settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


نئی پیدایش تجدید نو (regeneration)کے لیے استعمال ہونے والی ایک اور اصطلاح ہےجس کا تعلق بائبلی تصور"نئے سرے سے پیدا ہونے" کیساتھ ہے۔ ہماری نئی پیدایش ہماری پہلی پیدایش سے فرق ہے جس کے دوران ہم جسمانی طور پر حمل میں پڑے اور ہمیں گناہ آلودہ فطرت وراثت میں ملی تھی۔ نئی پیدایش ایک رُوحانی، مُقدس اور آسمانی پیدایش ہے جس کے نتیجے میں ہم رُوحانی طور پر زندہ ہوتے ہیں۔ انسان اپنی فطری حالت میں "خطاؤں اور گناہوں میں مُردہ" ہے جب تک کہ اُسے مسیح کے وسیلہ سے "زندہ" (نئے طور پر پیدا) نہیں کیا جاتا۔ یہ نئی پیدایش تب رونما ہوتی ہے جب وہ مسیح پر اپنا ایمان لاتا ہے (افسیوں 2باب 1آیت)۔

تجدیدِ نو ایک بنیادی تبدیلی ہے۔ جس طرح ہماری جسمانی پیدایش کے نتیجے میں ایک نیا انسان زمینی دائرے میں داخل ہوتا ہے اُسی طرح ہماری رُوحانی پیدایش کے نتیجے میں ایک نیا انسان "آسمانی مقاموں" میں داخل ہوتا ہے (افسیوں 2باب 6آیت )۔ تجدید ِ نو کے بعد ہم آسمانی باتوں پر غور کرنا، اُنہیں سننا اور تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں؛ ہم ایمان اور پاکیزگی کی زندگی بسر کرنے لگتے ہیں۔ اب مسیح ہمارے دلوں میں بستا ہے ؛ اور نیا مخلوق ہونے کے باعث اب ہم الٰہی فطرت میں حصہ دار ہیں ( 2کرنتھیوں 5باب 17آیت)۔ اس تبدیلی کا منبع انسان نہیں بلکہ خدا ہے (افسیوں 2باب 1، 8آیت)۔ خُدا کی عظیم محبت اور مفت بخشش، اُس کا بھرپور فضل اور بڑی رحمت نئی پیدایش کا سبب ہیں۔ خُدا کی عظیم قدرت - وہ قدرت جس نے مسیح کو مُردوں میں سے جِلایا- گنہگاروں کی تجدید نو اور تبدیلی میں ظاہر ہوتی ہے (افسیوں 1باب 19-20آیات)۔

تجدید نو ایک لازمی عمل ہے۔ گناہ آلودہ انسانی بدن خدا کی حضوری میں قائم نہیں رہ سکتا۔ نیکدیمس کے ساتھ اپنی گفتگو میں یسوع نے اُس سے دومرتبہ کہا تھاکہ کسی بھی انسان کے لیے خدا کی بادشاہی کو دیکھنے کے لیے نئے سرے سے پیدایش ہونا ضروری ہے (یوحنا 3باب 3، 7آیت)۔ تجدید نو اختیاری عمل نہیں ہے"جو جسم سے پیدا ہُوا ہے جسم ہے اور جو رُوح سے پیدا ہُوا ہے رُوح ہے" (یوحنا 3باب 6آیت)۔ جسمانی پیدایش ہمیں زمینی زندگی کے لیے موزوں بناتی ہے جبکہ نئی پیدایش ہمیں آسمانی زندگی کے لیے موزوں بناتی ہے۔ دیکھیں افسیوں 2باب 1آیت؛ 1پطرس 1باب 23آیت؛ یوحنا 1 باب 13آیت؛ 1یوحنا 3باب 9آیت؛ 4باب 7آیت؛ 5باب 1، 4، 18آیت۔ تجدیدِ نو اُس عمل کا حصہ ہے جو خدا نجات کے موقع پر ہم پر مہر کرنے (افسیوں 1باب 14آیت)، ہمیں لے پالک ہونے کا درجہ دینے (گلتیوں 4باب 5آیت)، ہمارے ساتھ میل ملاپ کرنے (2 کرنتھیوں5باب 18-20آیات ) کے وسیلہ سے ہمارے لیے کرتا ہے۔ تجدید ِ نو خدا کی طرف سے کسی شخص کو یسوع مسیح پر ایمان لانے کے نتیجے میں رُوحانی طور پر زندہ کرنے کا عمل ہے۔ نجات سے پہلے ہم خدا کے فرزند نہیں تھے(یوحنا 1باب 12-13آیات )؛ بلکہ ہم غضب کے فرزند تھے (افسیوں 2باب 3آیت ؛ رومیوں 5باب 18-20آیات)۔ نجات سے پہلے ہم بگاڑ کا شکار تھے جبکہ نجات کے بعد ہمیں بحال کیا جاتا ہے ۔ تجدید نو کا نتیجہ خُدا کے ساتھ صلح (رومیوں 5باب 1آیت)، نئی پیدایش (ططس 3باب 5آیت ؛ 2 کرنتھیوں 5باب 17آیت) اور خدا کی فرزندیت( یوحنا 1باب 12-13آیات؛ گلتیوں 3باب 26آیت) ہے ۔ تجدیدِ نو تقدیس کے عمل کی شروعات کرتا ہے جس میں ہم ایسے لوگ بنتے ہیں جو خدا ہمیں بنانا چاہتا ہے (رومیوں 8باب 28-30آیات)۔

تجدید ِنو کا واحد ذریعہ صلیب پر مسیح کے مکمل کئے ہوئے کام پر ایمان لانا ہے ۔ ہمارا کوئی بھی نیک کام یا شریعت کی پیروی دل کو نیا نہیں بنا سکتی۔ "کیونکہ شرِیعت کے اَعمال سے کوئی بشر اُس کے حضور راست باز نہیں ٹھہرے گا" (رومیوں 3باب 20آیت)۔ صرف مسیح ہی انسانی دل کے مکمل بگاڑ کا علاج پیش کرتا ہے۔ ہمیں تزئین و آرائش یا اصلاح یا تنظیم نو کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں نئی پیدایش کی ضرورت ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries