settings icon
share icon
سوال

کیا اپنی زندگی کو محفوظ رکھنے کے لیے خفیہ طور پر مسیحی ہونا غلط چیز ہے؟

جواب


کیا تشدد یا موت کے خوف کے پیش ِ نظر خفیہ مسیحیوں کے طور پر زندگی بسر کرنا غلط ہے ؟ کیا مسیحیوں کو یسوع کے نام کے اقرار کی خاطر مرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ؟ کیا ہمیں اپنی زندگیوں کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنے ایمان کو راز رکھنا چا ہیے ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو دنیا کے بہت سے حصوں میں بسنے والے مسیحیوں کے لئے محض فرضی ہے کہ اُنہیں بدترین ایذارسانی کے ساتھ ساتھ ٹھٹھوں میں اُڑائے جانے یا بے عزت کئے جانے کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ تاہم دنیا کے کچھ حصوں میں بسنے والے مسیحیوں کے لئے یہ سوال بہت ہی حقیقی اور عملی ہے — اُن کی زندگیاں واقعی خطرے میں ہیں ۔ یہ ایک علیحد ہ بات ہے کہ آپ اپنی زندگی اور / یا اپنے خاندان کے افراد کی زندگیوں کی حفاظت کے لیے اتنے بے باک نہ ہوں جیتے آپ ہو سکتے ہیں ۔ مگر مسیح کی خدمت ، عزت ، عبادت اور فرمانبرداری سے کہیں زیادہ اپنی زندگی کو ترجیح دینا پوری طرح ایک علیحدہ بات ہے ۔ ان سب باتوں کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ آپ کا خفیہ طور پر مسیح پر ایمان رکھنا غلط ہے ؟

یسوع خود ہمیں جواب دیتا ہے کہ : "جو کوئی آدمیوں کے سامنے میرا اِقرار کرے گا مَیں بھی اپنے باپ کے سامنے جو آسمان پر ہے اُس کا اِقرار کروں گا۔ مگر جو کوئی آدمیوں کے سامنے میرا اِنکار کرے گا مَیں بھی اپنے باپ کے سامنے جو آسمان پر ہے اُس کا اِنکار کروں گا۔ یہ نہ سمجھو کہ مَیں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں۔ صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں" ( متی 10باب 32-34آیات)۔ یسوع مسیح نے اس بات کو ہم پر واضح کردیاہےکہ "اگر دُنیا تم سے عداوت رکھتی ہے تو تم جانتے ہو کہ اُس نے تم سے پہلے مجھ سے بھی عداوت رکھّی ہے۔ اگر تم دُنیا کے ہوتے تو دُنیا اپنوں کو عزیز رکھتی لیکن چونکہ تم دُنیا کے نہیں بلکہ مَیں نے تم کو دُنیا میں سے چُن لِیا ہے اِس واسطے دُنیا تم سے عداوت رکھتی ہے" ( یوحنا 15باب 18-19آیات)۔ چونکہ کسی شخص کا اپنی زندگی کو بچانے کے لیے مسیح پر خفیہ طور پر ایمان رکھنا ایک قابل ِ فہم بات ہے لہذا ایک مسیحی کو اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنے ایمان کو خفیہ رکھے ۔

مندرجہ بالا حوالے میں لفظ "دنیا" یونانی زبان کے لفظ kosmos کا ترجمہ ہے ۔ یہ اُن بُرے ، بے دین اور غیر اخلاقی لوگوں کے گناہ آلودہ نظام کی جانب اشارہ کرتا ہے جن کے دل و دماغ شیطان کے قبضہ میں ہیں ( یوحنا 14باب 30آیت؛ 1یوحنا 5باب 19آیت؛ افسیوں 2باب 1-3آیات)۔ شیطان خدا سے نفرت کرتا ہے ۔ یہ اُن لوگوں سے بھی نفرت کرتا ہے جو مسیح کی پیروی کرتے ہیں ۔ مسیحی شیطان کےغیض و غصب کا مرکز ہیں۔ اُس کا مقصد بھوکے شیر کی طرح مسیحیوں کو پھاڑ کھا نا ہے(1پطرس 5باب8آیت؛ افسیوں 6باب 11آیت)۔ ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے کہ دنیا کے حکمران ایمانداروں سے صرف اس لئے نفرت کرتے ہیں کہ ہم " دنیا کے نہیں" ہیں ۔ مسیح کے اقرار کے لئے مسیحیوں کو روزانہ کیوں ستایا اور ہلاک کیا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری دیندار زندگی اس دنیا کے بُرے کاموں کی مذمت کرتی ہے (امثال 29باب 27آیات)۔پہلے قتل یعنی قائن کے ہابل کو مار ڈالنے کے بیان کے ساتھ ہی ایسا ہوتاچلا آر ہا ہے ( پیدایش 4باب 1-8آیات)۔ قائن نے ایسا کیوں کیا تھا ؟ " اس واسطے کہ اُس کے کام بُرے تھے اور اُس کے بھائی کے کام راستی کے تھے " (1یوحنا 3باب 12آیت )۔ اسی طرح سے آج بھی دنیا بُرے کام کرنے والوں سے خوش ہوتی ہے ( رومیوں 1 باب 32آیت) اور اُن لوگوں کو ناپسند کرتی ہے جو راستبازی کی زندگی بسر کرتے ہیں ۔

ایک اور پیغام جو یسوع دنیا میں لایا تھا یہ ہے کہ "اُس وقت لوگ تم کو اِیذا دینے کے لئے پکڑوائیں گے اور تم کو قتل کریں گے اور میرے نام کی خاطر سب قومیں تم سے عداوت رکھیں گی" ( متی 24باب 9آیت)۔ یسوع نے ہم سے اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ اخیر ایام میں مسیحی اِس بے دین دنیا کی طرف سے سے سخت ایذار سانی کا سامنا کریں گے ۔ ہمیں تباہ و برباد ،بے عزت اور لعن طعن کیا جائے گا ۔ یہ جزو جملہ " پکڑوائیں گے " ایک یونانی لفظ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب " ہاتھ ڈالنا " ہے بالکل ویسے جیسے پولیس یا فوج کی طرف سے کسی کو گرفتار کیا جاتا ہے ( متی 4باب 12آیت)۔ بہت سے لوگوں کو قتل کیا جائے گا۔ اُس کے نام کی خاطر ہم سے " سب قومیں عداوت رکھیں گی "۔ مرقس کے اس سے مماثل حوالے میں یسوع فرماتا ہے "لیکن تم خبردار رہو کیونکہ لوگ تم کو عدالتوں کے حوالہ کریں گے اور تم عبادت خانوں میں پیٹے جاؤ گے اور حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے میری خاطر حاضر کئے جاؤ گے تاکہ اُن کے لئے گواہی ہو" ( مرقس 13باب 9آیت)۔ جس طرح آج ہم پوری دنیا میں گواہی دے رہے ہیں مسیح کے نام سے کہلائے جانے کے پیشِ نظر ہمیں اِس کو جاری رکھنے کے لیےاپنی آزادی ، اپنے حقوق و احترام اور بعض اوقات اپنی زندگیوں کی قیمت ادا کرنی ہو گی ۔

مسیحیوں کو مسیح کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ "جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُن کو باپ اور بیٹے اور رُوح القدس کے نام سے بپتسمہ دو" ( متی 28باب 19آیت)۔ پو لس رسول مسیح کے فرمان کو اس سوال کے ساتھ دہراتاہے کہ "مگر جس پر وہ اِیمان نہیں لائے اُس سے کیونکر دُعا کریں؟ اور جس کا ذِکر اُنہوں نے سنا نہیں اُس پر اِیمان کیونکر لائیں؟ اور بغیر مُنادی کرنے والے کے کیونکرسنیں؟ اور جب تک وہ بھیجے نہ جائیں منادی کیونکر کریں؟ چُنانچہ لکھا ہے کہ کیا ہی خُوش نُماہیں اُن کے قدم جو اچھی چیزوں کی خُوشخبری دیتے ہیں" ( رومیوں 10باب 14-15آیات)۔ حتی ٰ کہ دنیا کے تاریک ترین حصوں میں بھی انجیل کی منادی کی خاطر کسی نہ کسی شخص کے لیے منادی کرنا ضروری ہے ۔اِس زمین پر ہمارا مقصد یسوع مسیح کی زندگی بخش خوشخبری کے بارے میں دوسرے لوگوں کو بتاتے ہوئے دنیا کا نور اور زمین کا نمک ثابت ہونا ہے ۔ ہاں ، ایسا کرنے کے لیے بعض اوقات ہم ایذا رسانی کا سامنا کرتے ہیں اور بعض اوقات اپنے زندگیوں کا خطرہ مول لیتے ہیں ۔ لیکن ہم نہ صرف یہ جانتے ہیں کہ یہ خدا کی مرضی ہے کہ ہم دوسرے لوگوں کے ساتھ اُس کی سچائی کو بانٹیں بلکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ زمین پر ہمارے مشن کی تکمیل تک وہ ہماری حفاظت کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔

اس دنیا میں مسیح کےلیے زندہ رہنا مشکل اور یہاں تک کہ ناگوار بھی ہو سکتا ہے ۔ یہ دنیا ہمارا گھر نہیں بلکہ یہ ایک میدانِ جنگ ہے ۔ زندگی کی آزمایشیں وہ طریقہ کار ہیں جن کو خدا ہمیں تعمیر کرنے اور پہلے سے زیادہ یسوع کی مانند بنانے کےلیے استعمال کرتا ہے ۔یہی وہ تاریک ایام ہیں جن میں ہمیں مسیح کو تکتے رہنا اور اُس کی قدرت کو اپنی زندگیوں میں کام کرنے دینا ہے ۔ آسمان پر جانے سے پہلے یسوع نے ہمیں آخری حکم دیا تھا کہ ہم انجیل کو دنیا میں پھیلائیں ۔ اس کے ساتھ ہی اُس نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ "دیکھو مَیں دُنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہُوں" ( متی 28باب 20آیت)۔ اور یہی سب سے اہم چیز ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اپنی زندگی کو محفوظ رکھنے کے لیے خفیہ طور پر مسیحی ہونا غلط چیز ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries