settings icon
share icon
سوال

کیا کوئی شخص مکاشفہِ عام کے وسیلہ سے نجات پا سکتا ہے؟

جواب


مکاشفہ ِ عام کی تعریف کچھ یو ں کی جا سکتی ہے "سب زمانوں اور سب علاقوں کے سب لوگوں کےلیے خدا کی ذات کا وہ مکاشفہ جو اس بات کو عیاں کرتا ہے کہ خدا موجود ہے اور یہ کہ وہ حکمت والا، قدرت والا اور اعلیٰ و ارفع ہے "۔ 19زبور 1-4آیات اور رومیوں 1باب 20آیت جیسےدیگر حوالہ جات واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ خدا کے بارےمیں کچھ باتیں ہمارے ارد گرد موجود اُس کی تخلیق کردہ چیزوں کے وسیلہ سے سمجھی جا سکتی ہیں۔ مخلوقات خدا کی قدرت اور عظمت کو ظاہر کرتی ہیں مگر یہ مسیح کے وسیلہ سے نجات کے منصوبے کو ظاہر نہیں کرتیں۔ نجات صر ف اور صرف یسوع کے وسیلے میسر ہے اُس کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں بخشا گیا ( اعمال 4باب 12آیت) لہذا کوئی شخص مکاشفہ عام کے وسیلہ سے نجا ت نہیں پا سکتا۔ عام طور پر یہ سوال " کیا کوئی شخص مکاشفہِ عام کے وسیلہ سے نجات پا سکتا ہے؟ "اِس طرح بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ "اُن لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا جنہوں نے انجیل کے بارے میں کبھی سنا تک نہیں؟ "

افسو س کی بات یہ ہے کہ ابھی بھی دنیا کے کچھ ایسے حصے ہیں جن میں بائبل ، مسیح یسوع کی انجیل یا مسیحی سچائی کے بارےمیں سیکھنے کا کوئی بھی ذریعہ بالکل موجود نہیں ہے ۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ لوگ مریں گے تو اِن کے ساتھ کیا ہو گا ؟ کیا خدا کے لیے کسی ایسے شخص کوابدی عذاب میں مبتلا کرنا جائز ہے جس نے انجیل یا مسیح یسوع کے بارے میں کبھی سُنا تک نہیں ؟ کچھ لوگ یہ تصور پیش کرتے ہیں کہ خدا اُن لوگوں کی عدالت مکاشفہ ِ عام کی بنیاد پر کرتا ہے جنہوں نے مسیح کے بارے میں کبھی نہیں سُنا ۔ مفروضہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مکاشفہِ عام کے ذریعے سے خدا کے بارےمیں معلوم ہونے والی باتوں پر حقیقی ایمان رکھتا ہے تو خدا اُس شخص کی عدالت اِس ایمان کی بنیاد پر کرے گا اور اُسے فردوس میں داخل ہونے دے گا ۔

مسئلہ یہ ہے کہ کلام ِ مقدس بیان کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص مسیح میں نہیں ہے تو " اُس پر سزا کا حکم ہو چکا " ( یوحنا 3باب 18آیت)۔ 14زبور 3آیت کا حوالہ دیتے ہوئے رومیوں 3باب 10-12آیات پرانی فطرت کو عالمگیر طور پر گناہ آلود قراردیتی ہیں : " کوئی راست باز نہیں ۔ ایک بھی نہیں۔ کوئی سمجھ دار نہیں۔ کوئی خُدا کا طالب نہیں۔ سب گمراہ ہیں سب کے سب نکمے بن گئے ۔ کوئی بھلائی کرنے والا نہیں ۔ ایک بھی نہیں۔" بائبل کے مطابق خدا کے بارےمیں ( مکاشفہ ِ عام کے وسیلہ سے ) علم تو دستیاب ہے مگر بنی نو ع انسان اس علم کو اپنی پسند کے مطابق بگاڑ لیتی ہے ۔ رومیوں 1باب 21- 23 آیات بیان کرتی ہیں " اِس لئے کہ اگرچہ اُنہوں نے خُدا کو جان تو لِیا مگر اُس کی خُدائی کے لائق اُس کی تمجید اور شکرگزاری نہ کی بلکہ باطل خیالات میں پڑ گئے اور اُن کے بے سمجھ دِلوں پر اندھیرا چھا گیا۔ وہ اپنے آپ کو دانا جتا کر بیوقوف بن گئے۔ اورغیرفانی خُدا کے جلال کو فانی اِنسان اورپرندوں اور چوپایوں اورکیڑے مکوڑوں کی صورت میں بدل ڈالا"۔ خدا کے بغیر لوگ بغاوت، اندھیرے اور بُت پرستی کی حالت میں ہیں ۔

انسان مکاشفہ ِ عام کی موجودگی کے باوجود بغاوت کرتا ہے ۔ گنہگار انسان جان بوجھ کر اس بات کو مسترد کرنے اور اس سچائی سے بچنے کے طریقے ڈھونڈتا ہے جو فطرت کے وسیلہ سے خدا کے بارے میں معلوم ہو سکتی ہے ( دیکھیں یوحنا 3باب 19آیت)۔ چونکہ فطرتی طور پر انسان خدا کی تلاش نہیں کرنا چاہتا لہذا خدا کو اُسے تلاش کرنا تھا اور یہی وہ کام ہے جسے اُس نے مسیح یسوع کی ذات کے وسیلہ سے سر انجام دیا ہے " اِبنِ آدم کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے" ( لوقا 19باب 10آیت)۔

انجیل کےلیے ہماری ضرورت کی عمدہ مثال اعمال 10 باب میں ملتی ہے ۔ کر نیلیس خدا کے بارے میں جانتا تھا اور وہ " دِین دار تھا اور اپنے سارے گھرانے سمیت خُدا سے ڈرتا تھا اور یہودِیوں کو بہت خیرات دیتا اور ہر وقت خُدا سے دُعا کرتا تھا" ( اعمال 10باب 2آیت)۔ کیا خدا نے کرنیلیس کو اُس کے محدود علم پر مبنی دین داری کے باعث نجات دی تھی ؟نہیں۔ کرنیلیس کو یسوع کے بارے میں سُننے کی ضرورت تھی ۔ خد انے کر نیلیس کو ہدایت کی کہ وہ پطرس رسول سے رابطہ کرے اور اُسے اپنے گھر آنے کی دعوت دے ۔ کرنیلیس نے خدا کے حکم کے مطابق عمل کیا اور پطرس رسول اُس کے گھر میں آیا اور کرنیلیس اور اُس کے گھرانے کے سامنے انجیل کا پیغام پیش کیا ۔ کرنیلیس اوراُس کے خاندان نے یسوع مسیح پر ایمان لانے کے وسیلہ سے نجات پائی تھی ( اعمال 10باب 44-48آیات)۔ کوئی بھی شخص یہاں تک کہ کرنیلیس جیسا " نیک " آدمی بھی محض خدا کی موجودگی پر ایمان لانے یا مختلف طرح سے اُس کی تعظیم کرنے کے وسیلہ سے نجات نہیں پاسکتا ۔ نجات کا واحد راستہ یسوع مسیح کی خوشخبری ہے ( یوحنا 14باب 6آیت؛ 4باب 12آیت)

مکاشفہ ِ عام کو لوگوں کے لیے خدا کے وجود کو تسلیم کرنے کے ایک عالمگیر پیغام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ لیکن مکاشفہ ِ عام بذات ِ خود کسی انسان کی مسیح کے وسیلہ سے نجات کی طرف رہنمائی کرنے کے لیے کافی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں انجیل کی منادی کرنا ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے ( متی 28باب 19-20آیات؛ اعمال 1باب 8آیت)۔ رومیوں 10باب 14آیت بیان کرتی ہے " مگر جس پر وہ اِیمان نہیں لائے اُس سے کیونکر دُعا کریں؟ اور جس کا ذِکر اُنہوں نے سُنا نہیں اُس پر اِیمان کیونکر لائیں؟ اور بغیر منادی کرنے والے کے کیونکر سُنیں؟" یسوع مسیح کے وسیلے سے نجات کی خوشخبری پر ایمان لانا ہی نجات کا واحد ذریعہ ہے (یوحنا 3باب 16آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا کوئی شخص مکاشفہِ عام کے وسیلہ سے نجات پا سکتا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries