settings icon
share icon
سوال

شیطانیت سے کیا مُراد ہے؟

جواب


یہ جزو ِ جملہ " اس جہاں کا خدا" (یا " اس زمانے کا خدا " ) اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے نظریات ، آراء ، مقاصد، اُمیدوں اور نقطہ ِ نظر پر شیطان کا اثرو رسوخ ہے ۔ اس دنیا کے فلسفے ، تعلیم اورتجارت بھی اس کے زیر ِ اثر ہیں ۔ دنیا کے افکار ، نظریات ، قیاس آرائیاں اور جھوٹےمذاہب اُس کے قبضہ میں ہیں اور یہ مذاہب اس کے جھوٹ اور فریب کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں ۔

افسیوں 2باب 2آیت میں شیطان کو " ہوا کی عملداری کے حاکم " کے طور پر بیان کیا جاتا ہے ۔ یوحنا12باب 31 آیت میں وہ " دنیا کا سردار" ہے ۔ اِن جیسے کئی اور القاب شیطان کی صلاحیتوں کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر شیطان کو " ہوا کی عمل داری کا حاکم " کہنا دراصل اس بات کی نشاندہی کرنا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح سے دنیا اور اس میں موجود لوگوں پر حکمرانی کرتا ہے ۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دنیا پر مکمل حکمرانی کرتا ہے کیونکہ خدا ہی خود مختار ہے ۔ بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ اپنی لا محدود حکمت سے خدا نے شیطان کو اس دنیا میں اُن حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کرنے کی اجازت دی ہے جو اُس نے شیطان کےلیے مقرر کر رکھی ہیں ۔ جب بائبل بیان کرتی ہے کہ دنیا شیطان کے اختیار میں ہے تو ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ خدا نے اُسے صرف غیر ایمانداروں پر اختیار بخشا ہے ۔ ایماندار شیطان کے ماتحت نہیں ہیں ( کلسیوں 1باب 13)۔دوسری جانب غیر ایماندار "ابلیس کے پھندے " میں جکڑے ( 2تیمتھیس 2باب 26آیت)، یعنی " اُس شریر کے قبضہ میں " پڑے ( 1یوحنا 5باب 19آیت) اور شیطان کی قید میں ہیں ( افسیوں 2باب 2آیت)۔

لہذا جب بائبل بیان کرتی ہے کہ " اس جہاں کا خدا شیطان ہے " تو بائبل درحقیقت یہ نہیں کہہ رہی ہوتی کہ اُسے حتمی اختیار حاصل ہے ۔ بلکہ بائبل اس تصور کو پیش کر رہی ہوتی ہے کہ شیطان غیر ایماندار دنیا پر ایک مخصوص انداز میں حکمرانی کرتا ہے ۔ 2کرنتھیوں 4باب 4آیت میں غیر ایماندار شیطان کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں کیونکہ اِس جہان کے خُدا نےاُنہیں اَندھا کر دِیا ہے "تاکہ مسیح جو خُدا کی صُورت ہے اُس کے جلال کی خُوشخبری کی روشنی اُن پر نہ پڑے۔ "۔ شیطان کی چالیں دنیا میں جھوٹے فلسفوں کو فر وغ دینے پر مشتمل ہیں – ایسے فلسفے جو غیر ایمانداروں کو انجیل کی سچائی کے حوالے سے اندھا کرتے ہیں ۔ شیطان کے فلسفے وہ قلعے ہیں جن میں لوگ قید ہیں اور اُنہیں یسوع مسیح کےوسیلہ سے آزاد کرنا ضروری ہے ۔

ایسے ہی جھوٹے فلسفوں کی ایک مثال یہ نظریہ ہے کہ انسان مخصوص کام یا اعمال کے ذریعے سے خدا کی خوشنودی حاصل کر سکتا ہے ۔ قریباً ہر جھوٹے مذہب میں خدا کی خوشنودی کے تقاضوں کو پورا کرنا یا ابدی زندگی کو حاصل کرنا ایک اہم موضوع ہے ۔ تاہم اعمال کے وسیلہ سے نجات کمانا بائبل مُقدس کی الہامی تعلیم کے برعکس ہے ۔ ابدی زندگی کا یہ مفت تحفہ صرف اور صرف یسوع مسیح کے وسیلہ سے میسر ہے ( یوحنا 3باب 16آیت؛ 14 باب 6آیت)۔ آپ پوچھیں گے کہ بنی نوع انسان اس مفت تحفے کو حاصل کیونکہ نہیں کرتی ( یوحنا 1باب 12آیت)۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس جہاں کے خدا شیطان نے بنی نو ع انسان کو اپنے تکبر کی پیروی کرنے پر اکسایا ہوا ہے ۔ شیطان اپنا ایجنڈا قائم کرتا ہے اور غیر ایماندار دنیا اُس ایجنڈے کی پیروی کرتی ہے اور اس طرح بنی نوع انسان کو مسلسل دھوکے میں رکھا جارہا ہے ۔ یہ حیرانی کی بات نہیں ہے کہ بائبل مقدس شیطان کو جھوٹا قرار دیتی ہے ( یوحنا 8باب 44آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

شیطانیت سے کیا مُراد ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries