settings icon
share icon
سوال

حقیقی تاریخی یسوع کون تھا؟

جواب


" یسوع کون تھا ؟" بلاشبہ یہ اکثر پوچھے جانے والے سوالات میں سے ایک سوال ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پوری دنیا میں یسوع کے نام کو کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ پہچان اور شہرت حاصل ہے۔ ہماری دنیا کی تمام آبادی میں ایک تہائی یعنی قریباً 2.5 بلین لوگ خود کو مسیحی کہتے ہیں۔ اسلام کے پیروکار تقریباً 1.5 بلین لوگوں پر مشتمل ہیں اور یہ گروہ درحقیقت پیغمبرِ اسلام کے بعد یسوع کو دوسرا بڑا نبی مانتا ہے ۔ باقی کے 3.5 بلین (لگ بھگ دنیا کی نصف آبادی) میں سے زیادہ تر لوگوں نے یا تو یسوع کے نام کے بارے میں سُن رکھا ہے یا اُس کے بارے میں جانتے ہیں ۔

اگر کسی شخص کو یسوع کی پیدایش سے لے کر اُس کی موت تک کے دورِ حیات کا خلاصہ پیش کرنا ہو تو وہ قدرے مختصر ساہوگا ۔ وہ یروشلیم کے جنوب میں واقع ایک چھوٹے سے شہر بیت لحم میں یہودی والدین کے ہاں پیدا ہوا تھا ۔ اُن ایام میں بیت لحم رومی قبضے میں تھا ۔ اس کے بعد اُس کے والدین شمال کی طرف ناصرت میں منتقل ہو گئے جہاں وہ پلا بڑھا اور اِسی وجہ وہ عام طور پر " یسوع ناصری" کے نام سے جانا جاتا تھا ۔ یسوع کا (جسمانی لحاظ سے نہیں بلکہ دُنیاوی لحاظ سے) باپ بڑھئی تھا پس ممکنہ طور پر یسوع نے اپنے ابتدائی سالوں میں اِسی دستکاری کو سیکھا تھا ۔ قریباً تیس سال کی عمر میں اُس نے کھلے عام اپنی خدمت کا آغاز کیا تھا ۔اُس نے کم شہرت کے حامل بارہ افراد کو اپنے شاگردوں کی حیثیت سے منتخب کیا اور کفر نحُوم میں خدمت کرنا شروع کر دی جو گلیل کی جھیل کے کنارے ماہی گیری کا ایک بڑا گاؤں اور تجارتی مرکز تھا ۔ وہاں سے سفر کرتے ہوئے اُس نے گلیل کے تمام علاقے میں منادی کی اور اکثر یروشلیم کی طرف سفر کرتے ہوئے وہ قریبی غیر اقوام اور سامریوں کے علاقوں میں بھی قیام کرتا تھا ۔

یسوع کی غیر معمولی تعلیمات اور طریقہ کار نے بہت سے لوگوں کو حیران و پریشان کیا تھا ۔ حیرت انگیز معجزات اور شفا کے عمل کے ساتھ ساتھ اُس کی انقلابی تعلیم کے باعث پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد اُس کی پیروی کرنے لگی ۔ لوگوں کے درمیان اُس کی مقبولیت میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا اور یہودی مذہب کےنمایاں رہنماؤں نے بھی اس مقبولیت کو محسوس کیا ۔ جلد ہی یہودی رہنما اُس کی کامیابی پر رشک اور غصہ کرنے لگے ۔ اِن رہنماؤں میں سے بہت سے لوگوں نے اُس کی تعلیمات کو ناپسند کیا اور یہ محسوس کیا کہ یسوع کی تعلیمات کی بدولت اُن کی قائم کردہ مذہبی روایات اور رسومات خطرے میں ہیں ۔ اُنہوں نے جلد ہی رومی حکمرانوں کے ساتھ مل کر اُس کو قتل کرنے کی سازش کی ۔اسی موقع پر یسوع کے شاگردوں میں سے ایک نےیہودیوں سے معمولی سی رقم کے حصول کی خاطر اُسے دھوکہ دیا ۔ اس کے فوراً بعد اُنہوں نے اُسے گرفتار کر تے ہوئےجلدی جلدی مقدمہ بازی کا سلسلہ شروع کیا جس میں اُسے ٹھٹھوں میں اُڑایا گیا اور اُس کو مارا پیٹا گیا، پھر بغیر کسی تاخیر کے مصلوبیت کے ذریعے اُسے قتل کر ڈالا گیا۔

