مذہب اور روحانیت میں کیا فرق ہے؟



سوال: مذہب اور روحانیت میں کیا فرق ہے؟

جواب:
اِس سے پہلے کہ ہم مذہب اور روحانیت میں فرق کی کھوج لگائیں، ہمیں پہلے دو اصطلاحات کی وضاحت کرنا ضروری ہے۔ مذہب کی وضاحت اِس طرح کی جا سکتی ہے، "پرستش کرنے کے لئے خُدا یا خداؤں پر ایمان رکھنا، جس کا عام طور پر اظہار طرزِ عمل اور رسم میں کیا جائے" یا "عقائد، پرستش کا کوئی مخصوص نظام وغیرہ، جِس میں ضابطہ اخلاقیات شامل ہوں"۔ روحانیت کی وضاحت اِس طرح ہو سکتی ہے، "روحانی، غیر جسمانی ہونے کا معیار یا حقیقت ہے" یا "غالب طور پر روحانی کردار جس کا اظہار ،خیال، اور زندگی وغیرہ میں کیا جائے، روحانی رجحان یا رویہ"۔ مختصر طور پر، مذہب عقائد اور رسومات کا ایسا مجموعہ ہے جو انسان کو خُدا کے ساتھ سیدھے راستے پر لانے کا دعویٰ کرتا ہے، اور روحانیت جسمانی چیزوں کی بجائے روحانی چیزوں/باتوں اور روحانی دُنیا پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

مذہب کے بارے میں عام غلط فہمی یہ ہے کہ مسیحیت اسلام، یہودیت، ہندومت وغیرہ جیسا دوسرا مذہب ہے۔ افسوس، بہت سے لوگ جو مسیحیت کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مسیحیت پر ایسے عمل کرتے ہیں جیسے یہ ایک مذہب ہے۔ بہت سے لوگوں کے لئے مسیحیت قوانین اور رسومات کے مجموعہ سے زیادہ کچھ نہیں ہے جن پر ایک شخص کو عمل کرنا ضروری ہے تاکہ وہ موت کے بعد فردوس میں جا سکے۔ یہ حقیقی مسیحیت نہیں ہے۔ حقیقی مسیحیت ایک مذہب نہیں ہے بلکہ یہ فضل سے ایمان کے وسیلہ سے یسوع مسیح کو نجات دہندہ قبول کر کے خُدا کے ساتھ درُست تعلقات قائم کرنا ہے۔ ہاں، مسیحیت میں عمل کرنے کے لئے رسومات پائی جاتی ہیں (مثال کے طور پر، بپتسمہ اور عشائے ربانی)۔ ہاں، مسیحیت میں قوانین بھی پائے جاتے ہیں جن کی پیروی کرنا ضروری ہے (مثال کے طور پر، خون نہ کرنا، ایک دوسرے سے محبت کرو وغیرہ)۔ لیکن یہ رسومات اور قوانین مسیحیت کی اصل/بنیاد نہیں ہیں۔ مسیحیت کی رسومات اور قوانین نجات کے نتائج ہیں۔ جب ہم یسوع مسیح کے وسیلہ سے نجات حاصل کرتے ہیں، تو اِس ایمان کے اعلانیہ اظہار کے لئے ہم بپتسمہ لیتے ہیں۔ جب مسیح کی قربانی کی یادگاری میں عشائے ربُابی کی رسم کرتے ہیں۔ ہم خُدا کی محبت اور جو کچھ اُس نے ہمارے لئے کیا اُس کی شکر گزاری میں کرنے اور نہ کرنے کی فہرست پر عمل کرتے ہیں۔

روحانیت کے بارے میں عام غلط فہمی یہ ہے کہ روحانیت کی بہت سے اشکال ہیں اور تمام برابر طور پر درُست ہیں۔ غیر معمولی جسمانی حالت میں سوچ وبچار کرنا، فطرت کے ساتھ رازونیاز کی باتیں کرنا، روحانی دُنیا کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش کرنا وغیرہ روحانی معلوم ہو سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ جھوٹی روحانیت ہے۔ حقیقی روحانیت یسوع مسیح کے وسیلہ سے نجات حاصل کرنے کے نتیجہ میں خُدا کے روح القدس سے معمور ہونا ہے۔ حقیقی روحانیت روح القدس کا پھل محبت، خوشی، اطمینان، تحمل، مہربانی، نیکی، ایمانداری، حلم، اور پرہیزگاری ہے جو ایماندار کی زندگی میں پیدا ہوتا ہے (گلتیوں باب 5 آیت 22)۔ روحانیت زیادہ سے زیادہ خُدا کی مانند بننا ہے ، جو روح ہے (یوحنا باب 4 آیت 24) اور اپنے آپ کو اُس کے ہمشکل بنانا ہے (رومیوں باب 12 پہلی دو آیات)۔

مذہب اور روحانیت میں مشترک یہ ہے کہ دونوں میں خُدا کے ساتھ تعلقات رکھنے کے غلط طریقے ہو سکتے ہیں۔ مذہب خُدا کے ساتھ حقیقی تعلقات کے لئے رسومات کی بے حس تعمیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ روحانیت خُدا کے ساتھ حقیقی تعلقات کے لئے روحانی دُنیا کے ساتھ تعلق قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ دونوں خُدا کی جانب جانے والے غلط راستے ہو سکتے ہیں اور اکثر ہوتے ہیں۔ اِس کے ساتھ ہی، مذہب اِس مفہوم میں قابلِ قدر ہوسکتا ہے کہ یہ اِس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کوئی خُدا ہے اور ہم کسی نہ کسی طرح اُس کے سامنے جوابدہ ہیں۔ مذہب کی حقیقی قدر اِس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے مذہب کی قابلیت ہے کہ ہم سب خُدا کے فضل سے محروم ہیں اور ہمیں نجات دہندہ کی ضرورت ہے۔ روحانیت کی حقیقی قدر یہ ہے کہ یہ اِس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جسمانی دُنیا ہی سب کچھ نہیں ہے۔ انسان صرف مادی نہیں ہیں، بلکہ رُوح بھی رکھتے ہیں۔ ہمارے اردگرد کوئی روحانی دُنیا ہے جِس سے ہمیں آگاہ ہونا چاہیے۔ روحانیت کی حقیقی قدر یہ ہے کہ یہ اِس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اِس نفسانی دُنیا سے باہر کچھ ہے یا کوئی ہے جس کے ساتھ تعلق رکھنے کی ضرورت ہے۔

یسوع مسیح مذہب اور روحانیت دونوں کی تکمیل ہے۔ واحد یسوع ہی ہے جس کے سامنے ہم جوابدہ ہیں اور جس کی طرف حقیقی مذہب اشارہ کرتا ہے۔ واحد یسوع ہی ہے جِس کے ساتھ ہمیں تعلق قائم کرنے کی ضرورت ہے اور جِس کی طرف حقیقی روحانیت اشارہ کرتی ہے۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



مذہب اور روحانیت میں کیا فرق ہے؟