بائبل ایک سرکش/باغی بچّے کے ساتھ کس طرح کے سلوک کی تعلیم دیتی ہے؟


سوال: بائبل ایک سرکش/باغی بچّے کے ساتھ کس طرح کے سلوک کی تعلیم دیتی ہے؟

جواب:
وہ بچّہ جو اپنے رویے سے بغاوت کی نمائش کر رہا ہوتا ہے عین ممکن ہے کہ اُس کے اِس عمل کے پیچھے کئی ایک وجوہات ہوں۔ کرخت، محبت سےخالی، اور ہمیشہ تنقیدی رویے کے حامل والدین کا ساتھ لازمی طور پر کسی نہ کسی طرح کی بغاوت کا سبب بنتا ہے۔ یہاں تک کہ ایسے سلوک کے خلاف سب سے زیادہ فرمانبردار بچّہ بھی اندرونی یا بیرونی طور پر بغاوت کرے گا۔لہذا والدین کو اپنے بچّوں کے ساتھ اِس قسم کے رویے رکھنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ والدین کا رویہ چاہے جیسا مرضی ہو کچھ بچّے سرکش اور باغی ہو ہی جاتے ہیں۔

چونکہ سرکش بچّہ فطری طور پر ایسی شخصیت کا مالک ہوتا ہے جس میں وہ اپنی مرضی کرتا ہے اِس لیے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اُس کی شخصیت میں ہر ایک چیز کی حد کو چھونے کا رجحان، ہر ایک چیز پر اختیار رکھنے کی خواہش اور ہر ایک اختیار کے خلاف مزاحمت کرنے کا رویہ پایا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، بغاوت دراصل اُس بچّے کا درمیانی نام ہے۔ اِس کے علاوہ، یہ مضبوط مرضی کے باغی بچے اکثر بہت ذہین ہوتے ہیں اور اپنے اردگرد کے حالات اور لوگوں پر اختیار رکھنے اور حالات پر قابو پانے کے نت نئے طریقوں کو بڑی آسانی کے ساتھ تلاش کر لیتے ہیں اور حیران کُن تیزی کے ساتھ صورتحال کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہ بچے اپنے والدین کے لئے بے حد تکلیف دہ اور تھکا دینے والے چیلنج کا باعث ہو سکتے ہیں۔

خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ بھی سچ ہے کہ بچّے جو کچھ بھی ہیں اور جیسے بھی ہیں خُدا نےاُنہیں بنایا ہے۔ وہ اُن سے پیار کرتا ہے، اور اُس نے والدین کو بھی اپنے بچّوں سے متعلقہ چیلنجوں کو پورا کرنے کے وسائل کے بغیر نہیں چھوڑا۔ بائبل کے اندر ایسے اصول موجود ہیں جو باغی ، خود سر اور سرکش بچّوں نپٹنے کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ سب سے پہلے امثال 22باب 6 آیت ہمیں بتاتی ہےکہ "لڑکے کی اُس راہ پر تربیت کر جس پر اُسے جانا ہے۔ وہ بُوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مڑے گا"۔ تمام بچّوں کو جس راہ پر چلنا چاہیے وہ راہ در اصل خُدا کی طرف جاتی ہے۔ خُدا کے کلام کی تعلیم تمام بچّوں کے لئے ضروری ہے، اُن کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خُدا کون ہے اور اُس کی بہترین خدمت کیسے کرنی ہے۔وہ سب بچّے جو خود سر ہیں اور مضبوط قوتِ ارادی کے مالک ہیں اُن کے حوالے سے اِس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اُن کے نزدیک وہ کونسی چیز ہے جو اُنکو دوسری چیزوں یا لوگوں کو اپنے قابو میں کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ جب ہم اُس تحریک کے بارے میں معلوم کر لیں گے تو یہی تحریک اُن کے لیے اپنے اصل راستے اور منزل کو ڈھونڈنے میں بہت زیادہ مددگار ثابت ہوگی۔ باغی بچّے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وہ دُنیا کا انچارج نہیں ہے، بلکہ خُدا ہے، اور اُسے صرف وہی کام کرنے چاہییں جو خُدا کی راہ کی طرف لے کر جاتے ہیں۔ پس یہ چیز تقاضا کرتی ہے کہ والدین اِس سچائی پر مکمل یقین رکھیں اور اِس کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزاریں۔ وہ والدین جو خود خُدا کے خلاف بغاوت میں ہیں وہ اپنے بچّے کو تابعداری کرنے کے لئے قائل نہیں کر سکتے ۔

ایک بار جب یہ سچائی واضح ہو چکی ہے کہ واحد خُدا ہی وہ ذات ہے جو سارے اصول مرتب کرتی ہے تو والدین کو چاہیےکہ وہ اِس بات کو اپنے بچّوں کو ذہن نشین کروائیں کہ وہ خُدا کے آلہ کار ہیں اور وہ اپنے خاندانوں کے لئے خُدا کے منصوبے کو پورا کرنے کے لئے ہر ضروری کام کریں گے۔ ایک سرکش بچّے کو لازمی طور پر یہ سکھانا چاہیے کہ والدین کے لئےیہ خُدا کا منصوبہ ہے کہ وہ قیادت کریں اور بچے اُن کی پیروی کریں۔ اِس نکتے کے حوالے سے کسی طرح کا سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے اور کسی طرح کی کوئی کمزوری بھی نہیں دکھانی چاہیے۔ خود سر یعنی اپنی مرضی کا مالک بچّہ والدین کے رویےمیں ایک میل بھر کے فاصلے سےتذبذب اور فیصلہ نہ کرنےپانے کی صلاحیت کو بھانپ سکتا ہے اور یہی وہ موقع ہوتا ہے جب وہ کوئی بھی موقع پا کر قیادت کی سیٹ پر بیٹھنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ ہر طرح کے حالات پر قابض ہو جائے۔ ایک خود سر یعنی ضدی بچّے کے لیے اپنی قیادت کی فرمانبرداری کرنے کا اصول لازمی طور پر عمل میں لایا جانا چاہیے۔ اگر ایسے بچّے بچپن میں تابعداری نہ سیکھیں تو پھر وہ اپنے مستقبل میں ہر طرح کی قیادت کے ساتھ جھگڑوں میں پڑیں گے جن میں پولیس، عدالتیں ، قانون اور عسکری قیادت شامل ہے۔ رومیوں13 باب 1- 5 آیات واضح طور پر سکھاتی ہے کہ ہم پر حکومتیں خُدا کی طرف سے قائم کی گئی ہیں، اور ہمیں اُن کی تابعداری کرنی چاہیے۔

مزید برآں ایک خود سر اور ضدی بچّہ جو ہر ایک بات میں اپنی مرضی کرتا ہے صرف اُسی وقت قوانین کو مانے گا جب وہ منطقی لحاظ سے اُنہیں سمجھ سکے۔ اُس کے سامنے بار بار اِس سچائی کو دہرائیں کہ ہم وہ سب کام کرتے ہیں جو خُدا چاہتا ہے کہ ہم کریں اور اِس حقیقت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ، اور اِس طرح سے اُن بچّوں کے سامنے اِن قوانین کی تابعداری کرنے کی ایک ٹھوس وجہ بیان کریں۔ وضاحت کریں کہ خُدا نے والدین کو اپنے بچّوں سے محبت کرنے اور اُن کی تربیت کرنے کی ذمہ داری دی ہے، اور ایسا کرنے میں ناکامی کا مطلب ہے کہ والدین خُدا کی نافرمانی کر رہے ہیں۔تاہم،جب بھی ممکن ہو، بچے کو فیصلے کرنے میں مدد کے مواقع فراہم کریں تاکہ وہ مکمل طور پر اپنے آپ کو لاچار محسوس نہ کریں۔ مثال کے طور پر، چرچ جانے کے معاملے پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خُدا ہمیں دوسرے ایمانداروں کے ساتھ رفاقت کرنے کا حکم دیتا ہے (عبرانیوں 10باب 25 آیت)، لیکن بچّے بہرحال یہ فیصلے کر سکتے ہیں کہ وہ کونسے کپڑے پہنیں، اور اُن کے گھرانے کو کہاں پر بیٹھنا چاہیے وغیرہ۔ اُنہیں منصوبے فراہم کریں جن میں وہ خاندانی چھٹیوں وغیرہ کو گزارنے کے حوالے سے اپنی رائے دے سکیں۔

اِس کے علاوہ ، والدین کو اپنے ذمہ داریاں استحکام اور صبر کے ساتھ پوری کرنی چاہییں۔ والدین کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ غصے میں اپنی آواز بُلند نہ کریں یا آپے سے باہر ہو کر ہاتھ نہ اُٹھا لیں۔ اِس سےخود سر بچّے کو یہ احساس ہوگا کہ وہ آپ کو کیسے قابو کر سکتا ہے اور اِسی چیز کی اُسے خواہش ہوتی ہے۔ اُس کو یہ بات معلوم ہو جائے گی کہ آپ کو کس طرح سے اِس حد تک تنگ کیا جائے کہ آپ شدید قسم کا جذباتی ردِ عمل دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اِن بچّوں کی جسمانی سزاؤں کے ذریعے سے تربیت کرنا ناممکن ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے والدین کو شکستگی کی حد تک لے جاتے ہیں جہاں پر وہ خیال کرتے ہیں کہ والدین کے لیے تھوڑا دُکھ یا درد سہنا در اصل اُس بچے کے خلاف کوئی عمل کرنے کی مناسب قیمت ہے۔ خود سر یعنی اپنی مرضی کے مالک بچّوں کے والدین اکثر بتاتے ہیں کہ اگر اُن کے بچّوں کو جسمانی طور پر مار بھی پڑتی ہے تو بھی وہ اپنے والدین پر ہنستے ہیں اورجتنی مرضی بھی مار اُنہیں پڑے وہ اُن کی مثبت تربیت کا بہترین ذریعہ نہیں ہو سکتی۔ ممکن ہے اِن بچوں کی زندگی میں مسیحی پھل صبر، خود ضبطی اور پرہیزگاری نہ ہو (گلتیوں5 باب 23 آیت)جن کی ایسے خود سر اور باغی بچّوں کو بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

ایسے باغی بچّوں کی پرورش کرنا چاہے جتنا مرضی مشکل ہو اور والدین کا تجربہ چاہے جتنا مرضی مایوس کن ہو والدین کو ہمیشہ ہی خُدا کے اِس وعدے میں اطمینان پانا چاہیے کہ خُدا ہمیں ایسی آزمائش میں نہیں پڑنے دیتا جو ہماری برداشت سے باہر ہو (1کرنتھیوں10 باب13 آیت)۔ اگر خُدا کچھ والدین کو خودسر، اور اپنی مرضی کے مالک بچّے دیتاہے تو ایسی صورتحال میں خُدا نے غلطی نہیں کی۔ وہ ایسی ہدایات اور وسائل بھی مہیا کرے گا جن کی اُن کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ضرورت پڑتی ہے۔ممکن ہے والدین کی زندگی میں"بلا ناغہ دُعا " (1تھسلُنیکیوں5باب 17 آیت) جیسے الفاظ خود سر اور اپنی مرضی کے مالک نوجوان کے لئے زیادہ پُر معنی نہ ہوں۔ اِن بچّوں کے والدین کواُس حکمت کے حصول کےلئے اپنا بہت سا وقت خُداوند کے سامنے گھٹنوں پر گزارنا چاہیےجس کے دینے کا خُداوند نے وعدہ کیا ہے (یعقوب1 باب5 آیت)۔ آخر میں، اِس بات کو جاننے میں بہت زیادہ تسلی ملتی ہے کہ جتنے بھی ضدی اور خود سر بچّے ہوتے ہیں اگر اُن کی تربیت اچھی طرح سے کی جائے تواُن کی آئندہ زندگی میں اُن کے کامیاب ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ بہت سارے باغی بچّوں کی جب اچھی تربیت کی گئی تو وہ بڑے جرات مند اور مخلص مسیحی بنے ۔ اور اُنہوں نے اپنی سبھی صلاحیتو ں کو اُس خُداوند کی خدمت کرنے کے لیے لگا دیا جسے اُنہوں نے اپنے صابر اور محنتی والدین کی سخت محنت اور کوششوں سے جانا اور جس سے وہ پیار کرتے اور اُسکی عزت کرتے ہیں۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
بائبل ایک سرکش/باغی بچّے کے ساتھ کس طرح کے سلوک کی تعلیم دیتی ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں