settings icon
share icon
سوال

لا دین نظریہ انسان پسندی /سیکولر ہیومن ازم کیا ہے ؟

جواب


سیکولر ہیومن ازم یعنی لا دین نظریہ انسان پسندی کا آئیڈیل خود بنی نوع انسان ہے جو اِس فلسفے کے مطابق غیر تخلیق شدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ابدی فطرت کا ایک حصہ ہے۔ اس نظریے کا مقصد خدا کے ذکر یا مدد کے بغیر انسان کی خوداصلا ح کار ی ہے ۔ لادین نظریہ انسان پسندی اٹھارویں صدی کی روشن خیالی اور انیسویں صدی کی آزادانہ سوچ سے پروان چڑھا تھا ۔ کچھ مسیحی یہ جان کر حیران ہو سکتے ہیں کہ درحقیقت وہ بھی لا دین نظریہ انسان پسندی کے حامیوں کے ساتھ کچھ وابستگیاں رکھتے ہیں۔ بہت سے مسیحی اور لادین نظریہ انسان پسندی کے حامی عقلیت ، آزاد تفتیش ، کلیسیا اور ریاست کی علیحدگی ، مثالی آزادی اور اخلاقی تعلیم کے حوالے سے باہمی وابستگی رکھتے ہیں۔ تاہم ، وہ بہت سے شعبوں میں مختلف ہیں۔ لادین نظریہ انسان پسندی کے حامی اپنی اخلاقیات اور انصاف کے بارے میں اپنے نظریات کی بنیاد کتابِ مُقدس کی تعلیمات پر نہیں رکھتے بلکہ انسانی عقلیت پر رکھتے ہیں ، جبکہ مسیحی صحیح اور غلط ، اچھائی اور برائی کے بارے میں جاننے کے لیے بائبل مُقدس پر انحصار کرتے ہیں۔

اور اگرچہ لادین نظریہ انسان پسندی کے حامی اور مسیحی سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دیتے اور اِن کا استعمال کرتے ہیں لیکن مسیحیوں کے نزدیک یہ تمام آلات خدا کے جلال کی خاطر انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کیے جانے چاہیے جبکہ دوسری جانب لادین نظریہ انسان پسندی کے حامی اِن چیزوں کو خدا کے حوالے کے بغیر انسانی مقاصد کو پورا کرنے کے ذرائع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ زندگی کی ابتداء سے متعلق اُن کی تحقیقات میں لادین نظریہ انسان پسندی کے حامی اِس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ خدا نے انسان کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا تھا ، اُس نے سب سے پہلے زمین اور اِس پر موجود تمام جانداروں کو نیست سے پیدا کیا تھا ۔ لادین نظریہ انسان پسندی کے حامیوں کے لیے فطرت ایک ابدی اور خود استقرار قوت ہے۔

لادین نظریہ انسان پسندی کے حامی یہ جان کر حیران ہو سکتے ہیں کہ بہت سے مسیحی اُن کے ساتھ مذہبی شکوک و شبہات کا رویہ روا رکھتے ہیں اور تعلیمی شعبے میں تنقیدی دلیل کے استعمال کے پابند ہیں۔ بیریہ کے عظیم ایمانداروں کے نمونے پر عمل کرتے ہوئے نظریہ انسانیت کو بائبل کی روشنی میں دیکھنے والے نصیحت کو پڑھتے اور سنتے ہیں لیکن ہم تمام باتوں کو کلامِ مقدس کی روشنی میں دیکھتے ہیں (اعمال 17باب 11آیت)۔ ہم محض ہر بیان یا ذہنی تاثر کو قبول نہیں کرتے جو ہمارے ذہن میں داخل ہوتا ہے ، بلکہ ہم اپنے خُداوند یسوع مسیح کی فرمانبرداری کرنے کے لیے ( دیکھیں 2کرنتھیوں 10 باب 5آیت؛ 1تیمتھیس 6باب 20آیت) اپنے تمام خیالات اور "علم" کو خدا کے کلام کے حتمی معیار کے مطابق جانچتے ہیں ۔ نظریہ انسانیت کو بائبل کی روشنی میں دیکھنے والے خیال کرتے ہیں کہ حکمت اور علم کے تمام خزانے مسیح میں پوشیدہ ہیں (کلسیوں 2باب 3آیت)اور مسیح کی خدمت کے لیے ہر اچھی چیز کے مکمل علم میں بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں (فلپیوں 1باب 9آیت؛ 4باب 6آیت؛ موازنہ کلسیوں 1باب 9آیت)۔ لادین نظریہ انسان پسندی کے حامیوں کے برعکس جو عیاں کردہ سچائی کے تصور کو مسترد کرتے ہیں ہم خدا کے کلام پر قائم رہتے ہیں جو ایسا معیار ہے جس کی روشنی میں ہر ہر ایک دوسری چیز کے معیار کی ہم پیمائش یا جانچ کرتے ہیں۔ یہ مختصر سا بیان بائبل پر مبنی نظریہ انسانیت کی پوری طرح وضاحت نہیں کرتا ، لیکن یہ لغت میں دی گئی کلینیکل تعریف میں زندگی اور مطابقت کو شامل کرتا ہے (مثلاً،ویبسٹر کی تیسری نئی بین الاقوامی لغت ، بائبل پر مبنی نظریہ انسانیت کی تعریف کچھ یوں کرتی ہے "ایک ایسا فلسفہ جو مسیحی قواعدو ضابطہ کے فریم ورک کے اند ر اندر انسان کی ذات کی تکمیل کی وکالت کرتا ہے"۔

اس سے پہلے کہ ہم لادین نظریہ انسان پسندی کے خلاف مسیحی ردعمل پر غور کریں ہمیں لادین نظریہ انسان پسندی کی اصطلاح کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ نظریہ انسان پسندی عام طور پر قدیم علمیت اور ثقافت کے دوبارہ جنم یا احیاِ ءنو کو ذہن میں لاتا ہے جو نشاطِ الثانیہ کے دوران واقع ہوا تھا۔ اُس دور کے دوران "نظریہ انسان پسندی کے حامیوں "نے یونانی اور رومی نمونوں پر مبنی حکمت کے سخت طریقے وضع کیے اور اُن کی بنیاد پر (ادب اور صورت گری کے فن پاروں میں ) ایک نیا لاطینی طرز عمل اور سیاسی ادارے تشکیل دینے کی کوشش کی۔ تاہم نشاطِ الثانیہ سے بہت پہلے "بائبل پر مبنی انسان پسندی" اگسٹائن ، ایکوائنس ، ایراسمس اور دیگر کے کاموں اور سوچ میں پروان چڑھتی رہی تھی۔حتی ٰ کہ کچھ لوگ افلاطون جو ایک ملحدانہ فلسفی ہے کے کام میں ایک اسی قسم کے اندازِ فکر کو دیکھتے ہیں جو مسیحی تعلیم کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ اگرچہ افلاطون بہت کچھ ایسا پیش کرتا ہے جو ہمارے لیے فائدہ مند ہے، لیکن اُس کے مفروضے اور نتائج یقیناً بائبل کے مطابق نہیں تھے ۔مشہور فلسفی نیچے(Nietzsche) کی طرح افلاطون "نئے جنم" پر یقین رکھتا تھا۔ اس نے (اور دیگر عام یونانیوں نے ) اپنے معبودوں کی لبوں سے تو عبادت کی تھی، لیکن اُن کے نزدیک انسان خود ہی ہر چیز کا معیار تھا۔ لادین نظریہ انسان پسندی کے ہم عصر اظہارات نامزد مسیحی عناصر اور ضروری بائبلی سچائیوں یعنی ایسے حقائق کومسترد کرتے ہیں جیسے کہ انسان اپنے اُس خُدا کی شبیہ پر تخلیق کیا گیا ہے جس نے خود کو بائبل کی تعلیمات کی صورت میں اور خُداوند یسوع مسیح کی زمینی زندگی اور خدمت کے ذریعے سے ظاہر کیا ہے۔

سائنسی انقلاب کے دوران نظریہ انسان پسندی کے حامی خیال کئے جانے والے(کوپرنیکس اور گیلیلیو جیسے)) اتنہائی تربیت یافتہ سائنسدانوں نے ایسی تحقیقات اور دریافتیں کیں جن کی وجہ سے اُس دور کے رومن کیتھولک کلیسیائی عقیدے پر اعتراضات ظاہر ہوئے۔ روم نے نہ صرف نئے تجرباتی علوم کے نتائج کو مسترد کر دیا بلکہ اُن معاملات کے خلاف سخت اعلانات بھی جاری کیے جو ایمان کے دائرہ سے باہر تھے ۔ ویٹیکن کا خیال تھا کہ چونکہ اجرام فلک کو خدا نے تخلیق کیا ہے لہذا اُنہیں اپنے خالق کے "کمال" کی عکاسی کرنی چاہیے اس وجہ سےانہوں نے ماہرینِ فلکیات کی اِن دریافتوں کو مسترد کر دیا کہ سیاروں کے مدار گول نہیں بلکہ بیضوی شکل کے ہیں جیسا کہ پہلے مانا جاتا تھا اور یہ بھی کہ سورج کے اندر "دھبے" یا ٹھنڈے اور تاریک علاقے ہیں۔ یہ تجرباتی لحاظ سے قابل تصدیق حقائق اور ایسے مرد اور خواتین جنہوں نے ان باتو ں کی دریافت کی تھی ، بائبل کی تعلیمات سے متصادم نہیں تھے۔ بائبل میں عیاں کردہ سچائی کو رَد کر کےفطرت پسندی پر مبنی نظریہ ِ انسانیت کی طرف حقیقی طور پر مڑ جانا – جس کی بدولت بائبل کے اختیار اور سچائی کو مسترد کردیا گیا اور لادین نظریہ انسانیت کی ایک شکل کی جانب چلا گیا – وہ دراصل روشن خیالی کے دوران رونما ہوا تھا جو 18 ویں اور 19 ویں صدیوں پر محیط تحریک تھی ۔ خاص طور پر جرمنی سے شروع ہوتے ہوئے اس نے پورے یورپ میں اپنی جڑیں گاڑ لی تھیں ۔

بےشمار وجود پرستوں ، ملحدین،لاادریت کے حامیوں ، عقلیت پسندوں اور تشکیک پرستوں نے عیاں کردہ سچائی کو نہ ماننے کےلیے بہت سے دانشوارانہ منصوبوں کی پیروی کی ۔روسو اور ہوبز جسے لوگوں نے اپنے الگ الگ اور مختلف طریقہ کار میں انسان کی متذبذب حالت کےلیے غیر اخلاقی اور عقلی حل تلاش کئے ؛ مزید برآں ہیگل کی Phenomenology of Spirit ، کانٹ کی Critique of Pure Reason اور فختا/Fichte کی The Science of Knowledge جیسی تصانیف نے لا دین نظر یہ انسان پسندی کے بعد کے حامیوں کےلیے نظریاتی بنیاد رکھی تھی ۔ عصری ماہرین تعلیم اور لادین نظریہ انسان پسندی کے حامی جس وقت سماجی و اخلاقی مسائل، جنسی تعلقات، افزائشِ نسل اور رضا کارانہ موت کی بات کرتے ہیں تو انفرادی خود مختاری اور انتخاب کی آزادی جیسے شعبوں میں حقِ خود ارادیت اور اینٹی نومی عقیدے کو فروغ دیتے ہیں جبکہ ثقافتی عملداری میں وہ بائبل کی تشریح کرتے وقت تنقیدی طریقوں پر انحصار کرتے ہیں، انسانی تاریخ میں الٰہی مداخلت کے امکان کو مسترد کرتے اور بائبل کو زیادہ سے زیادہ ایک "پاک تاریخ" کے طور پر دیکھتے ہیں تو وہ جانے انجانے میں اُسی پہلے سے قائم کردہ بنیاد پر تعمیر کر رہے ہوتےہیں۔

"اعلیٰ تنقید" کے نام سے مشہور لادین نظریہ انسان پسندی علمِ الہیات کے سکولوں میں گینگرین کی بیماری کی طرح پھیل گیا اور بائبلی تحقیقات کے لئے اپنے عقلی یا انسان مرکوز نقطہ نظر کو فروغ دیا۔ جرمنی میں شروع ہوتے ہوئے انیسویں صدی کے آخر میں اس "اعلیٰ تنقید" نے "دستاویزات سے آگے تک جانے " کی کوشش کی اور بائبل کے متن کے مستند پیغام کے اثر کو کم کیا ۔ جیسا کہ ڈیرل ایل بوک نے واضح کیا ہے کہ علم تنقید کی قیاس پر مبنی فطرت نے بائبل کو مسیح اور اس کے رسولوں کی زندگی اور تعلیمات کے لا خطا تاریخی بیان کی بجائے "ماضی کے دھندلے آئینے کی طرح" سمجھا ہے ۔ (“Introduction” in Roy B. Zuck and D.L. Bock, A Biblical Theology of The New Testament, 1994, p. 16 )۔ مثال کے طور پر روڈولف بولٹ مین جو اعلیٰ تنقید کا ایک نمایاں ترجمان ہے اپنی کتاب Theology of New Testament میں تنقیدی مفروضات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے ۔ جیسا کہ بوک اِس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ مُصنف " یسوع کے نئے عہدنامے کی تصویر کے بارے میں اس قدر شکوک و شبہات کا شکار تھا کہ وہ یسوع کی ذات سے متعلق علم ِ الہیات کے بارے میں مشکل ہی سے بات کرتا ہے " (ایضاً)۔

اگرچہ اعلیٰ تنقید نے کچھ لوگوں کے ایمان کو کمزور کیا تھاپرنسٹن سمینری کے بی بی وار فیلڈ ، ولیم ارڈ مین اور دیگر لوگوں نے بائبل کا خدا کے کلام کے طور دلجمعی سے دفاغ کیا ہے ۔ مثال کے طور پرچوتھی انجیل کی ابتدائی تاریخ اور یوحنا کے اِس انجیل کے مصنف ہونے کی حیثیت پر سوال اُٹھانے والے تشکیک پرستوں کو جواب دیتے ہوئے ارڈ مین اور خداوند کے دوسرے خادمین نے اِن اساسی نکات کا تنقیدی بنیادوں اور مساوی حکمت کے ساتھ دفاع کیا ہے ۔

اسی طرح فلسفے سیاست اور معاشرتی نظریے میں مسیحی تعلیمی ماہرین ، ماہرِ قانون دانوں ، مصنفین ، پالیسی سازوں اور فنکاروں نے ایمان کے دفاع اور انجیل کےلیے دل و دماغ کو قائل کرنے کے لیے اسی طرح کے ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔ تاہم شعوری زندگی کے بہت سے شعبوں میں جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ۔ مثال کے طور پر علمی دنیا سے باہر امریکہ میں انگریزی کے شعبوں اور ادبی حلقوں میں رالف والڈ و ایمرسن کی دِلوں کو لبھانے والی پکار اب بھی غالب ہے ۔ ایمرسن کا نظریہ وحدت الوجود مسیح کے انکار کے مترادف ہے ؛ یہ بہت عیارانہ ہے اور غافل لوگوں کو دھوکا دیکر انجیل سے دور کر سکتا ہے۔ ایمرسن کا ماننا تھا کہ لوگوں کے اندر پائی جانے والی " دنیاوی رُوح " ہر شخص کو ا ُس کی نجات اور سچائی کا منبع بناتی ہے ۔ ایمرسن اور ہیگل جیسے مصنفین کا مطالعہ کرتے وقت مسیحیوں ( خصوصاً اُنہیں جو اُس ایمان کا دفاع کریں گے جو مُقدسوں کو ایک ہی بار سونپا گیا تھا ]یہوداہ[) کو احتیاط برتنی چاہیے اور خدا کے کلام کو اپنے خیالات کا محور بنانا اور اپنی زندگیوں کے سبھی خیالات کو عاجزی سے اُس کلام کے تابع رکھنا چاہیے ۔

مسیحی اور لادین نظریہ انسان پسندی کے حامیوں نے بعض اوقات کائنات میں نظم و ضبط کی بنیاد یا منبع کے بارے میں مخلص بات چیت کی ہے ۔ چاہے وہ اِسے دلیل یا ارسطو کا بنیادی محرک کہیں کچھ لادین عقلیت پسند صحیح طور پر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اخلاقی سچائی اخلاقی نظم وضبط کے لیے ایک اوّلین شرط ہے۔ اگرچہ بہت سے لادین نظریہ انسان پسندی کے حامل ملحد ین ہیں وہ دلیل کے بارے میں عام طور پر ایک اعلیٰ نقطہ نظر رکھتے ہیں لہذا مسیحی دفاعِ ایمان سے منسلک لوگ اِن کے ساتھ انجیل کے بارے میں عقل پر مبنی بات چیت کر سکتے ہیں جیسا کہ پولس نے اعمال 17باب 15-17آیات میں اتھینے کے لوگوں سے بات کرتے ہوئے کیا تھا۔

ایک مسیحی کو لادین نظریہ انسان پسندی کا کیسے جواب دینا چاہیے؟ اس طریق کے پیروکاروں کے لیے (اعمال 9باب 2آیت ؛ 19باب 19، 23 آیات ) ضروری ہے کہ نظریہ انسان پسندی کی کسی بھی جائز شکل کو چاہیے کہ وہ انسانی صلاحیتوں کے مکمل ادراک کو سمجھنے کے لیے انسانی ذہن اور مرضی کو خُدا کی مرضی کے تابع کر دیں۔ خُدا کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ سب کی نوبت توبہ تک پہنچے، اور ایماندار اُس کے فرزندوں کی حیثیت سے اُسکی ابدی بادشاہی کے وارث بنیں ( یوحنا 3باب 16آیت ؛ 1باب 12آیت)۔ لادین نظریہ انسان پسندی کا مقصد بہت کم اور بہت کچھ دونوں ہی طرح کے کام کرنا ہے۔ اس کا مقصد اس دنیا کو بحال کرنا اور اپنی بتدریج نجات کے بانی اِس انسان کو جلال دینا ہے۔ اس سلسلے میں "لادین " نظریہ انسان پسندی خدا کی سچی انجیل کے کچھ مذہبی متبادل کے ساتھ کافی حد تک پرسکون ہے-مثال کے طور پر خود شناسی کی رفاقت کے بانی یوگانند کی تعلیمات۔ اس کے برعکس نظریہ انسانیت کو بائبل کی روشنی میں دیکھنے والے اس فہم کے ساتھ خداوند یسوع کی پیروی کرتے ہیں کہ ہماری بادشاہی اِس دنیا کی نہیں ہے اور یہاں اس کا مکمل ادراک نہیں کیا جا سکتا ( یوحنا 18باب 36آیت؛ 8باب 23آیت)۔ ہم اپنے ذہنوں کو زمینی چیزوں کی بجائے خدا کی ابدی بادشاہی پر مرتکز کرتے ہیں کیونکہ ہم گناہ کے اعتبار سےمر چکے ہیں اور ہماری زندگیاں خدا میں مسیح کے ساتھ پوشیدہ ہیں۔ جب مسیح جو کہ ہماری زندگی ہے واپس آئے گا تو ہم اُس کے ساتھ جلال میں حاضر ہوں گے (کلسیوں 3باب 1-4آیات)۔ بطور انسان یہ ہماری تقدیر کا واقعی ایک اعلیٰ نقطہ ِنظر ہے کیونکہ ہم اُس کی نسل سے ہیں جیسا کہ لادین شاعروں نے بھی کہا ہے (آراٹس کی نظم "فینومینا" دیکھیں اعمال 17باب 28آیت)۔

یہ کہنے کے لیے کہ نظریہ انسان پسندی محض انسانی عقل کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہو سکتا کسی انسان کو لازمی طور پر مسیحی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ حتیٰ کہ عمانو ایل کانٹ جرمن روشن خیالی کے عروج کے دوران جب اپنی کتاب Critique of Pure Reason لکھ رہا تھا اس بات سے آگاہ تھا ۔ مسیح کے پیروکاروں کو نہ تو فلسفے اور انسانی روایت کی دھوکا دہی کا شکار ہونا چاہیے اور نہ ہی نظریہ انسان پسندی کی اُن اشکال کا اسیر ہونا چا ہیے جو انسانی خود شناہی کے امکان میں رومانوی ایمان پر مبنی ہیں ( کلسیوں 2باب 8آیت)۔ ہیگل کے مطابق انسانی ترقی کی بنیادمثالی عقل ہے ،اُس کے خیال کے مطابق تاریخ کے بتدریج جدلیاتی مراحل میں سے گزرنے کے وسیلے سے عقلیت بطورِ رُوح ایسے آگے آتی ہے جیسے کوئی رُوح مجسم حالت اختیار کرتی ہے۔ لیکن اگر ہیگل بیسویں صدی کی عالمی جنگوں کو دیکھنے کے لیے زندہ رہتا تو شک کیا جا سکتا ہے کہ وہ تاریخ کی تباہ کن ناکامی کے اندر انسانی ترقی کا کوئی تصور تلاش کرنے کی کوشش کرتا۔ مسیحی اس بات سے آگاہ ہیں کہ الٰہی منصوبے پر مبنی نجات کے مخالفانہ فلسفے نظریہ انسان پسندی کی کسی بھی شکل کے نصیب میں صرف ناکامی اور جھوٹا ایمان ہے ۔ چونکہ بنی نوع انسان کو خدا کی شکل و شبیہ پر بنایا گیا ہے اس لیے ہم انسان کے بارے میں ایک اعلیٰ نقطہ نظر کی بنیاد پر خدا کے بارے میں ایک اعلیٰ نقطہ نظر رکھتے ہیں اور ہم انسان کی مایوس کن صورتحال اور خدا کے نجات کے منصوبے کے تعلق سے کلامِ مقدس سے متفق ہیں۔

جیسا کہ الیگزینڈر سولزینِٹزن نے مشاہدہ کیا کہ نظریہ انسان پسند ی بنی نوع انسان کی مایوس کن حالت کے لیے بالکل کوئی حل پیش نہیں کرتا ۔ وہ اس بات کو کچھ ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: "اگر نظریہ انسان پسندی یہ اعلان کرنے میں درست ہوتا کہ انسان خوش ہونے کے لیے پیدا ہوا ہے تو اُس نے مرنے کے لیے پیدا نہیں ہونا تھا ۔ چونکہ اس کے بدن کے لیے مرنا طے ہے اس لیے زمین پر اس کا کام بلاشبہ زیادہ رُوحانی نوعیت کا ہونا چاہیے۔"یقیناً ایسا ہی ہے ۔ بنی نوع انسان کا کام خدا یعنی ہمارے حقیقی نجات دہندہ کو ڈھونڈنا ہے ( اعمال 17باب 26-27آیات؛ موازنہ 15باب 17آیت) جو ہمیں زمینی میراث سے بہتر میراث کی پیشکش کرتا ہے (عبرانیوں 6باب 9آیت ؛7باب 17آیت ) ۔ جو انسان مسیح کے لیے اپنے دل کا دروازہ کھولتا ہے (مکاشفہ 3باب 20آیت)وہ اُس بہتر ملک کا وارث ہوگا جسے خدا نے اُن لوگوں کے لیے تیار کیا ہے جو اُس سے محبت کرتے ہیں اور اُس کے مقاصد کے مطابق بلائے جاتے ہیں (افسیوں 1باب 11آیت؛ رومیوں 8باب 28آیت؛ عبرانیوں 11باب 16آیت؛ موازنہ متی 25باب 34آیت؛ یوحنا 14 باب 2آیت)۔ یہ تعلیم اور اُمید لا دین نظریہ انسان پسندی کے منشوروں میں موجود تمام قابل فخر اور عظیم مقاصد سے کس قدر زیادہ شاندار ہے؟

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

لا دین نظریہ انسان پسندی /سیکولر ہیومن ازم کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries