کیا خُدا مسیحیوں سے سبت کو ماننے کا مطالبہ کرتا ہے؟



سوال: کیا خُدا مسیحیوں سے سبت کو ماننے کا مطالبہ کرتا ہے؟

جواب:
کُلسیوں17-16:2 میں پولُس رسول بیان کرتا ہے، "پس کھانے پینے یا عید یا نئے چاند یا سبت کی بابت کوئی تُم پر الزام نہ لگائے۔ کیونکہ یہ آنے والی چیزوں کا سایہ ہیں مگر اصل چیزیں مسیح کی ہیں"۔ اِسی طرح، رومیوں5:14بیان کرتی ہے، "کوئی تو ایک دِن کو دوسرے سے افضل جانتا ہے اور کوئی سب دِنوں کو برابر جانتا ہے۔ ہر ایک اپنے دِل میں پُورا اعتقاد رکھے"۔ یہ حوالہ جات واضح کرتے ہیں کہ مسیحیوں کے لئے سبت کو ماننا روحانی آزادی کا معاملہ ہے، نہ کہ خُدا کا حکم۔ سبت کو ماننا ایک ایسا مسلہ ہے جس پر خُدا کا کلام ہمیں ہدایت دیتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی عدالت نہ کریں۔ سبت کو ماننا ایک ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں ہر مسیحی کو اپنے ذہن میں مکمل طور پر قائل ہونا چاہیے۔

اعمال کی کتاب کے ابتدائی ابواب کے مطابق، ابتدائی مسیحی یہودی تھے۔ جب غیر اقوام نے خُدا وند یسوع مسیح کے وسیلہ سے نجات کے تحفے کو حاصل کرنا شروع کیا، تو یہودی مسیحیوں کو دوہری مشکل کا سامنا کرنا پڑاکہ مُوسوی شریعت اور یہودی روایات کے کونسے پہلوؤں کے لئے غیر اقوام مسیحیوں کو اطاعت کی ہدایت کی جائے؟ رسولوں نے یروشلیم کی کونسل (اعمال15) میں مل کر مسلے پر بات کی۔ فیصلہ کیا گیا، "پس میرا فیصلہ یہ ہے کہ جو غیر قوموں میں سے خُدا کی طرف رجُوع ہوتے ہیں ہم اُن کو تکلیف نہ دیں۔ مگر اُن کو لکھ بھیجیں کہ بُتوں کی مکرُوہات اور حرام کاری اور گلا گھونٹے ہوئے جانوروں اور لہُو سے پرہیز کریں" (اعمال20-19:15)۔ سبت کو ماننا احکامات میں نہیں تھا جس کے لئے رسول غیر اقوام ایمانداروں کو مجبور کرنے کی ضرورت محسوس کرتے۔ یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ اگر مسیحیوں کے لئے سبت کو ماننا خُدا کا حکم تھا تو رسول سبت کے حکم کو نظر انداز کر دیتے۔

سبت کو ماننے میں ایک عام غلطی یہ نظریہ رکھنا ہے کہ سبت پرستش کا دن ہے۔ سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ جیسے گروہوں کا ماننا ہے کہ خُدا مطالبہ کرتا ہےکہ چرچ سروس سبت کے دن یعنی ہفتہ کے دن ہو۔ سبت کا حکم یہ نہیں تھا۔ سبت کا حکم یہ تھا کہ سبت کے دن کسی قسم کا کام نہ کیا جائے (خروج11-8:20)۔ بائبل میں کہیں بھی سبت کےدن پرستش کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ ہاں، پُرانے عہد نامہ، نئے عہد نامہ، اور جدید دور کے یہودی ہفتہ کے روز کو پرستش کے لئے استعمال کرتے ہیں، لیکن یہ سبت کے حکم کی اصل نہیں ہے۔ اعمال کی کتا ب میں، جب بھی سبت کے دن مجلس بُلائی جاتی تھی، تو یہ مجلس یہودی یا یہودیت میں آنے والے غیر اقوام کے لوگوں کی ہوتی تھیں نہ کہ مسیحیوں کی۔

ابتدائی مسیحی کب اکٹھے ہوتے تھے؟ اعمال47-46:2ہمیں جواب فراہم کرتی ہے، "اور ہر روز ایک دِل ہو کر ہیکل میں جمع ہوا کرتے اور گھروں میں روٹی توڑ کر خوشی اور سادہ دِلی سے کھانا کھایا کرتے تھے۔ اور خُدا کی حمد کرتے اور سب لوگوں کو عزیز تھے اور جو نجات پاتے تھے اُن کو خُداوند ہر روز اُن میں مِلا دیتا تھا"۔ اگر کوئی دن تھا جب مسیحی باقاعدگی سے اکٹھے ہوتے تھے تو وہ ہفتہ کا پہلا روز (اتوار) تھا، نہ کہ سبت کا دن (ہفتہ) (اعمال1 ;7:20کرنتھیوں2:16)۔ اتوار کے روز یسوع مسیح کے جی اُٹھنے کی تعظیم میں ابتدائی مسیحی اتوار کو مناتے تھے، "مسیحی سبت" کے طور پر نہیں، بلکہ خاص طور پر یسوع مسیح کی پرستش کے دن کے طور پر مناتے تھے۔

کیا یہودی سبت، ہفتہ کے دِن پرستش کرنے میں کوئی بُرائی ہے؟ بالکل نہیں! ہمیں صرف ہفتہ یا اتوار کے دن ہی نہیں بلکہ روزانہ خُدا کی پرستش کرنی چاہیے!آج بہت سے چرچ ایسے ہیں جو ہفتہ اور اتوار دونوں دِنوں میں عبادات کرتے ہیں۔ مسیح میں آزادی ہے (رومیوں2 ;21:8کرنتھیوں; 17:3گلتیوں1:5)۔ کیا ایک مسیحی کو سبت ماننا چاہیے، جو کہ ہفتہ کے دن کام نہ کرنا ہے؟ اگر کوئی مسیحی ایسا کرنا چاہتا ہےتو بالکل وہ کر سکتا ہے (رومیوں5:14)۔ تاہم، جو لوگ سبت کو مانتے ہیں وہ اُن لوگوں کو حقیر نہ جانیں جو سبت کو نہیں مانتے (کُلسیوں16:2)۔ مزید، جو لوگ سبت کے دن کو نہیں مانتے وہ اُن لوگوں کے لئے ٹھوکر کا باعث نہ بنیں (1کرنتھیوں9:8) جو سبت کو مانتے ہیں۔ گلتیوں15-13:5سارے معاملہ پر بات چیت کرتی ہے،"اے بھائیو! تُم آزادی کے لئے بُلائے گئے ہو مگر ایسا نہ ہو کہ وہ آزادی جسمانی باتوں کا موقع بنے بلکہ محبت کی راہ سے ایک دُوسرے کی خدمت کرو۔ کیونکہ ساری شریعت پر ایک ہی بات سے پورا عمل ہو جاتا ہے یعنی اِس سے کہ تُو اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔ لیکن اگر تم ایک دوسرے کو کاٹتے اور پھاڑے کھاتے ہو تو خبردار رہو تا کہ ایک دُوسرے کا ستیاناس نہ کر دو"۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا خُدا مسیحیوں سے سبت کو ماننے کا مطالبہ کرتا ہے؟