لیکن تاریخ میں دوسرے لوگوں کے برعکس یسوع کی موت اُس کی کہانی کا اختتام نہیں تھی؛درحقیقت یہ شروعات تھی۔ یسوع کی موت کے بعد جو کچھ ہوا تھا صرف اسی وجہ سے مسیحیت اب تک موجود ہے ۔ اُس کی موت کے تین دن بعد اُس کے شاگرداور دیگر بہت سے لوگ یہ دعویٰ کرنے لگے کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے ۔ اُس کی قبر خالی پائی گئی ،اُس کا بد ن وہاں نہیں تھا اور لوگوں کے مختلف گروہوں نے مختلف مقامات پر اور مختلف حالات میں اُس کے ظہور کے بارے میں گواہیاں دیں۔

اس سب کے نتیجے میں لوگوں نے یہ منادی کرنا شروع کر دی کہ یسوع ہی مسیح یا مسیحا ہے ۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے عمل نے اُس کی قربانی کے وسیلہ سے گناہوں کی معافی کے پیغام کی تصدیق کی ہے ۔ سب سے پہلے اُنہوں نے اُس خوشخبری کی جو انجیل کے طور پر جانی جاتی ہےاُسی یروشلیم شہر میں منادی کی جہاں اُسے مصلوب کیا گیا تھا ۔یہ نئی جماعت اور اِن کی تعلیمات جلد ہی ایک خاص "طریق" کے طور پر مشہور ہو گئی ( اعمال 9باب 2آیت؛ 19باب 9 اور 23آیت؛ 24باب 22آیت) اور یہ تیزی سے پھیلتی گئی ۔ تھوڑے عرصے میں ہی یہ خوشخبری کا پیغام اس علاقے سے پھیلتے پھیلتے روم تک اور اس کے بعد اِس سلطنت کی انتہا تک پھیل گیا ۔

ڈاکٹر جیمز ایلن فرانسس نے وہ خاص الفاظ قلمبند کئے ہیں جو نسلِ انسانی کی تاریخ پر یسوع کے اثر کو مناسب طور پر بیان کرتے ہیں۔

"وہ ایک ایسا شخص تھا جو ایک غیر معروف اور گمنام سے دیہات میں پیدا ہوا، وہ ایک دیہاتی عورت کا بیٹا تھا۔ اُس نے ایک دوسرے گاؤں میں پرورش پائی۔ قریباً 30 سال کی عمر کو پہنچنے تک اُس نے ایک بڑھئی کی دُکان پر کام کیا، پھر اگلے تین سالوں کے لیے وہ ایک سفر کر کے تعلیم دینے والا اُستاد تھا۔"

"وہ کبھی کسی گھر کا مالک نہیں رہا۔ اُس نے کبھی کوئی کتاب نہیں لکھی تھی۔ اُس کے پاس کبھی کوئی دُنیاوی عہدہ نہیں تھا۔ اُس نے کبھی شادی نہیں کی اور اُس کا کوئی اپنا خاندان نہیں تھا۔ وہ کبھی بھی کسی کالج نہیں گیا تھا۔ اُس نے کبھی کسی بڑے شہر کے اندر پاؤں نہیں رکھا تھا۔ جس جگہ پر وہ پیدا ہوا تھا اُس سے دوسومیل کے علاقے سے باہر کبھی اُس نے سفر نہیں کیا تھا۔ اُس نے دُنیاوی نقطہ نظر سے کوئی ایسا کارنامہ سر انجام نہیں دیا تھا جس کی بناء پر اُسے سماجی طور پر عظیم شخصیت قرار دیا جاتا۔ اُس کے پاس کسی طرح کی کوئی اسناد نہیں تھیں، اگر کچھ تھا تو صرف اُس کی اپنی ذات۔۔۔"

جب وہ ابھی جوان ہی تھا تو اُس کے دور کے مقبولِ عام تصورات کی مخالف کا رُخ اُسکی طرف ہو گیا۔ اُس کے دوست اُسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اُس کے بہت ہی قریبی دوست نے اُس کے منہ پر اُس کا انکار کر دیا۔ اُسے اُس کے دشمنوں کے حوالے کر دیا گیا۔ اُس پر مقدمہ بازی ہوئی جس میں اُسکو خوب ٹھٹھوں میں اُڑایا گیا۔ اُسے کیلوں کے ساتھ جڑ کر دو ڈاکوؤں کے درمیان مصلوب کر دیا گیا۔ جس وقت وہ صلیب پر مر رہا تھا تو اُس کو مصلوب کرنے والے اِس زمین پر موجود اُس کی واحد ملکیت یعنی اُس کے چوغے پر قرعہ ڈال رہے تھے۔ جب وہ مر گیا تو اُس کی لاش کو ایک اُدھار لی گئی قبر میں رکھا گیا جو اُس کے ایک دوست نے ہی اُس پر ترس کھا کر اُسکے لیے دے دی تھی۔"

"انیس لمبی صدیاں آئیں اور چلی گئیں اور آج وہ نسلِ انسانی کی زندگی کا مرکز اور ترقی یافتہ دُنیا کا رہنما ہے۔ "

"مَیں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ اِس صفحہِ ہستی پر جتنی بھی فوجیں ہو گزری ہیں، دُنیا میں جتنی بھی بحری افواج بنائی گئی ہیں، دُنیا میں جتنی بھی قومی اسمبلیوں (مجالس) کی نشتیں ہوئی ہیں، اور دُنیا پر جتنے بھی بادشاہوں نے حکمرانی کی ہے اگر اُن سب کو ملایا جائے تو وہ سب ملکر بھی اِنسان کی زندگی پر اِس قدر قوت کے ساتھ اثر انداز نہیں ہوئے جس قدر اکیلے یسوع کی زندگی بنی نوع انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوئی ہے۔"

پچھلی پشت کے عظیم اور قابلِ عزت بائبل کے عالم مرحوم ولبر سمتھ نے ایک دفعہ لکھا تھا کہ "بریٹینکا انسائیکلوپیڈیاکا جدید ترین ایڈیشن یسوع کی شخصیت کو بیان کرنے کے لیے 20 ہزار الفاظ مختص کرتا ہے اور اِن سب الفاظ میں ایک دفعہ بھی وہ اِس بات کی طرف اشارہ نہیں کرتا کہ وہ انسانی تاریخ میں کبھی ہو نہیں گزرا – اور یسوع کی شخصیت کے لیے دئیے جانے والے یہ الفاظ اُن الفاظ سے زیادہ ہیں جو اِس انسائیکلوپیڈیا میں ارسطو، اِسکندرِ اعظم، سیسرو، قیصر جولیس یا نپولین بوناپاٹ کی شخصیات کے متعلق استعمال کئے گئے ہیں۔

جارج بٹرک جسے بیسویں صدی کے دس عظیم ترین مبلغین میں سے ایک مانا جاتا ہے لکھتا ہے کہ : "یسوع نے تاریخ کو ایک نیا آغاز بخشا۔ ہر ایک سرزمین میں اُسے وہیں کا مکین سمجھا جاتا ہے۔۔۔اُس کی پیدایش کے دن کو پوری دُنیا میں منایا جاتا ہے۔ اُس کی وفات کا دن دائرہ افق کا احاطہ کرتا ہے۔"

حتیٰ کہ نپولین نے خود اِس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ، "مَیں آدمیوں کو جانتا ہوں اور مَیں آپکو یہ بتاتا ہوں کہ یسوع مسیح محض ایک آدمی نہیں تھا:اُس کے اور دُنیا کے کسی بھی دوسرے انسان کے درمیان موازنے کے لیے ہمارے پاس کوئی بھی ممکنہ اصطلاح موجود نہیں ہے۔"

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

حقیقی تاریخی یسوع کون تھا؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries