لوگ یسوع مسیح کو اپنے نجات دہندہ کے طور پر رَد کیوں کرتے ہیں؟


سوال: لوگ یسوع مسیح کو اپنے نجات دہندہ کے طور پر رَد کیوں کرتے ہیں؟

جواب:
یسوع مسیح کو نجات دہندہ کے طور پر قبول کرنا یا رَد کرنا زندگی کا بنیادی ترین فیصلہ ہے۔ بہت سے لوگ یسوع مسیح کو نجات دہندہ کے طور پر کیوں ردّ کرتے ہیں؟شاید یسوع مسیح کو مسترد کرنے کی اتنی ہی وجوہات ہیں جتنی اُن لوگوں کی تعداد ہے جو اُسے ردّ کرتے ہیں۔ لیکن ذیل میں چار ایسی وجوہات پیش کی جاتی ہیں جو لوگوں میں عام پائی جاتی ہیں :

1. کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اُنہیں کسی نجات دہندےکی ضرورت نہیں ہے۔ ایسے لوگ بنیادی طور پر خود کو" نیک" سمجھتے ہیں اور اس بات کو محسوس نہیں کرتے کہ باقی تمام لوگوں کی طرح وہ بھی گنہگار ہیں اور اپنی کوششوں سے خُدا کے پاس نہیں آ سکتے۔ خُداوند یسوع نے فرمایا ہے کہ "راہ اور حق اور زندگی مَیں ہوں کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا" (یوحنا 14باب 6آیت)۔ ایسے لوگ جو مسیح کو ردّ کرتے ہیں وہ نہ تو ا ِس قابل ہوں گے کہ خُدا کے حضور کھڑے ہو سکیں اور نہ ہی اپنی صلاحیتوں کی بناء پر اپنے معاملے کی کامیابی سے وکالت کر پائیں گے۔

2. کچھ لوگوں اِس ڈر سے بھی مسیح کو نجات دہندہ کے طور پر قبول نہیں کرتے کہ انہیں سماجی نامنظوری یا ایذا رسانی کاسامنا کرنا پڑے گا ۔ یوحنا 12باب 42-43 آیات میں غیر ایماندار لوگوں نے یسوع کو اس وجہ سے ردّکیا تھا کہ وہ خُدا کی مرضی کو پورا کرنے کی بجائے اپنے ساتھیوں کے درمیان اپنے رتبے کے بارے میں زیادہ فکر مند تھے۔ یہ فریسی تھے جن کو اپنے رتبےسے محبت اور لوگوں کی طرف سے اپنے لیے احترام نے اندھا کر دیا تھا "کیونکہ وہ خُدا سے عزت حاصل کرنے کی نسبت انسان سے عزت حاصل کرنا زیادہ چاہتے تھے"۔

3. کچھ لوگوں کے نزدیک ہمیشہ کی زندگی کی نسبت اِس دنیا کی چیزیں زیادہ اہمیت کی حامل ہیں ۔ ایسےایک شخص کی کہانی ہم متی 19باب 16-23آیات میں پڑھتے ہیں۔ یہ شخص مسیح کے ساتھ ابدی رشتہ قائم کرنے کی وجہ سے اپنی زمینی دولت کو کھونا نہیں چاہتا تھا (2کرنتھیوں4باب 16-18آیات بھی دیکھیں)۔

4. بہت سے لوگ محض رُوح القدس کی اُن کوششوں کی مخالفت کررہے ہوتے ہیں جو وہ اُن کو مسیح پر ایمان میں شامل کرنے کےلیے کر تا ہے ۔ ابتدائی کلیسیا کے رہنما ستفنس نے اُن لوگوں کو جو اُسے قتل کرنے کو تھے بتایا کہ"اے گردن کشو اور دِل اور کان کے نامختونو! تم ہر وقت رُوح القدس کی مخالفت کرتے ہو جیسے تمہارے باپ دادا کرتے تھے ویسے ہی تم بھی کرتے ہو" (اعمال 7 باب 51 آیت)۔ اعمال 28باب 23-27آیات میں پولُس رسول بھی انجیل کو ردّ کرنے والے ایک گروہ کے بارے میں ایسے ہی بیان کرتا ہے۔

لوگ چاہےجس بھی وجہ سے مسیح کو ردّ کرتےہیں تاہم ایک بات سچ ہے کہ اُن کی اس تردید کے ابدی نتائج بہت تباہ کُن ہیں۔ " کیونکہ آسمان کے تلے آدمیوں کو کوئی دوسرا نام نہیں بخشا گیا جس کے وسیلہ سے ہم نجات پا سکیں" (اعمال4باب 12آیت )۔ لہذا وہ لوگ جو کسی بھی وجہ سے یسوع کو ردّ کرتے ہیں جہنم کے"اندھیرے" میں ابدی سزا پائیں گے جہاں "رونا اور دانت پیسنا ہو گا" (متی25باب 30آیت )۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
لوگ یسوع مسیح کو اپنے نجات دہندہ کے طور پر رَد کیوں کرتے ہیں؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں