"کیا خُدا سے سوال کرنا غلط ہے؟



سوال: "کیا خُدا سے سوال کرنا غلط ہے؟

جواب:
مسّلہ یہ نہیں کہ ہمیں خُدا سے سوال کرنا چاہیے یا نہیں، مسّلہ یہ ہے کہ ہم کس انداز سے اور کس وجہ سے سوال کرتے ہیں۔ خُدا سے سوال کرنا غلط نہیں ہے۔ حبقوق بنی نے خُدا کے منصوبہ کی تکمیل اور وقت کے بارے میں خُدا سے سوال کئے۔ حبقوق کو سوالات پر ملامت کی بجائے تحمل کے ساتھ جواب دیا گیا، اور نبی اپنی کتاب کا اختتام خُداوند کی ستائش کے ساتھ کرتا ہے۔ مزامیر میں خُدا سے بہت سے سوال کئے گئے (زبور۱۰، ۴۴، ۷۴، ۷۷)۔ یہ ایک مصیبت زدہ کی فریادیں ہیں۔ جو خُدا کی شفاعت اور نجات کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے والے تھے۔ اگرچہ خُدا ہمیشہ ہماری دُعاؤں کا جواب اُس طرح نہیں دیتا جیسے ہم چاہتے ہیں۔ ہم اِن اقتباسات سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ خُدا سنجیدہ دِل سے نکلے ہوئے مخلص سوال کا خیر مقدم کرتا ہے۔

غیر سنجیدہ سوالات ، یا ریاکارانہ دِل سے نکلے ہوئے سوالات کا معاملہ مختلف ہے۔ "اور بغیر ایمان کے اُس کو پسند آنا ناممکن ہے۔ اِس لئے کہ خُدا کے پاس آنے والے کو ایمان لانا چاہیے کہ وہ موجود ہے اور اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے"۔ جب ساؤل بادشاہ نے خُدا کی نافرمانی کی تو اُسے اُس کے سوالات کا جواب نہیں ملا (۱۔سموئیل۶:۲۸)۔ یہ بالکل حیران کُن ہے کہ خُدا ایسےمخصوص واقع کی اجازت کیوں دیتا ہے جو براہ راست خُدا کی بھلائی پر سوال ہے۔ شک کرنا خُدا کی حاکمیت پر سوال اور کردار پر حملہ کرنے سےمختلف ہے۔ مختصراً، ایک سنجیدہ سوال گناہ نہیں ہے، بلکہ ایک تلخ، بے ایمانی پر مبنی، اورباغیانہ دل سے نکلا سوال گناہ ہے۔خُدا سوالات سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ بلکہ خُدا ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اُس کے ساتھ قُربت سے لطف اندوز ہوں۔ جب ہم خُدا سے "سوال" کرتے ہیں تو شکستہ رُوح اور کھُلے دل سے کرنا چاہیے۔ ہم سوال تو کر سکتے ہیں لیکن جب تک اُس کے جواب میں حقیقی دلچسپی نہیں،اُس وقت تک جواب کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ خُدا ہمارے دِلوں کو جانتا ہے، اور جانتا ہے کہ آیا ہم اپنے آپ کو روشن کرنے کے لیے سچے دل سے اُس کی تلاش کر رہے ہیں یا نہیں۔ ہمارا باطنی رویّہ ہی ہے جس سے ہم تعین کر سکتے ہیں کہ آیا خُدا سے سوال کرنا درُست ہے یا غلط۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



"کیا خُدا سے سوال کرنا غلط ہے؟