شادی کے لیے درست وقت کونسا ہے؟


سوال: شادی کے لیے درست وقت کونسا ہے؟

جواب:
شادی کے لئے درُست وقت ہر شخص کے لئے مختلف ہوتا ہے اور ہر کسی کی صورتحال دوسروں سے بالکل منفرد ہوتی ہے۔ہر کسی انسان میں بلوغت اور پختگی کی سطح اور زندگی کے تجربات مختلف ہوتے جو اِس سب میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ تو اٹھارہ سال کی عمر میں ہی شادی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں، اور بعض اِس کے لئے کبھی بھی تیار نہیں ہوتے۔ جیسا کہ امریکہ میں طلاق کی شرح 50 فیصد سے زیادہ ہے ، اِس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر لوگ شادی کو ہمیشہ کی وابستگی یا تعلق کے طور پر نہیں دیکھتے۔ تاہم یہ دُنیاوی نظریہ ہے جو کہ عام طور پر خُدا کے برخلاف ہو گا (1کرنتھیوں3 باب 18 آیت)۔

کامیاب شادی کے لئے ایک مضبوط بنیاد لازمی ہے، اور یہ کسی بھی ممکنہ جیون ساتھی سے ملاقات اور محبت کرنے سے پہلے قائم ہو جانی چاہیے۔ ہمارا مسیحی چال چلن صرف اتوار کو چرچ جانے اور بائبلی مطالعہ میں شامل ہونے سے کہیں زیادہ بہتر ہونا چاہیے۔ ضروری ہے کہ ہم خُدا کے ساتھ ذاتی تعلقات قائم کریں، جو صرف یسوع مسیح پر ایمان لانے اور اُس کی فرمانبرداری کرنے سےہی قائم ہو سکتے ہیں۔شادی کرنے سے پہلے ہمیں شادی کے بارے میں تعلیم پانے کی اور اِس بندھن کے بارے میں خُدا کے نقطہ نظر کو جاننے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی شخص کو یہ لازمی معلوم ہونا چاہیے کہ بائبل محبت، وابستگی، جنسی تعلقات، شادی میں شوہر اور بیوی کے کردار، اور شادی کرنے سے پہلے ہمارے لئے خُدا کی توقعات کے بارے میں کیا فرماتی ہے۔اِس حوالے سے سیکھنے کے لیے مثالی شخصیت کے طور پر کم از کم کسی ایک مسیحی شادی شُدہ جوڑے کو بھی لینا اہم ہے۔ ایک پرانا جوڑا ایک کامیاب شادی میں ہونے والے تجربات کے بارے میں جواب دے سکتا ہے کہ ایک کامیاب شادی میں کیا ہوتا ہے، (جسمانی میل ملاپ اور وابستگی کے علاوہ) میاں بیوی میں حقیقی نزدیکی اور محبت کیسے پیدا ہو سکتی اور قائم رہ سکتی ہے۔ اور اِس سب میں ایمان کس طرح بیش قیمت ہے، وغیرہ۔

ایک متوقع شادی شُدہ جوڑے کو بھی اِس بات کا یقین کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اُن کو شادی، آمدنی ، سسرال، بچّوں کی تعلیم و تربیت، اصلاح، شوہر اور بیوی کی ذمہ داریوں، اُن میں سےچاہے صرف ایک یا دونوں کے گھر سے باہر کام کرنے، اور دوسرے شخص کی رُوحانی بلُوغت کی سطح کے بارے میں ایک دوسرے کے خیال سے واقف ہونا چاہیے۔ بہت سے لوگ ایسے لوگوں سے شادی کر لیتے ہیں جو زبانی زبانی یہ کہتے رہتے ہیں کہ وہ مسیحی ہیں ، اُن کو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ یہ دوسرا شخص تو صرف نامی مسیحی تھا اور اُس کی باتیں تو محض ہونٹوں سے خُدا کی ستائش تھی۔ شادی کے بارے میں سوچنے والے ہر جوڑے کو چاہیے کہ وہ صلاح کاری کے لیے اپنی کلیسیا کے پادری صاحب یا شادی کے بارے میں کسی مسیحی مشیر سے مشورہ ضرور کریں۔ در حقیقت، بہت سے پادری صاحبان اُس وقت تک شادیوں کو انجام نہیں دیتے جب تک وہ صلاح کاری اور مشورے کے لئے کئی مرتبہ جوڑے سےمل نہیں لیتے۔

شادی صرف وابستگی نہیں ہے، بلکہ خُدا کے ساتھ ایک عہد ہے۔ یہ عہد تاحیات کسی دوسرے شخص کے ساتھ رہنے کا ہے، اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کاشریکِ حیات امیر ، غریب، صحت مند، بیمار،بھاری بھرکم ، دبلا پتلا، یا بیزار طبیعت کا ہے۔ ایک مسیحی زندگی کو ہر حالت کو برداشت کرنا چاہیے جن میں لڑائی جھگڑا، غصہ، تباہی، بدحالی، اُداسی، تلخی ، بُری عادت، اور تنہائی شامل ہیں۔ شادی شُدہ زندگی کبھی بھی ایسے حالات میں داخل نہیں ہونی چاہیے جن میں میاں اور بیوی کے ذہنوں میں طلاق کا خیال پیدا ہو، مسیحی میاں بیوی کے ذہن میں یہ خیال ذرا بھر بھی نہیں ہونا چاہیے۔ بائبل بیان کرتی ہے"جو انسان سے نہیں ہو سکتا وہ خُدا سے ہو سکتا ہے" (لوقا18 باب 27 آیت)، اور اِس میں یقینی طور پر شادی بھی شامل ہے۔ اگر ایک جوڑا شروع سے ہی وفادار رہنے اور خُدا کو اوّل درجہ دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو اُن کے درمیان مشکل ترین حالات میں بھی طلاق اُن کے مسائل کا ناگزیر حل نہیں ہوگی۔

یہ یاد رکھنا اہم بات ہے کہ خُدا ہمارے دل کی خواہشات کو پورا کرنا چاہتا ہے، لیکن یہ صرف اُسی وقت ممکن ہے جب ہماری خواہشات اُس کی مرضی کے مطابق ہوں گی۔ لوگ اکثراِس لیے شادی کرتے ہیں کیونکہ اُنہیں ایسا کرنا صرف "ٹھیک محسوس" ہوتا ہے۔ملاقات کے اور یہاں تک کہ شادی کے ابتدائی مراحل میں، آپ دوسرے شخص کو اپنی طرف آتے دیکھتے ہیں، اور آپ کے من میں تتلیاں ناچنا شروع ہو جاتی ہیں، دل میں لڈو پھوٹتے ہیں۔ رومانس اپنے عروج پر ہوتا ہے، اور دیگر آپ "محبت میں مبتلا" ہونے کے جذبات کو جانتے ہیں۔ بہت سے لوگ توقع کرتے ہیں کہ یہ جذبات ہمیشہ رہیں گے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ہمیشہ نہیں رہتے۔ نتیجہ مایوس کُن ہو سکتا ہے اور یہاں تک کہ جیسے ہی یہ جذبات کمزور ہوں طلاق بھی ہو سکتی ہے، لیکن کامیاب شادی گزارنے والے جانتےہیں کہ دوسرے شخص(اپنے جیون ساتھی) کے ساتھ ہونے کی خوشی اور جوش کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اِس کے علاوہ دل میں ناچنے والی تتلیاں گہری محبت، مضبوط وابستگی، ایک زیادہ ٹھوس بنیاد،اور کبھی نہ ٹوٹنے والی ضمانت کو راستہ فراہم کرتی ہیں۔

بائبل واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ محبت جذبات پر انحصار نہیں کرتی۔ اِس کا ثبوت ہمیں اُس وقت ملتا ہے جب ہمیں اپنے دشمنوں سے محبت کرنے کو کہا جاتا ہے (لوقا 6باب 35آیت)۔ حقیقی محبت صرف اُسی وقت ممکن ہے جب ہم رُوح القدس کو اپنی زندگی میں کام کرنے، اور ہماری نجات کے پھل کو پیدا کرنے کی اجازت دیتے ہیں (گلتیوں 5باب 22-23 آیات)۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو ہم روزانہ کی بنیاد پر اپنے آپ اور اپنی خودی کو مارنے، اور خُدا کو اپنی زندگیوں میں اور زندگیوں کے وسیلے سے ظاہر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ 1 کرنتھیوں13 باب 4-7 آیات میں پولُس ہمیں بتاتا ہے کہ دوسروں سے محبت کیسے کی جاتی ہے "محبت صابر ہے اور مہربان۔ محبت حَسد نہیں کرتی۔ محبت شیخی نہیں مارتی اور پھولتی نہیں۔ نازیبا کام نہیں کرتی۔ اپنی بہتری نہیں چاہتی۔ جھنجھلاتی نہیں۔ بدگمانی نہیں کرتی۔ بدکاری سے خوش نہیں ہوتی بلکہ راستی سے خوش ہوتی ہے۔ سب کچھ سہہ لیتی ہے۔ سب کچھ یقین کرتی ہے۔ سب باتوں کی اُمید رکھتی ہے۔ سب باتوں کی برداشت کرتی ہے"۔ جس وقت ہم 1 کرنتھیوں 13 باب 4-7آیات کی روشنی میں دوسرے شخص سے محبت کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں تو وہ شادی کرنے کے لئے درُست وقت ہوتا ہے۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
شادی کے لیے درست وقت کونسا ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں