settings icon
share icon
سوال

بائبل بدلا لینے/ انتقام کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب


بائبل انتقام کے بارے میں بہت کچھ کہتی ہے۔ بائبل کے اندر عبرانی اور یونانی دونوں زبانوں میں جو لفظ "انتقام، بدلے، بدلہ لینے" کے لیے استعمال ہوئے ہیں اُن کے ماخذ میں سزا دینے کا تصور پایا جاتا ہے۔ یہ سمجھنا بہت زیادہ اہم ہے کہ خُدا انتقام لینے کا حق اپنے لیے کیوں محفوظ رکھتا ہے۔

اِس سچائی کے بارے میں اہم آیت پرانے عہد نامے کے اندر ملتی ہے اور نئے عہد نامے میں دو بار اُس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ خُدا نے کہا "اِنتِقام لینا اور بدلہ دینا میرا کام ہوگا کیونکہ اُن کی آفت کا دِن نزدِیک ہے اور جو حادِثے اُن پر گُذرنے والے ہیں وہ جلد آئیں گے " (استثنا 32باب25 آیت؛ رومیوں 12 باب19 آیت؛ عبرانیوں 10باب30 آیت)۔ اِستثنا کی کتاب میں خُدا گردن کش، باغیوں اور بُت پرست اسرائیلیوں کی بات کر رہا ہے جنہوں نے اُسے جھٹلایا اور اپنی شرارتوں کی وجہ سے اُس کے غضب کا شکار ہوئے۔ اُس نے کہا کہ وہ اپنے وقت اور اپنے کامل اور خالص مقاصد کے مطابق اُن سے بدلہ لے گا۔ نئے عہد نامے کے دو حوالےایک مسیحی کے طرزِ عمل کے متعلق ہیں جسے حکم ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں خُدا کے اختیار کو غصب نہ کرے۔ بلکہ ہمیں چاہیے کہ ہم خُدا کو خود عدالت کرنے دیں اور اُسے اپنے دُشمنوں سے جس انداز سے وہ بہتر سمجھتا ہے الٰہی بدلہ لینے دیں۔

ہم انسانوں کے برعکس خُدا کبھی بھی ناپاک مقاصد سے انتقام نہیں لیتا۔ اُس کا انتقام اُن لوگوں کو سزا دینے کے مقصد سے ہے جنہوں نے اُسے ناراض اور مسترد کیا ہے۔ بہرحال ہم خُدا سے دُعا کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی کاملیت اورپاکیزگی کے خلاف اپنے دشمنوں سے بدلہ لے اور جو بُرائی سے ملبس ہیں اُنہیں سزا دے۔ 94 زبور 1 آیت میں زبور نویس دُعا کرتا ہے کہ وہ شریروں سے صادقوں کا بدلہ لے ، کسی طرح کے بے قابو انتقام کے احساس کی وجہ سے نہیں بلکہ ابدی عدالت کرنے والے مالک کے طور پر اپنے کامل عدل کی بدولت محض جزاکے لیے۔ یہاں تک کہ جب بے گناہ دُکھ اُٹھاتے ہیں اور شریر خوشحال نظر آتے ہیں تو بھی کسی کو سزا دینا خُدا ہی کا کام ہے ۔"خُداوند غیُور اور اِنتقام لینے والا خُدا ہے ہاں خُداوند اِنتقام لینے والا اور قہارہے ۔ خُداوند اپنے مُخالفوں سے اِنتقام لیتا ہے اور اپنے دُشمنوں کے لئے قہر کوقائم رکھتا ہے " (ناحوم 1باب2 آیت)۔

بائبل میں صرف دو بار ہی ایسا دیکھا گیا ہے جب خُدا آدمیوں کو اپنے نام میں بدلہ لینے کی اجازت دیتا ہے۔ سب سے پہلے جب مدیانیوں نے اسرائیلیوں کے خلاف گھناؤنے اور پُر تشدد اقدامات کئے تو مدیانیوں کے خلاف خُدا کے غضب کا پیالہ بھر گیا اور اُس نے موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو مدیانیوں کے خلاف جنگ پر لے جائے"پھر خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا۔مِدیانِیوں سے بنی اِسرائیل کا اِنتِقام لے ۔ اِس کے بعد تُو اپنے لوگوں میں جا مِلے گا" (گنتی 31 باب1-2 آیات) ۔ یہاں پر بھی موسیٰ نے اپنے طور پر کام نہیں کیا، وہ خُدا کی ہدایت کے تحت اُس کے کامل منصوبے کو سر انجام دینے کے لیے اُس کے ہاتھ میں ایک آلہ تھا۔ دوسرا یہ کہ مسیحیوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اُن حکمرانوں کے تابع رہیں جن کو خُدا نے ہم پر مقرر کیا ہے، کیونکہ وہ "بدکاروں کی سزا" کے لیے خُدا کے بھیجے ہوئے ہیں (1 پطرس 2باب13-14 آیات)۔

خُدا کا کردار ادا کرنے اور سزا کے مستحق لوگوں کو سزا دینے کی کوشش کرنا ہمارے لیے محسور کن ہو سکتا ہے۔ لیکن چونکہ ہم گناہگار مخلوق ہیں اِس لیے ہمارے لیے خالص مقاصد کے ساتھ بدلہ لینا نا ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسوی شریعت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ"تُو اِنتقام نہ لینا اور نہ اپنی قَوم کی نسل سے کینہ رکھنا بلکہ اپنے ہمسایہ سے اپنی مانِند مُحبّت کرنا ۔ مَیں خُداوند ہُوں " (احبار 19باب18 آیت) ۔حتیٰ کہ داؤد نے جو "خُدا کے دِل کے موافق" (1 سموئیل 13باب14 آیت)۔ بندہ تھا ساؤل سے بدلہ لینے سے انکار کر دیا ، حالانکہ داؤد وہ فریق تھا جس پر مسلسل طور پر ظلم کیا جا رہا تھا۔ داؤد نے خُدا کے حکم پر عمل کرتے ہوئے انتقام لینے کا فیصلہ ترک کیا اور خُدا پر مکمل طور پر بھروسہ کیا: "خُداوند میرے اور تیرے درمِیان اِنصاف کرے اور خُداوند تجھ سے میرا اِنتِقام لے پر میرا ہاتھ تجھ پر نہیں اُٹھے گا" (1 سموئیل 24باب12 آیت)۔

مسیحی ہونے کے ناطے ہمیں خُداوند یسوع مسیح کے اِس حکم پر عمل کرنا ہے کہ "اپنے دُشمنوں سے مُحبّت رکھّو اور اپنے ستانے والوں کے لئے دُعا کرو۔" (متی 5باب44 آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل بدلا لینے/ انتقام کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries