کی پرستش کے لئے استعمال ہونا ہے، لیکن بائبل یقینی طور پر موسیقی کے دیگر استعمال کی بھی اجازت دیتی ہے۔

‌ب. موسیقی کا سٹائل: افسوس کہ موسیقی کے سٹائل کا مسئلہ مسیحیوں میں بہت زیادہ متنازع ہے۔ ایسے مسیحی بھی ہیں جو بغیر لچک کے مطالبہ کرتے ہیں کہ موسیقی کا کوئی بھی آلہ استعمال نہ کیا جائے۔ ایسے مسیحی بھی ہیں جو صرف "پُرانے مزامیر" ہی گانا چاہتے ہیں۔ ایسے مسیحی بھی ہیں جو زیادہ مدھم تال اور معاصر موسیقی چاہتے ہیں۔ ایسے مسیحی بھی ہیں جو "راک کانسرٹ" جیسے ماحول میں بہترین پرستش کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ذاتی ترجیحات اور ثقافتی تناظر کے طو ر پر اِن اختلافات کو تسلیم کرنے کی بجائے، کچھ مسیحی موسیقی کے اپنے ترجیحاتی سٹائل کو واحد "بائبلی" موسیقی قرار دیتے ہیں اور موسیقی کی دوسری تمام اقسام کو غیر مفید،بے دین، اور یہاں تک کہ شیطانی قرار دیتے ہیں۔

بائبل کہیں بھی موسیقی کے کسی مخصوص سٹائل کی مذمت نہیں کرتی۔ بائبل کہیں بھی موسیقی کے کچھ خاص آلات کو غلط نہیں کہتی۔ بائبل تار دار سازوں اور ہوا سے چلنے والے باجوں کی متعدد اقسام کا ذکر کرتی ہے۔ اگرچہ بائبل خاص طور پر ڈرم کا ذکر نہیں کرتی، لیکن بہت سے ضرب سے چلنے والے آلات کا ذکر کرتی ہے (68زبور 25 آیت؛ عزرا3 باب 10 آیت)۔ تقریباً تمام اقسام کے جدید موسیقی کے آلات اسی قسم کے آلات کے تغیر اور/یا اتصال ہیں جو مختلف سپیڈ یا زور کے ساتھ بجائے جاتے ہیں۔ موسیقی کے کسی مخصوص سٹائل کو غیر خُدا پرست یا خُدا کی مرضی کے خلاف قرار دینے کی کوئی بائبلی بنیادموجود نہیں ہے۔

‌ج. گیت کا مواد/شاعری: چونکہ موسیقی کا مقصد اور نہ ہی موسیقی کا سٹائل اِس بات کا تعیّن کرتا ہے کہ آیا مسیحیوں کو دُنیاوی موسیقی سننی چاہیے یا نہیں، تاہم گیت کے مواد پر لازمی طور پر غور کرنا چاہیے۔ اگرچہ فلپیوں4 باب 8 آیت خاص طور پر موسیقی کے بارے میں بات نہیں کر رہی، تاہم یہ حوالہ موسیقی کے مشمولات یعنی مواد کے لئے بہترین رہنمائی کرتا ہے:"غرض اے بھائیو! جتنی باتیں سچ ہیں اور جتنی باتیں شرافت کی ہیں اور جتنی باتیں واجب ہیں اور جتنی باتیں پاک ہیں اور جتنی باتیں پسندیدہ ہیں اور جتنی باتیں دِلکش ہیں غرض جو نیکی اور تعریف کی باتیں ہیں اُن پر غور کیا کرو"۔ اگر ہمیں اِس طرح کی باتوں کے بارے میں سوچنا چاہیے، تو پھر موسیقی اور شاعری کے وسیلہ سے بھی صرف ایسی ہی باتوں کو اپنے ذہن میں دعوت دینی چاہیے۔ کیا دُنیاوی گیت کی شاعری سچائی پر مشتمل، شرافت سے پُر، واجب، پاک، پسندیدہ، دلکش، نیک، اور قابلِ تعریف ہو سکتی ہے؟ اگر ہو سکتی ہیں، تو پھر مسیحیوں کے لئے اِس قسم کے دُنیاوی گیت/موسیقی سُننے میں کوئی بُرائی نہیں ہے۔

تاہم، زیادہ تر دُنیاوی موسیقی فلپیوں4 باب 8 آیت کے میعار پر پوری نہیں اُترتی۔ دُنیاوی موسیقی اکثر پاکیزگی اور راستبازی کو کم کرتے ہوئے بد اخلاقی اور تشدد کو فروغ دیتی ہے۔ اگر کوئی گیت ایسی چیز کو جلال دیتا ہے جو خُدا کی مخالفت کرتی ہے، تو مسیحیوں کو اِسے بالکل نہیں سُننا چاہیے۔ تاہم بہت سے دُنیاوی گیت اگرچہ خُدا کا ذکر نہیں کرتے لیکن پھر بھی ایمانداری، پاکیزگی، اورراستبازی جیسی خُدا پرست اقدار رکھتے ہیں۔ اگر کوئی محبت بھرا گیت شادی اور/یا حقیقی محبت کی پاکیزگی کو فروغ دیتا ہے، چاہے وہ خُدا یا بائبل کا ذکر نہ بھی کرے، تو پھر اُسے سُنا جا سکتا ہے اور اُس سے لطف اُٹھایا جا سکتا ہے۔

کوئی شخص جس چیز کو بھی اپنے دماغ پر قبضہ کرنے کی اجازت دیتا ہے، اُس کا ذہن جلد یا بدیر اُسکے الفاظ اور اُسکے اعمال کا تعین کرے گا۔ خیالات کی ترتیب کی صحت مند تشکیل کے پیچھے فلپیوں4 باب 8 آیت اور کُلسیوں3 باب 2 اور 5 آیات کی تمہید یہی ہے۔ 2 کرنتھیوں10 باب 5 آیت فرماتی ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم "تصورات اور ہر ایک اُونچی چیز کو جو خُدا کی پہچان کے برخِلاف سر اُٹھائے ہوئے ہے ڈھا دیں اور ہر ایک خیال کو قید کر کے مسیح کا فرمانبردار بنا دیں"۔ یہ حوالہ اِس قسم کی موسیقی کی واضح تصویر پیش کرتا ہے جو ہمیں نہیں سننی چاہیے۔

ظاہر ہےکہ موسیقی کی بہترین قسم وہی ہے جو خُدا کی تعریف کرتی اور اُسے جلال دیتی ہے۔ باصلاحیت مسیحی موسیقار کلاسیکل موسیقی سے لے کر راک موسیقی، ریَپ موسیقی ، اور ریگے موسیقی تک کی تقریباً تمام اقسام میں کام کرتے ہیں۔ ذاتی طور پر موسیقی کے کسی مخصوص سٹائل کے ساتھ کوئی بُرائی نہیں ہے۔ یہ شاعری ہی ہے جو اِس بات کا تعین کرتی ہے کہ آیا کوئی گیت مسیحیوں کے سُننے کے لئے "قابلِ قبول" ہے یا نہیں۔ اگر کوئی چیز آپ کو ایسے عمل میں شامل کرتی ہے یا اُس کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے جو خُدا کو جلال نہیں دیتا ، تو اِس سے بچنا چاہیے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا مسیحیوں کو دُنیاوی موسیقی سننی چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries