settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ اعمال کے وسیلہ سےکمائی گئی نجات انسان کی نظر میں درست معلوم ہوتی ہے۔ انسان کی بنیادی خواہشات میں سے ایک اپنی تقدیر پر قابو پانا ہے اور اِس میں اُس کی ابدی تقدیر بھی شامل ہے۔نجات بالعمال کا نظریہ انسان میں متکبر اور با اختیار ہو نے کی خواہش کو اُبھارتا ہے۔ اعمال کے وسیلہ سے نجات پانا اُس کی خواہش کو صرف ایمان کے وسیلہ سے نجات پانے کے تصور سے کہیں زیادہ متاثر کرتا ہے ۔ نیز انسان میں انصاف کا فطری احساس پایا جاتا ہے۔ حتی ٰ کہ انتہائی پُرجوش ملحد بھی کسی نہ کسی طرح کے انصاف پر یقین رکھتا ہے اور اُسے صحیح اور غلط کا احساس ہےچاہے اُس کے پاس ایسے فیصلے کرنے کی کوئی اخلاقی بنیاد نہیں ہے ۔صحیح اور غلط کا ہمارا موروثی احساس تقاضا کرتا ہے کہ اگر ہم نے نجات پانی ہے تو ہمارے "اچھے اعمال " ہمارے "برے کاموں" سے زیادہ ہونے چاہییں۔ لہٰذا یہ فطری بات ہے کہ جب انسان کوئی مذہب تشکیل دیتا ہے تو اُس میں اعمال کے وسیلہ سے کسی طرح کی نجات کا عنصر شامل ہوگا۔

چونکہ نجات بالعمال کا نقطہ نظر انسان کی گناہ آلودہ فطرت کو لبھاتا ہے اِس لیےیہ بائبل کی مسیحیت کے علاوہ قریباً ہر مذہب کی بنیاد کو تشکیل دیتا ہے۔ امثال 14باب 12آیت ہمیں بتاتی ہے کہ "اَیسی راہ بھی ہے جو اِنسان کو سیدھی معلُوم ہوتی ہے پر اُس کی اِنتہا میں مَوت کی راہیں ہیں۔" نجات بالعما ل کا تصور انسانوں کو درست معلوم ہوتا ہے اِسی لیے یہ نمایاں ترین نقطہ نظر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بائبل کی مسیحیت دیگر تمام مذاہب سے بہت مختلف ہے – یہ وہ واحد مذہب ہے جو تعلیم دیتا ہےکہ نجات اعمال کی بجائے خدا کی طرف سے بخشش ہے۔ "کیونکہ تم کو اِیمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات مِلی ہے اور یہ تمہاری طرف سے نہیں۔ خُدا کی بخشش ہے۔ اور نہ اَعمال کے سبب سے ہے تاکہ کوئی فخر نہ کرے" (افسیوں 2باب 8-9آیات) ۔

نجات بالعمال ایک نمایاں ترین نقطہ نظر کیوں ہے اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ نفسانی یانئی پیدایش کے تجربے سے خالی انسان اپنے گناہ کے اثر یا خدا کی پاکیزگی کو پوری طرح سے نہیں سمجھتا ۔ انسان کا دل "سب چیزوں سے زِیادہ حیلہ باز اور لاعلاج ہے"(یرمیاہ 17باب 9آیت )۔ اور خُدا بے حد پاک ہے (یسعیاہ6باب 3آیت)۔ ہمارے دِلوں کی حیلہ بازی وہ چیز ہے جو ہمارے شعور کو اس حد تک متاثر کر دیتی ہے کہ یہ ہمیں اُس خدا کے سامنے اپنی حقیقی حالت دیکھنے سے روکتی ہے جس کے تقدس کو ہم پوری طرح سے سمجھنے سے بھی قاصر ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف ہماری گناہ آلود حالت ہے اور دوسری طرف خُدا کی پاکیزگی، جس کی روشنی میں ہماری بہترین کوششیں بھی اُس کے تقدس کے سامنے "ناپاک لباس" کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں(یسعیاہ 64باب 6آیت،موازنہ 6باب 1-5آیات)۔

یہ خیال کہ انسان کے اچھے اعمال کبھی اُس کے برے کاموں پر سبقت لے سکتے ہیں مکمل طور پر ایک غیر بائبلی تصور ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ بائبل یہ بھی سکھاتی ہے کہ خدا کا معیار 100 فیصد کمال سے ذرہ کم نہیں ہے۔ اگر ہم خُدا کی پاک شریعت کے صرف ایک حصے کی پیروی کرنے میں غلطی کرتے ہیں تو ہم بالکل ایسے ہی قصوروار ہیں جیسے ہم نے ساری شریعت کی خلاف ورزی کی ہے ( یعقوب 2باب 10 آیت)۔ لہذا اگر نجات واقعی اعمال پر منحصر ہوتی تو ایسا کوئی طریقہ نہ تھا کہ ہم نجات پا سکتے۔

نجات بالعمال کا نقطہ نظر ایسے فرقوں میں سرایت کر سکتاہے جو مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے یا کہتے ہیں کہ وہ بائبل پر یقین رکھتے ہیں اور اِسکی وجہ یہ ہے کہ وہ یعقوب 2باب 24آیت جیسے حوالہ جات کی غلط تشریح کرتے ہیں: "پس تم نے دیکھ لِیا کہ اِنسان صرف اِیمان ہی سے نہیں بلکہ اَعمال سے راست باز ٹھہرتا ہے۔" اِس مکمل حوالے(یعقوب 2باب 14-26آیات) کے سیاق و سباق کا مشاہد ہ کرنے پر واضح ہو جاتا ہے کہ یعقوب یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمارے اعمال ہمیں خدا کے حضور راستباز بناتے ہیں؛ اِس کی بجائے وہ یہ واضح کر رہا ہے کہ حقیقی نجات بخش ایمان اچھے اعمال سے ظاہر ہوتا ہے۔ وہ شخص جو مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن دانستہ طور پر مسیح کی نا فرمانی میں زندگی بسر کرتاہے وہ جھوٹا یا "مُردہ" ایمان رکھتا ہے اور نجات یافتہ نہیں ہے۔ یعقوب ایمان کی دو مختلف قسموں - حقیقی ایمان جو نجات دیتا ہے اور جھوٹا ایمان جو مُردہ ہے کے درمیان فرق واضح کر رہا ہے ۔

عام طور پر ایسی بہت سی آیات ہیں جوکسی بھی مسیحی کو اس کے برعکس یقین کرنے کی تعلیم دیتی نظر آتی ہیں کہ کوئی بھی مسیحی کاموں کے وسیلہ سے نجات نہیں پاتا ۔ ططس 3باب 4-5آیات ایسے بہت سے حوالہ جات میں سے ایک ہے: "مگر جب ہمارے مُنّجی خُدا کی مہربانی اور اِنسان کے ساتھ اُس کی اُلفت ظاہر ہُوئی۔ تو اُس نے ہم کو نجات دی مگر راست بازی کے کاموں کے سبب سے نہیں جو ہم نے خود کئے بلکہ اپنی رحمت کے مُطابِق نئی پَیدایش کے غُسل اور رُوحُ القدس کے ہمیں نیا بنانے کے وسیلہ سے"۔ اچھے اعمال نجات میں حصہ دار نہیں لیکن وہ اُس شخص کی ہمیشہ خصوصیت رہیں گے جو نئی پیدایش کا تجربہ کر چکا ہے ۔ نیک اعمال نجات کا سبب نہیں بلکہ اِس کا ثبوت ہیں۔

اگرچہ نجات بالعمال نمایاں ترین نقطہ نظر ہو سکتا ہے لیکن یہ بائبل کے لحاظ سے درست نہیں ہے۔ بائبل ایسے بے شمار ثبوتوں کی حامل ہےکہ نجات فضل ہی سے صرف مسیح پر ایمان لانے کے وسیلہ سے ہے (افسیوں 2باب 8-9آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries