settings icon
share icon
سوال

ہماراجلالی/جی اُٹھنے والا بدن ہمارے موجودہ بدن سے کیسے مختلف ہوگا ؟

جواب


کرنتھس کی کلیسیا کو لکھے گئے اپنے پہلے خط میں پولس رسول ہمارے زمینی بدنوں اور ہمارے جلالی بد نوں کے درمیان اہم فرق کے بارے میں بات کرتا ہے (دیکھیں 1 کرنتھیوں 15باب 35-54آیات)۔ ہمارے زمینی بدنوں کا ہمارے آسمانی (دوبارہ جی اٹھے) بدنوں کی شان سے موازنہ کرتے ہوئے پولس رسول کہتا ہے کہ "جسم فنا کی حالت میں بویا جاتا ہے اور بقا کی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔ بے حُرمتی کی حالت میں بویا جاتا ہے اور جلال کی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔ کمزوری کی حالت میں بویا جاتا ہے اور قُوت کی حالت میں جی اُٹھتا ہے۔ نفسانی جسم بویا جاتا ہے اور رُوحانی جسم جی اُٹھتا ہے۔ " مختصراً یہ کہ ہمارے جلالی بدن رُوحانی، لافانی ہیں اور جلال اور قوت میں زندہ کئے گئے ہیں۔

پہلے آدم کے وسیلہ ہمیں ہمارے فطری بدن ملے جو زمینی ماحول کے لیے بالکل موزوں تھے۔ تاہم زوال کے باعث وہ زوال پذیر ہو گئے۔ نافرمانی کی وجہ سے بنی نو انسان فانی ہو گئے ۔ بڑھاپے، تنزلی اور بالآخر موت اب ہم سب کو متاثر کرتی ہے۔ ہم خاک ہیں اورپھر خاک میں لوٹ جائیں گے (پیدایش 3 باب 19آیت واعظ 3باب 20آیت)۔ دوسری جانب ہمارے جلالی بدن "جلال کی حالت " میں جی اُٹھیں گے۔ وہ کبھی بھی بیماری، بوسیدگی ، تنزلی یا موت کا تجربہ نہیں کریں گے۔ اور "جب یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہن چکے گا اور یہ مَرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہن چکے گا تو وہ قَول پُورا ہو گا جو لِکھا ہے کہ مَوت فتح کا لقمہ ہو گئی "(1کرنتھیوں 15باب 54آیت)۔

زوال کے باعث ہمیں " بے حُرمتی کی حالت میں بویا جاتا ہے ۔" ہم اصل میں کامل اور خُدا کی شبیہ پر بنائے گئے تھے (پیدایش1باب 27آیت ) لیکن گناہ نے اِسے آلودہ کر دیا ہے۔ پھر بھی ایمانداروں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ ہمارے ناقص اور بے عزت بدنوں ایک دن جلال میں زندہ کیے جائیں گے۔ گناہ کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں سے آزاد ہو کر ہمارے جلالی بدن عزت دار ہوں گے اور ابد تک ہمارے خالق کو خوش کرنے اور اس کی حمد و ستایش کرنے کے لیے بالکل موزوں ہوں گے۔

ہمارے موجودہ بدن کمزوری اور ناتوانی کے حامل بھی ہیں۔ ہمارے زمینی "مَقدس" بلاشبہ نازک ہیں اور اُن بیماریوں کی کثرت سے متاثر ہونے والے ہیں جو بنی نوع انسان کو تباہ کرتی ہیں۔ ہم گناہ اور آزمایش کے باعث کمزور ہو گئے ہیں۔ مگر ایک دن ہمارے بدن قوت اور جلال میں زندہ کئے جائیں گے اور ہم مزید اُن خامیوں اور کمزوریوں کے تابع نہیں رہیں گے جو آج زندگی پر چھائی ہوئی ہیں۔

آخر میں ، جلالی بدن ایک رُوحانی بدن ہو گا ۔ ہمارے فطری جسم اس دنیا میں رہنے کے لیے موزوں ہیں لیکن ہم صرف اس واحد عالم میں ہی رہ سکتے ہیں۔ "گوشت اور خُون خُدا کی بادشاہی کے وارِث نہیں ہو سکتے "(کرنتھیوں 15باب 50آیت)۔ مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد ہم ایک "رُوحانی بدن" پائیں گے جو آسمان میں رہنے کے لیے بالکل موزوں ہوگا۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم صرف رُوحیں ہوں گے - رُوحوں کے بدن نہیں ہوتے - لیکن یہ کہ ہمارے جی اٹھے بدنوں کو طبعی غذائیت یا زندگی کو سہارا دینے کے فطرتی ذرائع پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔

جب ہم یسوع کے جی اٹھنے کے بعد کے ظہور کو یاد کرتے ہیں تو ہمیں اس بات کی جھلک ملتی ہے کہ ہمارے جلالی بدن کیسے ہوں گے۔ اُس کے بدن پر اب زخموں کے نشان نظر آتے تھے اور اُس کے شاگرد جسمانی طور پر اُسے چھو سکتے تھے مگر اس کے باوجود وہ بآسانی سفر کرنے اور اپنی مرضی سے ظاہر ہونے اور غائب ہونے کے قابل تھا۔ وہ دیواروں اور دروازوں سے گزر سکتا تھا لیکن وہ کھا پی، بیٹھ اور بات چیت بھی کر سکتا تھا۔ کلامِ مقدس ہمیں آگاہ کرتا ہے کہ ہمارے"پست حالی کے بدن " بالکل مسیح کے "جلال کے بدن " کی مانند ہوں گے (فلپیوں 3باب 21آیت )۔ درحقیقت ،گناہ کی طرف سے عائد کردہ وہ جسمانی پابندیاں جو زمین پر اُس کی مکمل خدمت کرنے کی ہماری صلاحیت کو روکتی ہیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی اور ہمیں ابدی طور پر اُس کی حمد و ستایش اور خدمت اور تمجید کرنے کے لیے آزاد کر دیں گی۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ہماراجلالی/جی اُٹھنے والا بدن ہمارے موجودہ بدن سے کیسے مختلف ہوگا ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries