settings icon
share icon
سوال

زندگی کے تقدس پر یقین رکھنے سے کیا مُراد ہے ؟

جواب


"زندگی کے تقدس" کا فقرہ اِس عقیدے کی عکاسی کرتا ہے کہ چونکہ بنی نوع انسان کو خدا کی صورت و شبیہ پر بنایا گیا ہے ( پیدایش 1باب 26-27 آیات) لہذا انسانی زندگی میں فطری طور پر ایک مقدس صفت ہے جس کا ہر وقت تحفظ اور احترام کیا جانا چاہیے۔ جبکہ خدا نے بنی نو ع انسان کو دوسرے جانداروں کو مارنے اور خوراک کے لیے استعمال کرنے کا اختیار دیا ہے (پیدایش 9باب 3آیت) مگر دوسرے انسانوں کو قتل کرناواضح طور پر منع ہے اور اس کی سزا موت ہے ( پیدایش 9باب 6آیت)۔

بنی نو ع انسان کو خُدا کی صورت و شبیہ پر تخلیق کیا گیا ہے لیکن گناہ نے اُس شبیہ کو مسخ کر دیا ہے۔ گناہ آلودہ انسان میں فطری طور پر کچھ بھی مقدس نہیں ہے۔ انسانی جان کا تقدس اس حقیقت کی وجہ سے نہیں ہے کہ ہم نہایت اعلیٰ اور اچھی مخلوق ہیں۔ بنی نوع انسان پر زندگی کے تقدس کا اطلاق صرف اس ایک وجہ سے ہوتا کہ خدا نے ہمیں اپنی شبیہ پر پیدا کیا اور ہمیں دیگر تمام جانداروں سے ممتاز کیا ہے ۔ اگرچہ گناہ کی وجہ سے وہ شبیہ اصل میں خراب ہو گئی ہے لیکن اُس کی شبیہ اب بھی انسان میں موجود ہے۔ ہم خدا کے مشابہ ہیں اور اس مشابہت سے مراد یہ ہے کہ انسانی زندگی کے ساتھ ہمیشہ عزت و وقار بھر اسلوک کیا جائے۔

زندگی کے تقدیس کا مطلب یہ ہے کہ بنی نو ع انسان باقی مخلوقات سے زیادہ پاک ہے۔ انسانی زندگی بالکل اِن معنوں میں پاک نہیں ہے جن معنوں میں خدا کی ذات پاک ہے۔ صرف خُدا ہی اپنی ذات میں پاک ہے ۔ انسانی زندگی خدا کی طرف سے تخلیق کردہ باقی تمام جانداروں میں محض"نمایاں " ہونے کے لحاظ سے پاک ہے ۔ بہت سے لوگ زندگی کے تقدس کے عقیدے کا اسقاط حمل اور رحمدلانہ/سہل موت دینے جیسے مسائل پر اطلاق کرتے ہیں اور یقیناً اِس کا اِن مسائل پر اطلاق ہوتا ہے لیکن اس کا دیگر بہت سی باتوں پر بھی اطلاق ہوتاہے۔ زندگی کا تقدس ہمارے لیے ایسی ہر طرح کی برائی اور ناانصافی کے خلاف لڑنے کی ترغیب ہونا چاہیے جو انسانی زندگی کے خلاف جاری ہیں۔ تشدد، بُرا سلوک، جبر، انسانی سمگلنگ اور دیگر بہت سی برائیاں بھی زندگی کے تقدس کی پامالی ہیں۔

زندگی کے تقدس کے علاوہ سب سے بڑا حکم اِن باتوں کے خلاف ایک بہت اچھی دلیل ہے۔ متی 22باب 37-39آیات میں خُداوند یسوع فرماتا ہے کہ "خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے مُحبّت رکھ۔ بڑا اور پہلا حکم یہی ہے۔ اور دُوسرا اِس کی مانِند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبّت رکھ۔"اِس حکم میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے اعمال کو خدا کے لیے اور دوسروں کے لیے محبت کے وسیلہ سے سرگرم ہونا چاہیے ۔ اگر ہم خدا سے محبت رکھتے ہیں تو ہم خُدا کے منصوبے کے ایک حصے کے طوراُس کی مرضی کو پورا کرنے کے لیے اپنی زندگیوں کی تب تک قدر کریں گے جب تک یہ طے نہیں ہو جاتا کہ ہماری موت اُس کی مرضی کو بہتر طور پر پورا کرتی ہے ۔ ہم اُس کے لوگوں سے محبت رکھیں گے اور اُن کی فکر کریں گے (گلتیوں 6باب 10آیت؛ کلسیوں 3باب 12-15آیات)۔ ہم بوڑھے اور بیمار لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھیں گے۔ ہم دوسروں کو نقصان سے بچائیں گے – خواہ اسقاط حمل ہو، رحمدلانہ موت دینا ہو ، انسانی سمگلنگ ہو یا اور طرح کا بُر اسلوک ہی کیوں نہیں ۔ اگرچہ زندگی کے تقدس کا عقیدہ اِن کاموں کی بنیاد ہو سکتا ہے مگر محبت کو اِ ن کی اصل تحریک ہونا چاہیے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

زندگی کے تقدس پر یقین رکھنے سے کیا مُراد ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries