کلیسیا کے اٹھا لئے جانے کے ساتھ ساتھ مصیبت کب واقع ہونے والا ہے؟



سوال: کلیسیا کے اٹھا لئے جانے کے ساتھ ساتھ مصیبت کب واقع ہونے والا ہے؟

جواب:
کلیسیا کے اٹھا لئے جانے کے ساتھ ساتھ مصیبت کا واقعہ موجودہ کلیسیا میں ایک بہت ہی زیادہ بحث کا معاملہ ہے۔ تین خاص نظریے ہیں جو مصیبت سے پہلے کے ہیں۔ (کلیسیا کا اٹھا لیا جانا مصیبت سے پہلے کا واقعہ ہے، مصیبت کے بیچ کا واقعہ (کلیسیا کے اٹھا لئے جانے کے بعدمصیبت کے وقت پر یا بیچ کے عرصہ کے دوران واقعہ ہوتا ہے)۔ اور مصیبت کے بعد کا واقعہ (کلیسیا کا اٹھا لیاجانا مصیبت کے آخر میں واقع ہوتا ہے)۔ ایک چوتھا نظریہ عام طور سے غضب سے پہلے جانا گیا ہے، جس میں ایک ہلکا سا تغیر و تبدل ہے کہ یہ مصیبت کے بیچ کی حالت ہے۔

پہلا یہ ضروری ہے کہ ہم مصیبت کے مقصد کو پہچانیں۔ دانی ایل 9:27 کے مطابق ایک (سات سال کا دور ) جس کا واقع ہونا ضروری ہے۔ دانی ایل کے پورے 77 سال کی نبوت بنی اسرائیل قوم کی بابت بات کرتی ہے۔ (دانی ایل 27-20 :9)۔ یہ وہ زمانہ ہے جس میں خدا خاص طور سے بنی اسرائیل قوم پر نظر کرکے ان پر دھیان دیتا ہے۔ وہ سات سال کا دور، مصیبت کے ایام وہ بھی ایسا دور ہونا چاہئے جب خدا خاص طور سے بنی اسرائیل ساتھ برتاؤ کر رہا ہوگا۔ اس دوران کلیسیا کی موجودگی کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔ مگر سوال یہ اٹھتاہے کہ کلیسیا کو ان دنوں میں زمین پر موجود رہنے کی ضرورت کیوں ہوگی؟

کلیسیا کے اٹھا لئے جانے کے لئے جو خاص کلام کی عبارت ہے وہ ہے 1 تھسلنیکیوں 13-18: 4)۔ یہ عبارت بیان کرتا ہے کہ تمام زندہ ایماندار لوگ ان ایمانداروں کے ساتھ جو مر گئے تھے وہ زندہ ہو کر ایک جلالی جسم میں خدا وند یسوع کے ساتھ ہوا میں ملاقات کریں گے۔ اور اس کے ساتھ ابد تک رہیں گے۔ کلیسیا کے اٹھا لئے جانے کا خاص مقصد خدا کا اپنے لوگوں کو زمین پر سے ہٹا دینے کا ہے۔ 1 تھسلنیکیوں 5 باب کی کچھ آیتوں کے بعد 5:9 میں پولس کہتا ہے "کیونکہ خدا نے ہمیں غضب کے لئے ہیں بلکہ اس لئے مقرر کیا ہے کہ ہم اپنے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے نجات حاصل کریں"۔ مکاشفہ کی کتاب خاص طور سے مصیبت کے دور کی بیان کرتی ہے۔ وہ ایک نبوت کا پیغام ہے کہ کس طرح خدا اپنا غضب مصیبت کے دور کی بیان کرتی ہے۔ وہ ایک نبوت کا پیغام ہے کہ کس طرح خدا اپنا غضب مصیبت کے دوران زمین پر نازل کرے گا۔ ایسا لگتا ہےکہ خدا کے لئے ایمانداروں کو یہ وعدہ کرنے کے لئے غیر موافق ہے کہ وہ اس خوفناک غضب کو نہیں سہیں گے۔ اور نہ ہی اس مصیبت کے غضب کو سہنے کے لئے زمین پر چھوڑ دیئے جائيں گے۔ بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ خدا مسیحیوں کو اس غضب سے چھٹکارا دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ اور یہ وعدہ کرنے کے تھوڑے ہی عرصہ بعد وہ زمین پر سے اپنے لوگوں کو ہٹا دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان دونوں واقعات کو ایک ساتھ جوڑا گیا ہے۔

سب سے زیادہ مشکل عبارت کلیسیا کے اٹھا لئے جانے کے وقت کی بابت مکاشفہ 3:10 میں پایا جاتاہے جس میں یسوع مسیح "آزمائش کے وقت" ایمانداروں کو چھٹکارا دینے کا وعدہ کرتاہے جو زمین پر آنے والا ہے۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ یا تو مسیح آزمائش کے وقت کے دوران ایمانداروں کی حفا‍ت کرے گا۔ یا پھر وہ ایمانداروں کو آزمائش سے چھڑا ئے گا۔ "آزمائش کے اس وقت" کے لئے دونوں ہی یونانی زبان کے بجا اور درست معنی پیش کرتے ہیں جن کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ کسی طرح اس بات کو پہچاننا بہت ہی ضروری ہے کہ ایمانداروں کو کس چیز سے دور رکھا جاتاہے۔ یہ آزمائش سے نہیں ہے بلکہ "آزمائش کے وقت سے ہے۔ مسیح ایمانداروں کو خاص طور سے آزمائش کے اس دور سے بچائے رکھنے کا وعدہ کرتا ہے جسے مصیبت کہتے ہیں۔ مصیبت کا مقصد، کلیسیا کے اٹھا لئے جانے کا مقصد، 1 تھسلنیکیوں 5:9 کی شرح اور مکاشفہ 3:10 کا ترجمہ یہ سب کے سب مصیبت سے پہلے کے حالات اور واقعات کو صاف طور سے تصدیق و تائید کرتی ہیں۔ اگر بائبل کو لفظی طور سے اور با اصول طور سے ترجمہ کیا جاتا تو مصیبت سے پہلے کے حالات کے لئے ہمارے پاس سب سے زیادہ بائبل کی بنیاد پر ترجمہ پایا جاتا۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کلیسیا کے اٹھا لئے جانے کے ساتھ ساتھ مصیبت کب واقع ہونے والا ہے؟