کیا ایک بار نجات پانا ہمیشہ کے لیے نجات پا لینا ہوتا ہے؟


سوال: کیا ایک بار نجات پانا ہمیشہ کے لیے نجات پا لینا ہوتا ہے؟

جواب:
جب کوئی شخص ایک بار نجات پا لیتا ہے تو کیا وہ ہمیشہ کے لیے نجات پا لیتا ہے؟ جی ہاں، جب کو ئی شخص خُداوند یسوع مسیح کی بطورِ شخصی نجات دہندہ جان لیتا اور قبول کرتا ہے تو اُس کی وجہ سے وہ خُدا کے ساتھ ایک خاص رشتے میں جُڑ جاتا ہے ج اُس کی ابدی نجات اور حفاظت کی ضمانت ہے۔ ہمیں اِس حوالے سے واضح طور پر یہ معلوم ہونا چاہیے کہ نجات محض کوئی دُعا کرنےیا "مسیح کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے" سے بہت زیادہ بڑھ کر ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کو مکمل طور پر خُدا ہی سرانجام دیتا ہے جس کے ذریعے سے ایک غیر نجات یافتہ گناہگار کے گناہ دھوئے جاتے ہیں،اُس کی ذات کی تجدید ہوتی ہے اور وہ رُوح القدس کی قدرت سے نئی پیدایش کا تجربہ کرتا ہے (یوحنا 3 باب3آیت؛ ططس 3باب5آیت)۔ جب نجات کا کام سرانجام پاتا ہے تو خُدا اُس گناہگار کو جسے نجات کے وسیلے معافی حاصل ہوتی ہے ایک نیا دل عطا کرتا ہے اور اُس میں ایک نئی رُوح ڈالتا ہے(حزقی ایل 36باب26آیت)۔ وہ رُوح نجات پانے والے شخص کو تحریک دیتی ہے کہ وہ خُدا کی تابعداری میں چلے (حزقی ایل 36باب 26- 27آیات ؛ یعقوب 2باب26آیت)۔ کلامِ مُقد س کے ایسے بہت سارے حوالہ جات ہیں جو یہ بیان کرتے ہیں کہ نجات ایک ایسا عمل ہے جو خُدا کے ہاتھوں سر انجام پاتا ہے اِس لیے نجات اور رُوحانی تحفظ ابدی ہوتا ہے:

‌أ. رومیوں 8باب30آیت بیان کرتی ہے کہ ، "اورجن کو اُس نے پہلے سے مُقرر کیا اُن کو بلایا بھی اور جن کو بلایا اُن کو راست باز بھی ٹھہرایا اور جن کو راست باز ٹھہرایا اُن کوجلال بھی بخشا۔"یہ آیت بیان کرتی ہے کہ جس گھڑی خُدا ہمیں چُنتا ہے اُسی وقت سے ہم ایسے ہوتے ہیں جیسےہم آسمان پر خُدا کی جلالی حضوری میں موجود ہوں۔نجات پانے کے بعد کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے جو ایک ایماندار کو بالآخر ایک دن خُدا کے حضور میں جلالی حالت میں حاضر ہونے سے روک سکے کیونکہ آسمان پر خُدا نے خود اِس مقصد کی تکمیل کی ہے۔ ایک بار جب کوئی شخص راستباز ٹھہرایا جاتا ہے تو اُس کی نجات کی ضمانت مل جاتی ہے – وہ رُوحانی لحاظ سے اس طرح محفوظ ہے جیسے کہ وہ ابھی سے جلالی حالت میں بدل کر آسمان پر پہنچ گیا ہو۔

‌ب. رومیوں 8باب33-34آیات میں پولس رسول دو بہت اہم سوالات پوچھتا ہے" خُدا کے برگزیدوں پر کون نالش کرے گا؟ خُدا وہ ہے جو اُن کوراست باز ٹھہراتا ہے۔کون ہے جو مجرم ٹھہرائے گا؟ مسیح یسو ع وہ ہے جو مَر گیا بلکہ مُردوں میں سے جی بھی اُٹھااور خُدا کی د ہنی طرف ہے اور ہماری شفاعت بھی کرتا ہے۔" خُدا کی طرف سے چُنے ہوئے لوگوں کو کون مجرم ٹھہرائے گا؟ کوئی بھی نہیں کیونکہ مسیح خود اُن کا وکیل اور اُن کی شفاعت کرنے والا ہے۔ اُن پر کون نالش کرے گا؟ کوئی بھی نہیں کیونکہ مسیح جس نے ہماری خاطری اپنی جان دی تھی وہی کسی کو مجرم ٹھہرانے یا نالش کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ پس شفاعت کرنے والا وکیل اور عدالت کرنے والی ذات ہماری طرف ہے۔

‌ج. ایماندار جب مسیح پر ایمان لاتے ہیں تو نئے سرے سے پیدا ہوتے(راستباز ٹھہرائے جاتے) ہیں (یوحنا 3باب3آیت؛ ططس 3باب5آیت)۔ ایک ایماندار کے لیے اپنی نجات کو کھونا تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب خُدا کی طرف سے راستباز ٹھہرایا گیا شخص ایک بار پھر نا راست ٹھہرا دیا جائے۔ بائبل میں ہمیں ایک بھی جگہ پر ایسی مثال نہیں ملتی جو یہ بیان کرتی ہو کہ کسی ایماندار سے مسیح کے وسیلے نئی پیدایش کو چھینا جا سکتا ہے۔

‌د. رُوح القدس ایمانداروں میں بستا ہے (یوحنا 14باب 17آیت؛ رومیوں 8باب9آیت) اور سب ایمانداروں کو مسیح کے بدن میں بپتسمہ دیتا ہے ( 1 کرنتھیوں 12باب13آیت)۔ اب اگر رُوح القدس جو ایمانداروں میں بستا ہے وہ اُن میں بسنا چھوڑ دے اور ایماندار مسیح کے بدن میں سے خارج اور علیحدہ کئے جائیں تو ہی کوئی ایماندار ناراست ٹھہر سکتا ہے اور کلام میں اِس کی بھی کوئی ایک مثال ہم نہیں دیکھتے۔

‌ه. یوحنا 3باب15آیت بیان کرتی ہے کہ جو کوئی مسیح یسوع پر ایمان لاتا ہے اُس کے پاس "ابدی زندگی" ہے۔ اگر آج آپ مسیح پر ایمان رکھتے ہیں اور آپ کے پاس ابدی زندگی ہے ، اور پھر کل وہ ابدی زندگی کھو جائے تو جان لیں کہ وہ زندگی حقیقت میں ابدی زندگی تھی ہی نہیں۔ پس اگر آپ اپنی نجات کھو دیتے ہیں تو بائبل میں بیان کردہ ابدی زندگی کا وعدہ غلطی پر مبنی ہوگا۔

‌و. حتمی دلیل کے لیے کلامِ مُقدس بذاتِ خود اِس بات کو بہترین انداز میں بیا ن کرتا ہے کہ " کیونکہ مجھ کو یقین ہے کہ خُدا کی جو محبّت ہمارے خُداوند مسیح یسو ع میں ہے اُس سے ہم کو نہ مَوت جُدا کر سکے گی نہ زِندگی۔نہ فرشتے نہ حکومتیں ۔ نہ حال کی نہ اِستقبال کی چیزیں ۔ نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اور مخلوق۔" (رومیوں 8باب 38- 39 آیات)۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ وہی خُدا جس نے آپ کو بچایا ہے بالکل وہی خُدا ہے جو آپ کو قائم بھی رکھتا ہے۔ جب ہم ایک بار بچائے جاتے ہیں تو پھر ہم ہمیشہ کے لیے بچائے جاتے ہیں۔ ہماری نجات بلا شک و شُبہ حتمی طور پر ابد تک محفوظ ہے۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
کیا ایک بار نجات پانا ہمیشہ کے لیے نجات پا لینا ہوتا ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں