settings icon
share icon
سوال

اگر آپ کو اپنی نجات کے حوالے سے شک ہے تو کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ آپ حقیقی طور پر نجات یافتہ نہیں ہیں؟

جواب


زیادہ تر ایماندار کسی نہ کسی وقت اپنی نجات کے بارے میں شک کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اس شک کی بہت سی واجب اور غیر واجب وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ اگر آپ اپنی نجات کے بارےمیں شک کا شکار ہیں تو آپ اپنی یقین دہانی، شکوک و شبہات کو دُور کرنے اور خدا کے وعدوں پر قائم رہنے کےلیے کچھ اقدام اُٹھا سکتے ہیں ۔

سب سے پہلے اس بات کو جاننا بہتر ہوگا کہ آپ کا شکوک و شبہات میں مبتلا ہونا یا نہ ہونا آپ کی نجات کا تعین نہیں کرتا ہے ۔ کچھ حقیقی ایماندار شک کے ساتھ جد و جہد کر رہے ہوتے ہیں جبکہ کچھ ایسے غیر ایماندار بھی ہیں جو خود کو نجات یافتہ خیال کرتےہیں اور اُنکوکبھی شک کا سامنا نہیں ہوتا ( لیکن ایک دن اچانک وہ اس نیند سے بیدار ہوں گے – دیکھیں متی 7باب 21-23آیات)۔ لہذا یہ کوئی خود کار عمل نہیں ہے کہ شک کی موجودگی نجات کے نہ ہونے کا ثبوت ہے یا یہ کہ شک کی عدم موجودگی نجات کی تصدیق کرتی ہے ۔

لوگوں کی زندگی میں گناہ کی موجودگی اُن کی نجات کے بارے میں شک پیدا کرنے کا باعث ہوتی ہے ۔ عبرانیوں 12باب 1آیت بیان کرتی ہے کہ گناہ ہمیں " آسانی سے الجھا لیتا ہے "۔ بہت سے سچے مسیحی "اخلاقی کمزوری" جو معمو ل کے(عادتاً کئے جانے والے) گناہوں میں سے ایک ہے کے خلاف جدو جہد کرتے ہیں اوریہ چیز اپنی نجا ت کے بارے میں اُنہیں شک میں مبتلاکر سکتی ہے۔ یہاں اس بات کو جاننا ضروری ہے کہ مسیح میں نئی پیدایش کے حامل ہونے کے باوجود بھی ہر مسیحی گناہ کرتا ہے ۔ "ہم سب کے سب اکثر خطا کرتے ہیں " ( یعقوب 3باب 2آیت)۔ اس دنیا میں موجود کوئی بھی انسان بے خطا کامل حالت تک نہیں پہنچ سکتاہے ۔ تاہم ایماندارکا گناہ کی جانب رویہ اور اس کے لیےردّعمل دوسرے لوگوں کی نسبت مختلف ہوتا ہے ۔ جیسا کہ ایڈرین راجر نے کہا تھا کہ "نجات سے پہلے مَیں گناہ کی جانب بھاگتا تھا ؛ اور اب اُس سے دُور بھاگتا ہوں ۔ اور اگر مَیں ناکام ہو جاؤں تو مَیں دوبارہ مُڑتا ہوں اور پھر اُس سے دُور بھاگنا شروع کر دیتا ہوں "(“Assurance of Salvation,” www.lwf.org/discover-jesus/assurance-of-salvation, accessed 4/7/20).۔

یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کسی شخص کی زندگی میں گناہ کی موجودگی اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ وہ نجات یافتہ نہیں ہے ۔ بائبل صاف طور پر بیان کرتی ہے کہ جانتےبوجھتے ہوئے گناہ کرنا یا اپنے گناہوں پرنہ پچھتا نا اور توبہ نہ کرنا غیر تبدیل شدہ دل کی نشاندہی کرتا ہے ( دیکھیں 1یوحنا 3باب 6 اور 9آیت؛ رومیوں 6باب 1-2 آیات)۔ اگر آپ ایک ایسا طرزِ زندگی اپنائے ہوئے ہیں جسے بائبل گناہ آلودہ ہونے کے باعث نا پسند کرتی ہے تو اس صورت میں یہ ایک روحانی مسئلہ ہے ۔ کیا مسیحی گناہ کرتے ہیں ؟ہاں ۔ کیا وہ جان بوجھ کر بھی گناہ کرتے رہتے ہیں ؟ نہیں ۔

اگر آپ اپنی زندگی میں موجود گناہ کے باعث اپنی نجات پر شک کرتے ہیں تو خدا کے سامنے اِن گناہوں کا اعتراف کریں اور یسوع مسیح کے نام سے اُس سے معافی مانگیں ۔ اس کے بعد ایسے اقدام اُٹھائیں کہ آپ گناہ کو دہرانے کے عمل سے بچ سکیں :"پس توبہ کے موافق پھل لاؤ " ( لوقا 3باب 8 آیت)۔ یہ حقیقت کہ آپ اپنی زندگی میں گناہ کو پہچانتے اور اِس کے خلاف جد و جہد کرتے ہیں اس بات کا ثبوت ہے کہ رُوح القدس آپ کی زندگی میں کام کر رہا ہے ۔آپکو چاہیے کہ رُوح القدس کے اس کام میں اُس کا ساتھ دیں ۔

ایک اور وجہ جس سے لوگوں کو اپنی نجات کے بارے میں شک ہوتا ہے وہ اُن کی زندگی میں رُوحانی کاموں کی عدم موجودگی ہے ۔ مسیحی زندگی محض گناہ کو ترک کرنے سے کہیں زیادہ ہے ؛ یہ اچھائی(اچھے اعمال کی انجام دہی) پر مشتمل ہے ۔ یسوع مسیح نے فرمایا ہے کہ " ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے " ( متی 7باب 17آیت) اور پولس رسول لکھتا ہے کہ "ہمارے لوگ بھی ضرورتوں کو رفع کرنے کے لئے اچھے کاموں میں لگے رہنا سیکھیں تاکہ بے پھل نہ رہیں۔" ( ططس 3باب 14آیت)۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی زندگی میں جب " پھل " کا جائزہ لیتے ہیں تو اِس کی کمی کے باعث شک کرتے ہیں کہ آیا وہ حقیقی طور پر نجات یافتہ ہیں یا نہیں ۔ اُن کی یہ بدگمانی کہ وہ " اچھے درخت ہیں " اس وجہ سے ہوسکتی ہے کہ( 1) اُنہوں نے خدا کے مقابلے میں اپنے لیے نہایت اعلیٰ معیار قائم کر لیے ہیں اور یہ بات خدا کے اُس کام کی اہمیت کو کم کر دیتی ہے جو وہ اِن کے وسیلہ سے کر رہا ہے ؛ (2) وہ دوسرے لوگوں اور اُن کے پھل کے مقابلے میں خود کو غلط طور پر ناپ رہے ہوتے ہیں( 3) وہ نیک کام کرنے میں سُستی کا شکار ہوتے ہیں ؛ یا( 4) وہ نجات یافتہ نہیں ہیں اور اس وجہ سے اپنے اندر مسیح کی ترغیب دینے والی محبت نہیں رکھتے ۔

اگر آپ نیک کاموں کی کمی کی وجہ سے اپنی نجات پر شک کرتے ہیں تو اس غفلت کےلیے خدا کے حضور اعتراف کریں اور یسوع کے نام سے اُس سے معافی مانگیں ۔اور اس کے بعد " خدا کی نعمت کو چمکانا " شروع کریں ( 2تیمتھیس 1باب 6آیت)۔آسمان کی بادشاہی کےلیے بہت سا کام کرنا ابھی باقی ہے ( لوقا 10باب 2آیت) اور بائبل عام طور پر مسیحیوں کےلیے خدا کی مرضی کے بارےمیں کثرت سے رہنما ئی فراہم کرتی ہے ۔ اپنی کارکردگی کے بارےمیں غلط معیارقائم کرنے یا اپنے نیک کاموں کا دوسروں کے نیک کاموں کے ساتھ موازنہ کرنے کے بارے میں محتاط رہیں ۔ خدا سے پوچھیں کہ وہ آپ سے کیا کروانا چاہتا ہے اورجو کچھ وہ کروانا چاہتا ہے اُسے کریں ۔

کچھ لوگ خصوصاً وہ جو نوجوانی میں نجات پا چکے ہوتے ہیں اس وجہ سے اپنی نجات پر شک کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنی تبدیلی کو اچھی طرح یاد نہیں رکھتے اور اس لحاظ سے شک کرتے ہیں کہ بچپن میں لیا گیا اُن کا فیصلہ حقیقی تھا یا نہیں ۔ اس طرح کے احساسات اُن بالغ لوگوں میں عام پائے جاتے ہیں جنھیں نے بچپن میں نجات پائی تھی۔ اِن صورِ حال میں خدا کے وعدوں پر نظر ثانی کرنا اور یہ یاد رکھنا اچھا ہے کہ یسوع بچّوں کو اپنے پاس بُلاتا ہے ( مرقس 10 باب 14آیت ) ۔ نجات ہمارے علم، دانشمندی یا قابلیت ولیاقت کی بجائے خدا کے فضل اور مسیح کے اوپر ایمان پر مبنی ہے (افسیوں 2باب 8-9 آیات)۔ یسو ع نے وعدہ کیا ہے کہ جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں " کبھی ہلاک " نہ ہوں گے (یوحنا 10باب 28آیت)۔ اگر بچپن کی تبدیلی کے بارے میں آپ کے شکوک و شبہات قائم ہیں تو اپنے ایمان کو یقینی بنائیں ۔ بچپن میں آپ نے جو کچھ کیا تھا اس سے قطع ِ نظر کیا اب آپ یہ ایمان رکھتے ہیں کہ یسوع آپ کے گناہوں کی خاطر موا ء تھا اور تیسرے دن جی اُٹھا تھا ؟ کیا اپنی نجات کےلیے آپ صرف اُسی پر ایمان رکھتے ہیں ؟

نجات کے تعلق سے شک کی موجودگی کی ایک اور وجہ ماضی کے گناہوں کے بارےمیں مستقل ندامت بھی ہے ۔ ہم سب کو ما ضی کے بُرے اعمال کے بارے میں پچھتاوا ہوتا ہے اور ہم سب کا ایک رُوحانی دشمن ہے جسے بائبل " الزام لگانے والا " کہتی ہے ( مکاشفہ 12باب 10آیت)۔ پچھتاوا اور الزامات کا مجموعہ بہت سا شک پیدا کر سکتا ہے ۔ خوش قسمتی سے " جوتم میں ہے وہ اُس سے بڑا ہے جو دُنیا میں ہے" ( 1یوحنا 4باب 4آیت)۔ اگر آپ احساسِ گناہ کی وجہ سے اپنی نجات پر شک کرتے ہیں تو اپنے آپ سے پوچھیں " کیا اُن گناہوں کا مَیں نے خدا کے حضور اعتراف کیا تھاجن کےلیے مَیں شرمندہ ہوں"؟ اگر آپ نے اعتراف کیا ہے تو اس بات کو جان لیں کہ خدا نے آپ کے گناہ کو آپ سے ایسے دُور کر دیا ہے " جیسے پُورب پچھم سے دُور ہے "(103زبور 12آیت)۔ یہ وعدہ ہمیشہ کےلیے ہے کہ "اگر اپنے گناہوں کا اِقرار کریں تو وہ ہمارے گناہوں کے معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادِل ہے۔"( 1یوحنا 1باب 9آیت)۔

بعض اوقات شک کرنا اچھی بات ہے ۔ کیونکہ درد کی مانند شک ہمیں اُس مسئلے کے بارے میں آگا ہ کر سکتا ہے جس کو حل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس بات کی یقین دہانی کےلیے ہمیں خود کو جانچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم " ایمان پر ہیں " یا نہیں ( 2کرنتھیوں 13باب 5آیت)۔ اس بات کا یقین رکھیں کہ آپ نئے مخلوق ہیں ۔ اگر آپ مسیح پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان لا چکے ہیں تو آپ ہمیشہ کی زندگی پا چکے ہیں اور خداآپ کی نجات کے بارے میں آپ کو پُر اعتماد بنانا چاہتا ہے ( رومیوں 8باب 38-39آیات؛ 1یوحنا 5باب 13آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اگر آپ کو اپنی نجات کے حوالے سے شک ہے تو کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ آپ حقیقی طور پر نجات یافتہ نہیں ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries