settings icon
share icon
سوال

بائبل ہرجانہ/معاوضہ /زرِ تلافی دینے کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟

جواب


تلافی کرنا بائبل کا تصور ہے اور پرانے اور نئے عہد نامے دونوں میں ہی ایسے حوالہ جات موجود ہیں جو اِس موضوع پر خُدا کی مرضی کو ظاہر کرتے ہیں۔ پرانے عہد نامے میں اسرائیلی لوگ شریعت کے ماتحت تھے جس میں مختلف حالات میں ہرجانے اور تلافی کی وضاحت کی گئی ہے:" اگر کوئی آدمی بَیل یا بھیڑ چُرا لے اور اُسے ذبح کر دے یا بیچ ڈالے تو وہ ایک بَیل کے بدلے پانچ بَیل اورایک بھیڑ کے بدلے چار بھیڑیں بھرے۔ اگر سُورج نکل چکے تو اُس کا خُون جُرم ہو گا بلکہ اُسے نُقصان بھرنا پڑے گا اور اگر اُس کے پاس کچھ نہ ہو تو وہ چوری کے لئے بیچا جائے۔اگر چوری کا مال اُس کے پاس جیتا مِلے خواہ وہ بَیل ہو یا گدھا یا بھیڑ تو وہ اُس کا دُونا بھر دے۔اگر کوئی آدمی کسی کھیت یا تاکِستان کو کھِلوا دے اور اپنے جانور کو چھوڑ دے کہ وہ دُوسرے کے کھیت کو چَر لے تو اپنے کھیت یا تاکستان کی اچھّی سے اچھّی پَیداوار میں سے اُس کا مُعاوضہ دے۔اگر آگ بھڑکے اور کانٹوں میں لگ جائے اور اناج کے ڈھیر یا کھڑی فصل یا کھیت کو جلا کر بھسم کر دے تو جس نے آگ جلائی ہو وہ ضرُور مُعاوضہ دے۔ اگر کوئی شخص اپنے ہمسایہ سے کوئی جانور عارِیّت لے اور وہ زخمی ہو جائے یا مَرجائے اور مالِک وہاں مَوجُود نہ ہو تو وہ ضرُور اُس کا مُعاوضہ دے۔ " (خروج 22باب1، 3-6، 14 آیات)

احبار 6باب2-5 آیات ایسے ہی دیگر حالات کا احاطہ کرتی ہیں جن میں چوری شُدہ چیز، کسی امانت یا لین دین میں فریب کرنے کی صورت میں مجرم سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ اصل چیز بھی واپس کرے اور اُس کا پانچواں حصہ بھی بڑھا کر دے۔ اِس حوالے میں اِس پر بھی غور کریں کہ اُس چیز کے لیے ہرجانہ چیز کے مالک کودینا ہے (حکومت یا کسی دوسرے فریقِ ثالث کو نہیں دینا)۔ اور اِس کے ساتھ جرم کی قربانی بھی خُدا کے حضور گزراننی ہے۔ اور اِس طرح موسویٰ شریعت نے چوری، بھتہ خوری، دھوکہ دہی اور غفلت کے متاثرین کو تحفظ فراہم کیا اور نا پسندیدہ فریقوں یعنی دھوکا دینے والوں سے نقصان کی تلافی کرنے کا تقاضا کیا ۔ تلافی کی یہ رقم نقصان کے100 گنا سے لیکر 500 گنا تک ہو سکتی تھی۔ یہ زرِ تلافی اُسی دن ادا کیا جانا ہوتا تھا جس دن مجرم خُدا کے سامنے اپنے جرم کی قربانی گزرانتا تھا، جس کا مطلب ہے کہ اپنے پڑوسی کے ساتھ تعلقات کی بحالی کرنا اُتنا ہی اہم ہے جتنا کہ خُدا کے ساتھ صلح کرنا اہم ہے۔

نئے عہد نامے میں ہمارے پاس لوقا 19باب میں زکائی کے گھر کی ایک شاندار مثال ہے۔ خُداوند یسوع زکائی کے گھر جاتا ہے اور وہ لوگ جو جانتے تھے کہ زکائی محصول لینے والوں کا سردار اور ایک گناہگار شخص تھا وہ یسوع کی طرف سے اُس کے گھر جانے پر بڑ بڑانے لگے (7 آیت)۔ " زکّا ئی نے کھڑے ہو کر خُداوند سے کہا اَے خُداوند دیکھ مَیں اپنا آدھا مال غرِیبوں کو دیتا ہُوں اور اگر کسی کا کچھ ناحق لے لِیا ہے تو اُس کو چَوگُنا ادا کرتا ہُوں۔یِسُو ع نے اُس سے کہا آج اِس گھر میں نجات آئی ہے ۔ اِس لئے کہ یہ بھی ابرہا ؔم کا بیٹا ہے۔کیونکہ اِبنِ آدم کھوئے ہُوؤں کو ڈُھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے " (8-10 آیات)۔ زکائی کے الفاظ سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ (1) وہ لوگوں کو دھوکا دینے کا مجرم تھا ، (2) اُسے اپنے ماضی کے اقدامات پر پچھتاوا تھا ، اور (3) وہ بحالی کرنے کے لیے پُر عزم تھا ۔ خُداوند یسوع کے الفاظ سے ہم سیکھتے ہیں کہ (1) زکائی کو اُس دن بچایا گیا تھا اور اُس کے گناہ معاف کر دئیے گئے تھے ، (2) اُس کی نجات کا ثبوت سب کے سامنے اُس کا اعتراف تھا (دیکھیں رومیوں 10باب10 آیت) اور اُس نے تمام ناجائز طریقے سے حاصل کردہ فوائد کو ترک کر دیا تھا ۔ زکائی نے توبہ کی اور اُس کا خلوص اُس کی فوری بحالی کی خواہش میں واضح تھا۔ یہاں پر ایک شخص ہے جو شرمسار اور مضطرب تھا اور مسیح پر اُس کے ایمان کا ثبوت اُس کا ماضی کے گناہوں کے بدلے میں زیادہ سے زیادہ کفارہ دینے کا عزم تھا۔

یہی بات آج مسیح کو صحیح معنوں میں جاننے والے کسی بھی شخص کے لیے بھی درست ہے۔ حقیقی توبہ غلط کاموں کے ازالے کا باعث بنتی ہے۔ جب کوئی شخص مسیحی بنتا ہے تو اُس کے اندر گہرے احساس کے ساتھ یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ اچھے کام کرے اور اِس میں جہاں کہیں پر ممکن ہو وہاں پر بحالی کا کام کرنا بھی شامل ہے۔ "جہاں تک ممکن ہو سکے" کا تصور بہت اہم ہے اور اِسے یاد رکھنا بہت زیادہ ضروری ہے۔ کچھ جرائم اور گناہ ایسے بھی ہیں جن کے لیے مناسب بحالی ممکن نہیں ہے۔ ایسے معاملات میں ایک مسیحی کو کسی نہ کسی حد تک تلافی کرنی چاہیے جس سے توبہ کا اظہار ہوتا ہے لیکن اِس کے ساتھ ساتھ اُسے مکمل طور پر تلافی کرنے میں ناکامی کی بدولت احساسِ جرم نہیں رکھنا چاہیے۔ تلافی ہماری نجات کا نتیجہ ہے –لیکن یہ نجات حاصل کرنے کے لیے تقاضا نہیں ہے۔ اگر آپ کو مسیح یسوع پر ایمان کے وسیلے گناہ کی معافی ملی ہے تو آپ کے تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، چاہے آپ اُن کی تلافی کر پائے ہوں یا نہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل ہرجانہ/معاوضہ /زرِ تلافی دینے کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries