شیطان آسمان سے کیسے، کیوں اور کب گرایا گیا؟


سوال: شیطان آسمان سے کیسے، کیوں اور کب گرایا گیا؟

جواب:
آسمان سے شیطان کے گرائے جانے کو علامتی انداز میں یسعیاہ 14 باب 12-14آیات اور حزقی ایل 28 باب 12-18آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ حوالہ جات خاص طور پر صُور اور بابل کے بادشاہوں کو بیان کرتے ہیں، لیکن یہ حوالہ جات اُن بادشاہوں کے پیچھےکار فرما رُوحانی قوت یعنی ابلیس کو بھی پیش کرتے ہیں۔ یہ حوالہ جات بیان کرتے ہیں کہ شیطان کو کیوں گرایا گیا، لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اُسے کب گرایا گیا۔ وہ بات جو ہم جانتے ہیں یہ ہے کہ فرشتوں کو زمین سے پہلے تخلیق کیا گیا(ایوب 38 باب 4-7آیات)۔ شیطان کوباغِ عدن میں آدم اور حوا کی آزمائش سے پہلے گرایا گیا(پیدایش 3 باب 1-14 آیات)۔ اِس لحاظ سے شیطان فرشتوں کی تخلیق کے بعد اور باغِ عدن میں آدم اور حوا کی آزمائش سےپہلے کسی وقت میں گرایا گیا۔کلامِ مُقدس اِس حوالے سے کچھ بھی نہیں بتاتا کہ شیطان کو آدم اور حوا کی آزمائش سے چند گھنٹے پہلے گرایا گیا، چند دن پہلے گرایا گیا یا پھر چند سال پہلے گرایا گیا۔

ایوب کی کتاب ہمیں بتاتی ہے، کہ شیطان کو اُس وقت کم از کم آسمان اور خُدا کے تخت تک رسائی حاصل تھی۔ "اور ایک دن خُدا کے بیٹے آئے کہ خُداوند کے حضُور حاضر ہوں اور اُن کے درمیان شیطان بھی آیا۔ اور خُداوند نے شیطان سے پُوچھا کہ تُو کہاں سے آتا ہے؟ شیطان نے خُداوند کو جواب دیا کہ زمین پر اِدھر اُدھر گھومتا پھرتا اور اُس میں سیر کرتا ہوا آیا ہوں"(ایوب 1 باب 6-7 آیات)۔ اُس وقت ظاہری طور پر ابھی شیطان زمین اور آسمان کے درمیان پھر رہا تھا، خُدا سے برائے راست بات کر رہا اور اپنی سرگرمیوں کے بارے میں جواب دے رہا تھا۔ خُدا نے اِس رسائی کو ختم کر دیا ہے یا نہیں یہ معاملہ ابھی تک کئی حلقوں میں زیرِ بحث ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ شیطان کی رسائی یسوع مسیح کی موت کے وقت ختم ہو گئی تھی۔ دیگر مفسرین کا ماننا ہے کہ شیطان کی آسمان پر رسائی کا خاتمہ آسمان پر آخری دور کی جنگ کے دوران ہو گا۔

شیطان کو آسمان پر سے کیوں گرایا گیا؟ شیطان کو اُس کے تکبر کی وجہ سے گرایا گیا۔ وہ خُدا کا خادم نہیں رہنا چاہتا تھا بلکہ خود خُدا بننا چاہتا تھا۔یسعیاہ 14 باب 12- 15آیات اور حزقی ایل 28 باب 12-15 آیات میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ابلیس کو ایک انتہائی خوبصورت فرشتے کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو اِن حوالوں کے اندر خود مرکزیت کا شکار ہے اور اِن حوالوں میں وہ بار بار "مَیں کرونگا۔۔۔۔۔" جیسے دعوؤں کو بار بار استعمال کرتا ہے۔ شیطان تمام فرشتوں میں سب سے بڑا ، ممسوح کرُوبی، خُدا کی تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ خوبصورت فرشتہ تھا، لیکن وہ اپنے عہدے سے مطمین نہیں تھا۔ اِس لیے شیطان کی خواہش تھی کہ وہ خُدا بنے، وہ خُدا کو "تخت سے ہٹاکر" کائنات کی حکمرانی پر قابض ہونا چاہتا تھا۔شیطان خُدا بننا چاہتا تھا اور اِس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اُس نے باغِ عدن میں آدم اور حوا کو گناہ میں گرانے کے لیے بھی اِسی خواہش کا جھانسا دے کر اُنہیں بہکایا (پیدایش 3 باب 1- 5آیات)۔ شیطان آسمان سے کیسے گرایا گیا؟ حقیقت میں گرائے جانے کی اصطلاح پورا معنی ادا نہیں کرتی۔یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ خُدا نے شیطان کو آسمان سے نکال دیا (یسعیاہ 14 باب 15آیت؛ حزقی 28 باب 16-17 آیات)۔ شیطان کو آسمان سے گرایا نہیں گیا بلکہ اُسے نکالا گیا ہے۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
شیطان آسمان سے کیسے، کیوں اور کب گرایا گیا؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں