settings icon
share icon
سوال

مسیحی زندگی میں خاموشی کے لمحات کیا ہیں؟

جواب


خاموشی کے لمحات کسی مسیحی کی روزمرّہ کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں کیونکہ یہی وہ وقت ہے جب وہ(عام طور پر) اپنے گھر میں ایک آرام دہ اور الگ تھلگ جگہ پر جاتا ہے اور وہاں انتشارِ توجہ کے بغیر خدا کے قریب ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہونی چاہیے جہاں ٹی وی، ٹیلی فون، خاندان کے اراکین کی بات چیت یا ٹریفک کے شور کی وجہ سے خلل نہ پڑتا ہو، دوسرے الفاظ میں یہ پوری طرح خاموش جگہ ہو۔ خاموشی کے لمحات ہر دن کا وہ مخصوص حصہ ہے جو ایماندار اور خدا کے درمیان ملاقات کے لیے وقف ہے۔ یہ ایماندار کے اپنی مرضی سے بائبل کے کسی حوالے کو پڑھنے اور دعا کرنے پر مشتمل ہوتا ہے۔

ہر ایماندار کو خُداوند کے ساتھ خاموشی میں وقت گزارنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر خود خُداوند یسوع کو اس کی ضرورت تھی تو ہمیں ایسا کرنے کی کتنی زیادہ ضرورت ہے ؟ جیسا کہ درج ذیل حوالہ جات ہمیں بتاتے ہیں کہ اپنے باپ کے ساتھ باقاعدگی سے رفاقت رکھنے کے لیے خُداوند یسوع دوسرے لوگوں سے اکثر دور چلا جاتا تھا:"اُس وقت یسُوع اُن کے ساتھ گتسمنی نام ایک جگہ میں آیا اور اپنے شاگردوں سے کہا یہیں بیٹھے رہنا جب تک کہ مَیں وہاں جا کر دُعا کروں"(متی 26باب 36آیت)۔ " صُبح ہی دِن نکلنے سے بہت پہلے وہ اُٹھ کر نکلا اور ایک وِیران جگہ میں گیا اور وہاں دُعا کی "(مرقس 1باب 35آیت)۔"مگر وہ جنگلوں میں الگ جا کر دُعا کِیا کرتا تھا"(لوقا 5باب 16آیت)۔

خاموشی کے لمحات کے دورانیے سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن یہ اِس لحاظ سے کافی وقت ہونا چاہیے کہ جو کچھ پڑھا گیا ہے اُس پر دھیان گیان کیا جا سکے اور پھر اس بارے میں یا جو کوئی اور بات ذہن میں آئے اُس بارے میں دعا کی جا سکے ۔ خدا کی قربت میں جاناایک فائدہ مند تجربہ ہے اور ایک بار جب خاموشی کے لمحات کی باقاعدہ عادت بن جاتی ہے تو پھر مطالعہ اور دُعا کے لیے ایک مخصوص وقت کا بے تابی سے انتظار کیا جاتا ہے۔ اگر ہمارے اوقات کار اتنے مصروف اور مستقل ہیں کہ ہمیں لگتا ہے کہ ہم اپنے آسمانی باپ سے ملنے کے لیے روزانہ کچھ وقت نہیں نکال سکتے تو پھر "مصروفیت" کو ختم کرنے کے لیے ہمیں اپنے اوقات کارپر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک انتباہی بیان : کچھ مشرقی مذاہب جو مراقبہ کے اصولوں کی تعلیم دیتے ہیں اُن میں کسی آواز یا کسی خاص لفظ کو بار بار دہرانے پر توجہ مرکوز کرنے کے وسیلہ سے "ذہن کو خالی کرنے" کی ہدایات پائی جاتی ہیں۔ ایسا کرنا شیطان کو ہمارے ذہنوں میں داخل ہونے اورتباہی مچانے کا موقع دیتا ہے۔ اِس کی بجائے مسیحیوں کو فلپیوں 4باب 8آیت میں پولس رسول کی نصیحت پر عمل کرنا چاہیے:" غرض اَے بھائیو! جتنی باتیں سچ ہیں اور جتنی باتیں شرافت کی ہیں اور جتنی باتیں واجِب ہیں اور جتنی باتیں پاک ہیں اور جتنی باتیں پسندِیدہ ہیں اور جتنی باتیں دِلکش ہیں غرض جو نیکی اور تعرِیف کی باتیں ہیں اُن پر غَور کِیا کرو۔" اپنے ذہن کو اِن خوبصورت خیالات سے بھرنا سکون پانے اور خدا کو خوش کرنے کے سوا کچھ نہیں ۔ ہمارے خاموشی کے لمحات کو ہمارے ذہنوں کی تبدیلی کا وقت ہونا چاہیے، جو ہمارے ذہنوں کی تجدید ِ نو(رومیوں 12باب 2آیت ) کے وسیلہ سے ہو ، نہ کہ اِن کے خالی ہونے کے وسیلہ سے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مسیحی زندگی میں خاموشی کے لمحات کیا ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries