settings icon
share icon
سوال

ہم کب اور کیسے رُوح القدس حاصل کرتے ہیں ؟

جواب


پولس رسول بڑے واضح انداز میں سکھاتا ہے کہ ہم اُس وقت رُوح القدس حاصل کرتے ہیں جب ہم یسوع مسیح کو اپنےشخصی نجات دہندہ کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ 1کرنتھیوں 12باب 13آیت بیان کرتی ہے" کیونکہ ہم سب نے خواہ یہودی ہوں خواہ یونانی۔ خواہ غلام خواہ آزاد۔ ایک ہی رُوح کے وسیلہ سے ایک بدن ہونے کےلیے بپتسمہ لیا اور ہم سب کو ایک ہی رُوح پلایا گیا"۔ رومیوں 8باب 9آیت ہم بتاتی ہے کہ اگر کوئی شخص رُوح القدس حاصل نہیں کرتا تو وہ مسیح میں نہیں :" لیکن تم جسمانی نہیں بلکہ رُوحانی ہو بشرطیکہ خدا کا رُوح تم میں بسا ہوا ہے ۔ مگر جس میں مسیح کا رُوح نہیں وہ اُس کا نہیں۔" اسی طرح افسیوں 1باب 13- 14آیات ہمیں سکھاتی ہیں کہ رُوح القدس تمام ایمان لانے والوں کے لیے نجات کی مُہر ہے :" اور اسی میں تم پر بھی جب تم نے کلامِ حق کو سُنا جو تمہاری نجات کی خوشخبری ہے اور اُس پر ایمان لائے پاک موعُودہ رُوح کی مُہر لگی۔ وہی خدا کی ملکیت کی مخلصی کےلیے ہماری میراث کا بیعانہ ہے تاکہ اُس کے جلال کی ستایش ہو"۔

یہ تینوں حوالہ جات اِس بات کو واضح کردیتے ہیں کہ رُوح القدس نجات کے وقت حاصل ہوتا ہے ۔ اگر کرنتھس کے تمام ایماندار وں کو رُوح القدس حاصل نہ ہوتا تو پولس ایسا نہیں کہہ سکتا تھا کہ ہم سب نے ایک ہی رُوح سے بپتسمہ لیا اور سب کو ایک ہی رُوح سے پلایا گیا ۔ حتیٰ کہ رومیوں 8باب 9آیت یہ بیا ن کرنے میں اور بھی زیادہ مبنی بر دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص رُوح القدس نہیں رکھتا تو وہ مسیح میں نہیں ۔ اس لیے رُوح القدس کا حصول نجات یافتہ ہونے کی نشانی کا ایک لازمی جزو ہے ۔ مزید یہ کہ اگر نجات کے وقت رُوح القدس حاصل نہیں کیا جاتا تو یہ کسی بھی شخص کے لیے" نجات کی مُہر "(افسیوں 1باب 13-14آیات) نہیں ہو سکتاتھا۔ بہت سے صحائف نے اِس بات کو پوری طرح واضح کر دیا ہے کہ ہماری نجات اُسی وقت محفوظ ہو جاتی ہے جب ہم مسیح کو نجات دہندہ کے طور پر قبول کرلیتے ہیں ۔

یہ بحث کافی دفعہ متنازعہ صورت اختیار کر لیتی ہے کیونکہ رُوح القدس کی خدمات اکثر غیر واضح ہوتی ہیں ۔ رُوح القدس کا حصول یا سکونت نجات کے وقت ہوتی ہے ۔ رُوح القدس سے بھرنا مسیحی زندگی میں ایک جاری رہنے والاعمل ہے ۔ اگرچہ ہم یہ مانتے ہیں کہ رُوح القدس کا بپتسمہ بھی نجات کے وقت ہوتا ہے مگر کچھ مسیحی ایسا نہیں مانتے – وہ رُوح القدس کے بپتسمہ کو نجات کے نتیجے میں رُوح القدس کے حاصل کرنے کیساتھ گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔

آخر میں ، ہم رُوح القدس کیسے حاصل کرتے ہیں ؟ ہم صرف یسوع مسیح کو اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر قبول کرکےرُوح القدس حاصل کرتے ہیں ( یوحنا 3 باب 5-16آیات)۔ ہم رُوح القدس کب حاصل کرتے ہیں ؟ جب ہم ایمان لاتے ہیں تو رُوح القدس مستقل طور پر ہم میں سکونت کرتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

؟ کس طرح ہم روُح القدس حاصل کرتے ہیں
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries