settings icon
share icon
سوال

کیا کلیسیا کے اُٹھا لیے جانے/ریپچر کے بعد نجات حاصل کرنے کا دوسرا موقع ہوگا؟

جواب


بائبل مُقدس کے کچھ مفسرین یہ ایمان رکھتے ہیں کہ ریپچر کے بعد نجات حاصل کرنے کا قطعی طور پر کوئی موقع نہیں ہوگا۔ بہرحال پوری بائبل کے اندر کوئی ایک بھی ایسا مقام نہیں ہے جہاں پر یہ لکھا ہو اہو یا اِس بات کی طرح ہلکا سا اشارہ بھی کیا گیا ہو۔ کچھ ایسے لوگ ہونگے جوآخری مصیبت کے دوران یسوع پر ایمان لائیں گے۔ 144, 000 یہودی گواہ (مکاشفہ 7باب4آیت) دراصل یہودی ایماندار ہیں۔ اگر کوئی بھی آخری مصیبت کے دوران یسوع پر ایمان نہیں لا سکتا تو پھر اُس دور میں لوگوں کے مسیح پر ایمان کی وجہ سے سر کیوں قلم کئے جا رہے ہیں۔ کلامِ مُقدس کا کوئی بھی حوالہ ریپچر یعنی کلیسیا کے اُٹھا لیے جانے کے بعد لوگوں کے ایمان لانے کے معاملے پر بحث نہیں کرتا۔ جبکہ بہت سارے ایسے حوالہ جات ہیں جو اِس بارے میں مثبت رائے پیش کرتے نظر آتے ہیں۔

ایک اور نظریہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو ریپچر سے پہلے انجیل کی بشارت کو سُنتے ہیں اور اُس کو رَد کر دیتے ہیں وہ نجات حاصل نہیں کر سکتے ۔ اور یہ کہ وہ لوگ جو آخری مصیبت کے دوران ایمان لاتے ہیں اُنہیں نے اُس مصیبت کے دور سے پہلے انجیل کی بشارت کو کبھی نہیں سُنا تھا۔ وہ اِس بات کی پشت پناہی کے لیے 2 تھسلنیکیوں 2باب9-11 آیات میں سے کچھ حصے کی اپنے انداز سے تفسیر کر کےاستعمال کرتے ہیں۔ یہ آیات بیان کرتی ہیں کہ مخالفِ مسیح کی "آمد ہر طرح کی جھوٹی قدرت اور نشانوں اور عجیب کاموں کے ساتھ اور ہلاک ہونے والوں کے لیے ناراستی کے ہر طرح کے دھوکے کے ساتھ ہوگی اِس واسطے کہ اُنہوں نے حق کی محبت کو اختیار نہ کیا جس سے اُن کی نجات ہوتی۔"پس یہاں پر وہ اِس بات پر زور دیتے ہیں کہ "اِس واسطے کہ اُنہوں نے حق کی محبت کو اختیار نہ کیا جس سے اُن کی نجات ہوتی۔"(آیت 10)۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ وہ سب جنہوں نےریپچر سے پہلے کلام کے حوالے سے اپنے دِلوں کو سخت کر لیا ہوگا وہ ایسے ہی رہیں گے۔ اور یہ بھی کہ مخالفِ مسیح بہت سارے لوگوں کو گمراہ کرے گا (متی 24باب5آیت)۔ لیکن وہ جنہوں نے حق کی محبت کو اختیار نہ کیا" ضروری نہیں وہ لوگ ہوں جنہوں نے ریپچر سے پہلے کلامِ مُقدس کو سُنا اور اُس پر ایمان نہ لائے۔ یہ کوئی بھی شخص ہو سکتا ہے جس نے کسی بھی وقت پر انجیل کے پیغام کو سُنا لیکن وہ اُس پر ایمان نہ لایا بلکہ اُسے رَد کر دیا۔ پس اِس نظریے کی پشت پناہی کرنے کے لیے ہمارے پاس کلامِ مُقدس کا کوئی بھی واضح حوالہ موجود نہیں ہے۔

مکاشفہ 6باب9-11آیات اُن لوگوں کے بارے میں بات کرتی ہیں جو آخری مصیبت کے دوران شہید کئے گئے "وہ خُدا کے کلام کے سبب سے اور گواہی پر قائم رہنے کے باعث مارے گئے تھے۔"یہ شہیدان بڑے واضح طور پر اُس سب کی وضاحت کرتے ہیں جو اُنہوں نے آخری مصیبت کے دوران دیکھا اور وہ انجیل کی بشارت پر ایمان لائیں گے اور دوسروں کو بھی توبہ کر کے اُس پر ایمان لانے کی طرف بلائیں گے۔ مخالفِ مسیح اور اُس کے پیروکار اُن کے اِس بشارتی کام کو پسند اور برداشت نہیں کریں گے لہذا وہ اُنہیں قتل کر دیں گے۔ یہ سبھی شہیدان وہی لوگ ہونگے جو کلیسیا کے اُٹھائے جانے یعنی ریپچر سے پہلے موجود تھے، وہ اُس وقت تک تو ایماندار نہیں تھے لیکن کلیسیا کے اُٹھائے جانے کے بعد وہ ایمان لے آئے۔ اِس لیے عین ممکن ہے کہ ریپچر یعنی کلیسیا کے اُٹھا لئے جانے کے بعد بھی لوگوں کے لیے یسوع پر ایمان لانے کا موقع ہوگا۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا کلیسیا کے اُٹھا لیے جانے/ریپچر کے بعد نجات حاصل کرنے کا دوسرا موقع ہوگا؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries