settings icon
share icon
سوال

تقدیس کیا ہے؟مسیحی تقدیس سے کیا مُراد ہے؟

جواب


تقدیس ہمارے لیے خدا کی مرضی ہے ( 1تھسلنیکیوں 4باب 3آیت)۔ تقدیس کے لفظ کا تعلق لفظ مقدس سے ہے ؛ یہ دونوں الفاظ پاکیزگی سے متعلق ہیں ۔ کسی چیز کو " پاک " کرنے سے مراد اُسے خاص مقصد کے تحت استعمال کے لیے الگ/مخصوص کرنا ہے ؛ کسی شخص کو " پاک " کرنے سے مراد اُسے مقدس بنانا ہے۔

یسوع نے یوحنا 17باب میں تقدیس /پاکیزگی کے بارے بہت کچھ بیان کیا ہے ۔ 16آیت میں یسوع فرماتا ہے "جس طرح مَیں دُنیا کا نہیں وہ بھی دُنیا کے نہیں۔"اور اس درخواست سے پہلے وہ فر ماتا ہے کہ "اُنہیں سچائی کے وسیلہ سے مُقدس کر ۔ تیرا کلام سچائی ہے" ( 17آیت)۔ مسیحی علمِ الہیات کے مطابق تقدیس خدا میں یا خُدا کیلئے علیحدگی/مخصوصیت کی ایک حالت ہے ؛ تمام ایماندار جب نئی پیدایش کے وسیلہ سے خدا سے پیدا ہوتے ہیں تو وہ اس علیحد گی کی حالت میں داخل ہوتے ہیں: "لیکن تم اُس کی طرف سے مسیح یسو ع میں ہو جو ہمارے لئے خُدا کی طرف سے حکمت ٹھہرا یعنی راست بازی اور پاکیزگی اور مخلصی " (1کرنتھیوں 1باب 30آیت)۔ اس آیت میں بیان کردہ تقدیس ایمانداروں کی ایک ہی بار ہمیشہ کےلیے خدا میں اور خُدا کے لیے علیحدگی ہے۔ یہ ہماری نجات اور مسیح کے ساتھ ہمارے تعلق کا ایک پیچیدہ حصہ اور وہ کام ہے جیسے خدا خود سر انجام دیتا ہے ۔ماہرینِ علم ِ الہیات خدا کے حضور اس تقدیس کی حالت کوکبھی کبھار"مسیح پر ایمان کے وسیلہ سے خدا کے فرزند کی حیثیت سے حاصل کردہ مقام" کے طور پر بیان کرتے ہیں؛ یہ راستباز ٹھہرائے جانے کی طرح ہی ہے ۔

اگرچہ ایمان لانے کے باعث ہم پاک ٹھہرائے گئے ہیں ( مسیح کے خون کے وسیلہ سے " ہر گناہ سے آزاد ہیں " اعمال 13باب 39آیت)لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہم پھر بھی گناہ کرتے ہیں ( 1یوحنا 1باب 10آیت)۔ یہی وجہ ہے بائبل تقدیس کے عمل کو خدا میں علیحدگی کے عملی تجربے کے طور پر بھی بیان کرتی ہے ۔"بتدریخ تقدیس جسے بعض اوقات "تجربانی " تقدیس کا نام بھی دیاجاتا ہے کسی ایماندار کی زندگی میں خدا کے کلام کی پیروی کا نتیجہ ہے ۔ یہ خداوند میں نشو و نما پانے ( 2پطرس 3باب 18آیت) یا رُوحانی پختگی حاصل کرنے کی مانند ہے ۔ خدا نے ہمیں مسیح کے ہمشکل بنانے کا عمل شروع کیا تھا اور وہ اُسے جاری رکھے ہوئے ہیں (فلپیوں 1باب 6آیت)۔ ایماندار اس قسم کی تقدیس کی سچے دل سے پیروی کرتے ہیں ( 1پطرس1باب 15آیت؛ عبرانیوں 12باب 14آیت) اور کلام کے اطلاق سے اسے موثر بناتے ہیں ( یوحنا 17باب 17آیت)۔

بتدریخ تقدیس کے عمل کے پیچھے ایمانداروں کو اُس مقصد کےلیے الگ کرنے کا تصور پایا جاتا ہے جس کےلیے اُن کو دنیا میں بھیجا گیا ہے :"جس طرح تُونے مجھے دُنیا میں بھیجا اُسی طرح مَیں نے بھی اُنہیں دُنیا میں بھیجا۔ اور اُن کی خاطر مَیں اپنے آپ کو مُقدّس کرتا ہوں تاکہ وہ بھی سچائی کے وسیلہ سے مُقدّس کئے جائیں"( یوحنا 17باب 17-19آیات)۔ خدا کے مقصد کےلیے یسوع کا خود کو الگ/مخصوص کر لینا ہمارے الگ کیے جانے کی بنیاد اور شرط دونوں ہے ( دیکھیں یوحنا 10باب 36آیت)۔ ہمیں پاک کیا جاتا اور بھیجا جاتا ہے کیونکہ اُسے بھی بھیجا گیا تھا ۔ ہمارے خداوند کی تقدیس کا عمل ہماری تقدیس کے عمل کےلیے درکار قوت اور نمونہ ہے ۔ بھیجنا اور تقدیس کرنا لازم و ملزوم ہیں ۔ اس وجہ سے ہم " مقدسین" (یونانی میں hagio) یا "مقدس کئے گئے " کہلاتے ہیں ۔ نجات سے پہلے کا ہمارا طرز ِ عمل اس بات کی گواہی تھا کہ ہم دنیا میں خدا سے جُدا تھے لیکن اب ہمارا طرزِ عمل دنیا سے الگ اور خدا کے حضور موجود ہونے کی گواہی ہونا چاہیے ۔وہ جن کو اُس نے " ہمیشہ کے لئے کامل کر دِیا ہے" ( عبرانیوں 10باب 14آیت)درجہ بدرجہ ہر زور مسیح کی مانند بنتے جاتے ہیں ۔

لفظ "تقدیس " کو کلام ِ مقدس میں جس تیسرے مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے وہ " مکمل " یا "حتمی" تقدیس ہے ۔ یہ عزت و جلال کی حالت اختیار کرنے کی مانند ہے ۔ پولس 1تھسلنیکیوں 5باب 23آیت میں دُعا کرتا ہے "خُدا جو اِطمِینان کا چشمہ ہے آپ ہی تم کو بالکل پاک کرے اور تمہاری رُوح اور جان اور بدن ہمارے خُداوند یسوع مسیح کے آنے تک پُورے پُورے اور بے عیب محفوظ رہیں "۔ پولس رسول مسیح کو "جلال کی اُمید " کے طور پر بیان کرتے ہوئے مسیح کے جلالی ظہور کو ہماری جلالی حالت کے ساتھ جوڑتا ہے :"جب مسیح جو ہماری زِندگی ہے ظاہر کِیا جائے گا تو تم بھی اُس کے ساتھ جلال میں ظاہر کئے جاؤ گے" ( کلسیوں 3باب 4آیت)۔ یہ جلالی حالت ہر لحاظ سے مکمل پاکیزگی اور گناہ سے ہماری حتمی جُدا ئی کی حالت ہو گی ۔ "اِ تنا جانتے ہیں کہ جب وہ ظاہر ہو گا تو ہم بھی اُس کی مانند ہوں گے کیونکہ اُس کو وَیسا ہی دیکھیں گے جیسا وہ ہے " ( 1یوحنا 3باب 2آیت)۔

مختصر یہ کہ " تقدیس " ایک یونانی لفظ ہَیگیاس موس(hagiasmos) کا ترجمہ ہے جس کا مطلب "پاکیزگی " یا " علیحدگی " ہے ۔ ماضی میں خدا نے ہمیں مسیح کے وسیلہ سے ایک ہی بار ہمیشہ کےلیے راستباز ٹھہرایا اور پاکیزگی عطا کی تھی ۔ اب خدا ہمیں پختہ ہونے ، عملی اور بتدریج پاکیزگی میں ترقی کرنے میں رہنمائی کرتا ہے ۔ اور مستقبل میں خدا ہمیں جلالی ، مستقل اور حتمی پاکیزگی بخشے گا ۔ تقدیس کے یہ تینوں مراحل ایماندار کو گنا ہ کی سزا سے الگ کرتے ہوئے ( راستبازی ) گناہ کی قوت سے چھڑاتے ہوئے ( پختگی ) اور گناہ کی موجودگی سے دور لے جاتے ہوئے (عزت و جلال) کے لیے الگ کر تے ہیں ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

تقدیس کیا ہے؟مسیحی تقدیس سے کیا مُراد ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries