settings icon
share icon
سوال

شادی کا کیا مقصد ہے ؟

جواب


کیا کسی مسیحی کے لیے شادی کرنا ضروری ہے؟ شادی کا مقصد کیا ہے؟ بائبل میں اس موضوع کے بارے میں بات کرنے کےلیے بہت کچھ ہے۔ چونکہ پہلی شادی پہلے مرد اور پہلی عورت کے درمیان ہوئی تھی اس لیے خیال کیا ہے کہ شادی کرنا زیادہ تر لوگوں کے لیے خدا کی مرضی ہے۔ یہ بےگنا ہی کی حالت میں قائم کی گئی تھی اور اس لیے یہ ایک پاک دستور ہے۔ بائبل شادی کے وجود کے لیے جو پہلی وجہ بیان کرتی ہے وہ بڑی سادہ ہے: آدم اکیلا تھا اور اسے ایک مددگار کی ضرورت تھی ( پیدایش 2باب 18آیت)۔ شادی کا بنیادی مقصدرفاقت، صحبت اور باہمی مدد اور اطمینان ہے ۔

شادی کا ایک مقصد ایک ایسا مستحکم خاندان بنانا ہے جس میں بچّے بڑھیں اور پھل پھول سکیں۔ بہترین شادی اُن دو ایمانداروں کے درمیان ہے (2 کرنتھیوں 6باب 14آیت ) جو خدا ترس اولاد کو جنم دے سکتے ہیں (ملاکی 2باب 13-15آیات )۔ ملاکی کی کتاب میں خدا بنی اسرائیل سے فرماتا ہے کہ وہ اُن کے ہدیوں کو قبول نہیں کرے گا کیونکہ اُنہوں نے اپنی جوانی کی بیویوں کے ساتھ بے وفائی کی ہے ۔ اِس سے واضح ہوتا ہے کہ خدا شادی کو برقرار رکھنے کی کتنی فکر کرتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ انہیں بتاتا ہے کہ وہ " خدا ترس نسل " چاہتا تھا ۔ یہ ایک حیران کن حوالہ ہےاور اِس کی تشریح سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ (الف) شادی کا مقصد خدا ترس نسل ہے؛ (ب) دو ایماندار لوگوں کے درمیان اچھی شادی کا مطلب یہ ہوگا کہ اُن کے ہاں پیدا ہونے والے بچّے بھی ایماندار ہوں گے۔ (ج) خدا چاہتا تھا کہ بنی اسرائیل اپنی بیویوں کو اُن غیر اقوام کی عورتوں کے لیے نہ چھوڑیں جو اُن قوموں کی بت پرستی کی وجہ سے اُن کے لیے بے دین اولاد پیدا کریں گی، بلکہ اپنی بیویوں کے ساتھ وفادار رہیں ؛اور ( د) خدا خود اپنے لیے ایک نسل (لوگ) چاہتا تھا جو اپنی ایمانداری کے وسیلہ سے خدا ترسی کا مظاہر ہ کریں ۔ اِن میں سے ہر ایک تشریح میں ہم ایک مشترکہ موضوع دیکھتے ہیں کہ دین دار لوگوں کی اولاد بھی دیندار ہو گی ۔

شادی نہ صرف بچّوں کو یہ سکھاتی ہے کہ انہیں وفادار کیسے رہنا ہے بلکہ شادی انہیں یہ سب سیکھنے اوراِس میں بڑھنے کے لیے ایک مستحکم ماحول فراہم کرتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ جب دونوں میاں بیوی خدا کی شریعت کے تابع رہتے ہیں تو یہ اُن پر تقدیسی اثر بھی رکھتی ہے ( افسیوں 5باب )۔ ہر شادی میں مشکل لمحات یا مشکل محرکات ہوتے ہیں۔ جب دو گنہگار لوگ ایک مشترکہ زندگی کو تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے سے اِس طور سے محبت رکھنے کے لیے، جیسی بے لوث محبت خُدا نے ہم سے رکھی ہے (1-یوحنا 3باب 16آیت) خُدا کے حکم کے تابع ہونا چاہیے۔ ہماری اپنی طاقت سے خُدا کے حکموں پر عمل کرنے کی ہماری کوششوں کے ناکام ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے اور یہ ناکامی ایماندار کو خُدا پرانحصار کے بارے میں مزید شعور دیتی اور اُس کی زندگی میں رُوح القدس کے کام کے لیے اُسے اور زیادہ قابل بناتی ہے۔ اور اس کا نتیجہ خدا پرستی کی صورت میں نکلتا ہے۔ اور خدا پرستی ہمیں خدا کے احکامات پر عمل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ لہٰذا خدا ترس زندگی بسر کرنے کی کوشش کرنے والے کسی شخص کے لیے شادی بہت مددگار ہے؛ یہ دل کو خود غرضی اور دیگر کثافتوں سے صاف کرنے میں مدد کرتی ہے۔

شادی لوگوں کو جنسی بد کر داری سے بھی بچاتی ہے (1 کرنتھیوں 7باب 2آیت )۔ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہ جنسی تصاویر ، نشانوں اور تحریص سے لبریز ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص جنسی گناہ کا تعاقب نہیں بھی کرتا / کرتی تو یہ گناہ خود اُس کا تعاقب کر لیتا ہے ،اس سبب سے اِس سے بچنا بہت مشکل ہے۔ شادی خود کو اُس نا گوار جذباتی (اور معتدد بار جسمانی) نقصان میں ڈالے بغیر جو عارضی اورغیر پُرعزم جنسی تعلقات کی وجہ سے ہوتا ہے جنسیت کا اظہار کرنے کے لیے ایک صحت مند مقام فراہم کرتی ہے۔ یہ پوری طرح واضح ہے کہ خدا نے شادی کو ہماری بھلائی یعنی ہماری خوشی ، ایک صحت مند معاشرے کو فروغ دینے اور ہماری زندگیوں میں پاکیزگی پیدا کرنے کے واسطے ترتیب دیا ہے (امثال 18باب 22آیت)۔

آخر میں ، شادی مسیح اور اُس کی کلیسیا کے درمیان تعلق کی ایک خوبصورت تصویر ہے۔ ایمانداروں کی جماعت کو ، جو کلیسیا کو تشکیل دیتی ہے اجتماعی طور پر مسیح کی دلہن کہا جاتا ہے۔ اپنی دلہن کو " کلام کے ساتھ پانی سے غسل دے کر اور صاف کر کے مُقدس"(افسیوں 5باب 25-26آیات) کرنے کے لیے دولہا کے طور پر خدا وند یسوع نے اپنی جان دی ہے ا ور اُس کا یہ بے لوث عمل تمام شوہروں کے لیے ایک نمونہ فراہم کرتا ہے۔ مسیح کی دوسری آمد پر کلیسیا دولہے کے ساتھ جا ملے گی، باقاعدہ "شادی کی ضیافت " منعقد ہو گی اور یوں مسیح اور اُس کی دلہن کا ابدی اتحاد تکمیل پائے گا(مکاشفہ 19 باب 7-9آیات ؛ 21باب 1-2آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

شادی کا کیا مقصد ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries