کیا موت کے بعد نجات کے حصول کا کوئی دوسرا موقع ہوگا؟


سوال: کیا موت کے بعد نجات کے حصول کا کوئی دوسرا موقع ہوگا؟

جواب:
اگرچہ نجات کے حصول کےلیے دوسرا موقع ملنے کا تصور کافی دلکش معلوم ہوتا ہے لیکن بائبل اس بارے میں پوری طرح واضح ہے کہ موت تمام مواقع کا اختتام ہے ۔ عبرانیوں 9باب 27آیت ہمیں بتاتی ہے کہ جب ہم مرجائیں گے تو اس کے بعد صرف عدالت ہوگی ۔ لہذا جب تک کوئی شخص زندہ ہے اُس کے پاس مسیح کو قبول کرنے اور ہمیشہ کی زندگی پانے( یوحنا 3باب 16آیت؛ رومیوں 10باب 9-10آیات؛ اعمال 16باب 31آیت) کا دوسرا ، تیسرا، چوتھا ، پانچواں ۔۔۔۔ موقع ہے برزخ (عارضی اور قلیل مدتی سزا کے مقام) کا نظریہ بائبلی بنیاد پر قائم نہیں ہے بلکہ یہ رومن کیتھولک کلیسیا کی طرف سے پیش کردہ نطریہ و روایت ہے ۔

یہ سمجھنے کےلیے کہ مرنے کے بعد غیر ایمانداروں کے ساتھ کیا ہوتا ہے ہمیں مکاشفہ 20باب 11-15آیات کا مطالعہ کرنا ہو گا جو عدالت کے لیے ایک بڑے سفید تخت کے بارے میں بیان کرتی ہیں ۔ اس موقع پر کتابیں کھولی جاتی ہیں "اور جس طرح اُن کتابوں میں لکھا ہوا تھا اُن کے اَعمال کے مطابق مُردوں کا اِنصاف کِیا گیا"۔ اِن کتابوں میں اُن لوگوں کے تصورات اور اعمال درج ہیں جن کی عدالت کی جائے گی اور رومیوں 3باب 20آیت کی مدد سے ہم جانتے ہیں کہ "شرِیعت کے اَعمال سے کوئی بشر اُس کے حضور راست باز نہیں ٹھہرے گا۔" لہذا وہ تمام لوگ جن کی عدالت اُن کے اعمال اور خیالات کی بناء پر کی جاتی ہے وہ جہنم کی سزا پائیں گے ۔ دوسری جانب مسیح پر ایمان رکھنے والوں کی عدالت اعمال ناموں کے مطابق نہیں کی جاتی بلکہ اُن کے نام ایک اور کتاب یعنی " برّہ کی کتاب ِ حیات" ( مکاشفہ 21باب 27آیت) میں درج ملتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خداوند یسوع پر ایمان لائے ہیں اور صرف انہی لوگوں کو فردوس میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی ۔

برّے کی کتاب ِ حیات اس بات کو سمجھنے کی کلید ہے ۔ کوئی بھی شخص جس کا نام اس کتاب میں درج ہے وہ خدا کے اُس خودمختار زندگی بخش فضل کے وسیلہ سے "بنایِ عالَم سے پیشتر اُس میں چُن لِیا " گیا ہے تاکہ اُس کے بیٹے کی دلہن یعنی مسیح کی کلیسیا کا حصہ بنے ۔ ان لوگوں کو نجات کےلیے دوسرے موقعے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اُن کی نجات مسیح کی طرف سے محفوظ کر دی گئی ہے ۔ اُس نے ہمیں چن لیا اور بچایا ہے اور ہمیشہ بچائے رکھے گا ۔ کوئی بھی چیز ہمیں مسیح سے جُدا نہیں کرسکتی ( رومیوں 8باب 39آیت)۔ وہ جن کےلیے اُس نے جان دی ہے نجات پائیں گے کیونکہ وہ اس معاملے کو دیکھ رہا ہے ۔ اُس نے اعلان کیا ہے کہ "جو کچھ باپ مجھے دیتا ہے میرے پاس آ جائے گا اور جو کوئی میرے پاس آئے گا اُسے مَیں ہرگز نکال نہ دُوں گا" اور "مَیں اُنہیں ہمیشہ کی زِندگی بخشتا ہوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا" (یوحنا 10باب 28 آیت)۔ کیونکہ پہلا موقع ہی کافی ہے لہذا ایمانداروں کے لئے نجا ت کے دوسرے موقعے کی ضرورت نہیں ہے ۔

اُن لوگوں کے بارےمیں کیا خیال ہے جو یسوع پر ایمان نہیں رکھتے ۔ اگر اُن کو دوسرا موقع دیا جائے کیا وہ توبہ کرکے یسوع پر ایمان لائیں گے ؟ اس سوال کا جواب "نہیں" ہے کیونکہ مرجانے کے باعث اُن کا دل تبدیل نہیں ہو گا اس لیے وہ ایمان نہیں لائیں گے ۔ اُن کے دل و دماغ خدا کے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں پس روبرو دیکھنے کے باوجود بھی وہ اُسے قبول نہیں کریں گے ۔ یہ بات لوقا 16باب 19-31آیات میں درج امیر آدمی اور لعزر کی کہانی سے واضح ہوتی ہے ۔ اگر کسی شخص کو سچائی سے واقف ہوکر توبہ کرنے کا دوسرا موقع ملنا چاہیے تھا تو وہ امیر آدمی تھا ۔ لیکن گوکہ وہ جہنم کے عذاب میں تھا اُس نے ابرہام سے صرف اتنا ہی کہا کہ وہ لعزر کو اُس کے بھائیوں کے پاس زمین پر بھیجے کہ وہ اُن کو خبر دار کرے تاکہ اُن کو ایسے انجام کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ اُس کے دل میں توبہ کا کوئی تصور نہیں تھا صرف اُس عذاب کے بارےمیں افسوس تھا جہاں اُس نے خود کو پایا تھا ۔ ابرہام کا جواب سب کچھ بیان کرتا ہے "اُس نے اُس سے کہا کہ جب وہ مُوسیٰ اور نبیوں ہی کی نہیں سُنتے تو اگر مُردوں میں سے کوئی جی اُٹھے تو اُس کی بھی نہ مانیں گے " (لوقا 16 باب 31آیت)۔یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ بائبل مقدس کی گواہی اُن لوگوں کی نجات کےلیے کافی ہے جو اِس پر ایمان رکھتے ہیں اور اُن لوگوں کےلیے کوئی اور الہام نجات کا باعث نہیں ہو گا جو بائبل ہی کا انکار کرتے ہیں ۔ پتھر دل کو گوشتین دل بنانے کےلیے دوسرا ، تیسرا یا چوتھا۔۔۔ موقع بھی کافی نہیں ہوگا ۔

فلپیوں 2باب 10-11آیات بیان کرتی ہیں کہ " یسو ع کے نام پر ہر ایک گُھٹناجھکے۔ خواہ آسمانیوں کا ہوخواہ زمینیوں کا ۔ خواہ اُن کا جو زمین کے نیچے ہیں۔ اور خُدا باپ کے جلال کے لیے ہر ایک زُبان اِقرار کرے کہ یسوع مسیح خُداوند ہے"۔اگر چہ نجات کےلیے اُس وقت بہت دیر ہو چکی ہو گی مگر ایک دن ہر انسان یسوع کے سامنے جھکے گا اور یہ جان لے گا کہ وہ خداوند اور نجات دہند ہ ہے ۔ موت کے بعد غیر ایماندار کے پاس عدالت کا سامنا کرنے کے علاوہ کوئی اور موقع نہیں ہوگا ( مکاشفہ 20باب 14-15آیات)۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اسی زندگی میں اُس پر ایمان لانا چاہیے ۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
کیا موت کے بعد نجات کے حصول کا کوئی دوسرا موقع ہوگا؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں