settings icon
share icon
سوال

کیامذہب لوگوں کے لیے افیون کی گولی ہے ؟

جواب


مسیحیت (اور/یا دیگر مذاہب) کو "لوگوں کے لیے افیون" یا "عوام کے لیے نشہ آور چیز" قراردینا مذہب کی تردید کرنے والوں کی طرف سے استعمال کیا جانے والا ایک عام حربہ ہے ۔ اس طرح کے جملوں کا استعمال کرنا مذہب کو جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کئے بغیر نظر انداز کرنے کا ایک طریقہ ہے ۔ کارل مارکس(Karl Marx) اِس جملے کو استعمال کرنے والا پہلا شخص نہیں تھا لیکن اس جملے کو بولتے ہوئے زیادہ تر لوگ جس شخص کے بارے میں سوچتے ہیں وہ کارل مارکس ہے ۔ مارکس کی دلیل تھی کہ مذہب لوگوں کو مصنوعی اورخیالی خوشی دیتا ہے - جیسے افیون ایک نشئی کو خوشی دیتی ہے - اور لوگوں کو اس غیر حقیقی فریب سے آزاد کرنا ایک بہتر معاشرے کی تعمیر کا حصہ ہے ۔

مذہب کے عوام کے لیے افیون ہونے " کا الزام بالخصوص مارکس سے شروع کرتے ہوئے "اکثر ملحدین کی طرف سے استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ وہ خدا کے وجود سے انکار کرتے ہیں اور انہیں کسی نہ کسی طرح مذہب کی مستقل موجودگی کی وضاحت کرنی پڑتی ہے۔ وہ مذہب کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور اس لیے وہ دوسروں کی اس ضرورت کو نہیں سمجھتے۔ مذہب کی اپنی تردید میں مارکس مسیحیت کا خاص ذکر نہیں کر رہا تھا۔ بلکہ "لوگوں" کو کم تر ظاہر کرتا اور اُنہیں غریب، جاہل اور آسانی سے دھوکا کھانے والے قرار دیتےہوئے مذہب کی عمومی طور پر مذمت کر رہا تھا۔ "عوام کے لیے افیون" کے بیان کے پیچھے بنیادی دلیل یہ ہے کہ مذہب کمزور ذہن اور جذباتی لحاظ سے پریشان حال لوگوں کے لیے ہے جنہیں زندگی گزارنے کے لیے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج ملحدین بھی اسی طرح کے دعوے کرتے ہیں، جیسا کہ یہ تصور ہے کہ "خدا بالغوں کا خیالی دوست ہے۔"

لہذا کیا مذہب "عوام کے لیے افیون" کے سوا کچھ نہیں؟ کیا مذہب کمزور ذہن کے لوگوں کو جذباتی سہارا فراہم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتا؟ چند سادہ حقائق اس سوال کا "نہیں" کے ساتھ جواب دیں گے۔ (1) خدا کے وجود کے لیے نا قابلِ تسخیر منطقی، سائنسی اور فلسفیانہ دلائل موجود ہیں۔ (2) یہ حقیقت کہ انسانیت بگاڑ کی حالت میں ہے اور اِسے چھٹکارے /نجات کی ضرورت ہے (مذہب کا بنیادی پیغام) پوری دنیا میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ (3) انسانیت کی تاریخ میں فکری اعتبار سے بے حد ذہین مصنفین اور مفکرین کی اکثریت خُدا پرست رہی ہے۔ کیا کچھ لوگ مذہب کو سہارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں؟ جی ہاں کرتے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مذہب کے دعوے باطل ہیں؟ نہیں، مذہب خدا کے وجود کے ثبوت اور یہ تسلیم کرنے کا قدرتی ردعمل ہے کہ ہم بگاڑ کی حالت میں ہیں اور ہمیں اصلاح کی ضرورت ہے۔

اِسی اثناء میں ہمیں جھوٹے مذہب کے درمیان جو کہ جھوٹی ضمانت دیتا ہے – بالکل اُسی طرح جیسے افیون سے جھوٹی بہتری کا احساس ہوتا ہے – اور مسیحیت کے درمیان جو کہ واحد سچا مذہب ہے اور بنی نوع انسان کے لیے واحد حقیقی امید ہے واضح فرق کرنے کی ضرورت ہے ۔ جھوٹا مذہب اس خیال پر مبنی ہے کہ انسان اپنی طرف سے کسی طرح کی کوشش (کام) کے ذریعے اپنے آپ کو خدا کے حضور قابل قبول بنا سکتا ہے۔ صرف مسیحیت ہی اس بات کی شناخت کرتی ہے کہ انسان "قصوروں اور گناہوں کے سبب سے مردہ" ہے (افسیوں 2باب 1آیت) اور فردوس میں ابدیت کے لائق کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے۔ صرف مسیحیت ہی انسان کی مکمل نااہلی کا حل - صلیب پر یسوع مسیح کا عوضی کفارہ -پیش کرتی ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیامذہب لوگوں کے لیے افیون کی گولی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries