settings icon
share icon
سوال

مَیں صحیح سے غلط کا امتیاز کرنا کیسے سیکھ سکتا ہوں ؟

جواب


ہر انسان خدا کی صورت وشبیہ پر تخلیق کیا گیا ہے (پیدایش 1باب 27آیت ؛ یعقوب 3باب 9آیت)۔ خُدا کی صورت پر ہونے کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک ضمیر ہے جو جبلتاًاچھے اور بُرے کے درمیان پرکھ کرتا اور صحیح اور غلط کا فرق بتاتا ہے۔ دنیا کی ہر مہذب ثقافت نے اچھے اور بُرے کی اِس موروثی سمجھ کی بنیاد پر اپنے لوگوں کے لیے یکساں معیار اپنائے ہیں۔ قتل، چوری اور دھوکہ دہی کو عالمگیر طور پر غلط خیال جاتا ہے۔ بعض اوقات بگاڑ اِس فہم پر غالب آ جاتا ہے ، جیسا کہ اسرائیل کے اردگرد کی غیر قوموں کی طرف سے بچّوں کے قتل کے معاملے میں تھا (احبار 18باب 21آیت ؛ 2سلاطین 23باب 10آیات) اور یوں اُس بگاڑ کی بدولت لوگوں کا کوئی گروہ بُرائی کو روکنے کی بجائے اُسے اہمیت دینے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔

گناہ آلودہ فطرت کے باعث ہمارے اندر برائی کے عناصرکی چشم پوشی کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے (رومیوں 5باب 12آیت ؛ امثال 20باب 20آیت ؛ یرمیاہ 2باب 25آیت )۔ برائی کی چشم پوشی کی مستقل عادت ضمیر کے سخت ہونے کا باعث بنتی ہے۔ رومیوں 1باب 28آیت اُن لوگوں کے خلاف خدا کے ردّ عمل کو پیش کرتی ہے جو بُرائی پر ڈٹے رہتے ہیں :" جس طرح اُنہوں نے خُدا کو پہچاننا ناپسند کِیا اُسی طرح خُدا نے بھی اُن کو ناپسندیدہ عقل کے حوالہ کر دیا کہ نالائق حرکتیں کریں۔" ایک وقت پر خدا انسان کو اُس کی بُرائی میں چھوڑ دیتا ہے۔ جو لوگ اپنی گناہ آلودہ زندگی کو برقرار رکھنے پر زور دیتے ہیں یوں اب دلیری سے گناہ کر سکتے ہی اور ضمیر کی چُبھن کا اثر محسوس نہیں کرتے ۔ اُن کا ماننا ہے کہ انہوں نے ضمیر سے بالاتر ہو کر خدا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ لیکن اُن کی عدالت تب ہو گی جب وہ مسیح کے حضور کھڑے ہوں گے (عبرانیوں 9باب 27آیت ؛ ملاکی 3باب 5آیت)۔

جس طرح تاریکی کی تعریف روشنی کی عدم موجودگی کے طور پر کی جاتی ہے اُسی طرح گناہ کی تعریف بھلائی کی عدم موجودگی کے طور پر کی جاتی ہے (یعقوب4باب 17 آیت)۔ چونکہ خُدا بھلائی کا تجسم ہے (86زبور 5آیت 119زبور 68آیات) لہذا اُس کی فطرت کے خلاف کوئی بھی چیز برائی ہے (رومیوں 3باب 23 آیت)۔ خُدا کو جاننے کے ذریعے سے ہم اچھائی اور برائی میں فرق کرنا سیکھتے ہیں۔ اُس کا کلام اُسے سمجھنے کی بنیاد ہے (1زبور 1-2آیات؛ 119زبور 160آیت؛ یوحنا 17باب 17آیت)۔ ہم خُدا کی پاکیزگی میں جس قدر ترقی کرتے جاتے ہیں ہمیں گناہ اُتنا ہی بُرا معلوم ہوتا ہے (یسعیاہ 6باب 1، 5آیت)۔ کوئی سفید ٹی شرٹ سیاہ دیوار کے مقابلے میں سفید دکھائی دے سکتی ہے لیکن جب آپ اس شرٹ کو تازہ گرنے والی برف کے مدِ مقابل رکھتے ہیں تو یہ کافی گندی نظر آتی ہے۔ اسی طرح جب ہماری نیکی کی کوششیں خُدا کی پاکیزگی کے مد مقابل رکھی جاتی ہیں تو یہ انتہائی کمتر نظر آتی ہیں۔ جب ہم اُس کی حضوری میں داخل ہوتے ہیں تو ہمیں یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ ہمارے خیالات اور اعمال کس قدر خودغرضانہ ہیں۔ ہم اپنی حرص، لالچ، ہوس اور دھوکہ دہی کو پھر اُن برائیوں کے طور پر دیکھتے ہیں جو حقیقت میں یہ ہیں ۔ یہ صرف خدا کے نور میں ہی ممکن ہے کہ ہم اپنے آپ کو واضح طور پر دیکھنا شروع کرتے ہیں۔

کلام کو جاننے کے وسیلہ سے ہم صحیح اور غلط میں فرق کرنا بھی سیکھتے ہیں۔ اصل میں یہ بائبل ہی ہے جو بیان کرتی ہے کہ گناہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے ۔ عبرانیوں کا مصنف ایمان میں نا بالغ ایسے لوگوں کے بارے میں بات کرتا ہے جو صرف رُوحانی "دودھ"- خدا کے کلام کے سب سے بنیادی اصولوں کو ہی ہضم کر سکتے ہیں (عبرانیوں 5باب 13آیت )۔اور اِن رُوحانی طور پر نابالغ لوگوں یعنی دودھ پیتے بچّوں کے مدِ مقابل رُوحانی طور پر بالغ لوگ ہیں "جن کے حواس کام کرتے کرتے نیک و بد میں اِمتِیاز کرنے کے لئے تیز ہو گئے ہیں" ( عبرانیوں 5باب 14آیت)۔ یاد رکھیں کہ ایک مسیحی کے رُوحانی حواس کلام کے مسلسل استعمال کے وسیلہ سے مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ صحیح اور غلط اور ، مسیح اور انسان کے عقیدے کے درمیان فرق بیان کرنے کی صلاحیت خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے اور اُس پر عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔

خدا کا کلام اُن لوگوں کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے جنہوں نے صحیح کا م کئے تھے اور جنہوں نے غلط کام کئے تھے ۔ یہ مثالیں ہمارے لیے یہ سیکھنے کے لیے ہیں کہ خدا کیسا ہے اور وہ ہم سے کیا چاہتا ہے (1 کرنتھیوں 10باب 11آیت)۔ میکاہ 6باب 8آیت ہر انسان کے لیے خُدا کی مرضی کا مختصر خلاصہ پیش کرتا ہے: "اَے اِنسان اُس نے تجھ پر نیکی ظاہر کر دی ہے۔ خُداوند تجھ سے اِس کے سِوا کیا چاہتا ہے کہ تُو اِنصاف کرے اور رحم دِلی کو عزِیز رکھّے اور اپنے خُدا کے حضُور فروتنی سے چلے؟" ملاکی 3باب 18آیت اسے اور بھی واضح کر دیتی ہے ۔ خُدا فرماتا ہے کہ " تب تُم رجُوع لاؤ گے اور صادِق اور شرِیر میں اور خُدا کی عبادت کرنے والے اور نہ کرنے والے میں اِمتِیاز کرو گے"۔ یہاں خُداوند صداقت کو اپنی خدمت گزاری کے برابر ٹھہرا رہا ہے۔ اگر نیکی کی تعریف خدا کی خدمت کے طور پر کی جاتی ہے تو بدی خدا کو رد کرنا اور اُس کی خدمت کرنے سے انکار کرنا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ کوئی شخص دوسروں کے لیے کتنا ہی خیر خواہ ثابت کیوں نہیں ہوتا اُس کے اچھے کام اگر خود غرضانہ مقاصد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں تو نا کافی ہیں۔ اگر ہم اپنے ہر کام میں خُدا کو ڈھونڈنے اور اُس کی تعظیم کرنے کو اپنا مقصد بناتے ہیں (1 کرنتھیوں 10باب 31آیت ) تو ہم صحیح اور غلط کے درمیان فرق کو سمجھیں گے اور یہ جانیں گے کہ ہماری زندگی کے فیصلے اُس کی خوشنوی کے لیے ہیں (یرمیاہ 29باب 13آیت ؛ 1 پطرس 3باب 12آیت؛ 106زبور 3 آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں صحیح سے غلط کا امتیاز کرنا کیسے سیکھ سکتا ہوں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries