settings icon
share icon
سوال

زندگی میں کس طرح مقصد کو حاصل کیا جاتاہے؟

جواب


زندگی میں ہمارا کیا مقصد ہونا چاہیے اِس بارے میں بائبل بڑی واضح ہے ۔ پرانے اور نئے دونوں عہد ناموں میں شامل لوگوں نے تلاش کی اور زندگی کے مقصد کو دریافت کیا ۔ سلیمان نے جو زمین پر کبھی سب سے زیادہ دانشمند آدمی تھا زندگی کی بے ثمری کی کیفیت(باطل ہونے) کو دریافت کیا اورسب کچھ باطل اُس وقت ہوتا ہے جب زندگی صرف دنیا کےلیے رہ جاتی ہے ۔ وہ واعظ کی کتا ب میں نتیجہ خیز بیان پیش کرتا ہے : حاصل کلام یہ ہے ۔" خدا سے ڈر اور اُس کے حکموں کو مان کہ انسان کا فرض ِ کُلی یہی ہے۔ کیونکہ خدا ہر ایک فعل کو ہر ایک پوشیدہ چیز کے ساتھ خواہ بھلی ہو خواہ بُری عدالت میں لائے گا "( واعظ 12باب 13- 14آیات)۔ سلیمان کہتا ہے کہ زندگی کا مقصد صرف اور صرف خدا کا احترام کرنا اور اُس کے حکموں پر عمل کرنا ہے کیونکہ ایک دن ہمیں اُس کے سامنے عدالت میں حاضر ہونا ہے ۔ ہماری زندگی کے مقصد کا ایک اہم حصہ خداوند کا خوف ماننا اور اُس کی فرمانبرداری کرنا ہے ۔

ہمارے مقصد کا ایک اور حصہ اِس زمین پراپنی زندگی کو ایک خاص نقطہِ نظر سے دیکھنا بھی ہے ۔ وہ لوگ جو اس زمینی زندگی پر توجہ مرکوز کرتے ہیں اُن کے برعکس داؤد بادشاہ اپنے اطمینا ن کےلیے آئندہ زندگی پر نگاہ لگاتا ہے، اور کہتا ہے "پر مَیں تو صداقت میں تیرا دیدار حاصل کروں گا ۔ مَیں جب جاگوں گا تو تیری شباہت سے سیر ہوں گا " (17 زبور 15آیت )۔ داؤد کےلیے مکمل اطمینان اُس دن ہو گا جب وہ (آئندہ زندگی میں )خدا وند کا چہرہ تکتے ہوئے (اُس کی رفاقت میں ) جلالی بدن میں اُٹھ کھڑا ہو گا ( 1یوحنا 3باب 2آیت)۔

73زبور میں آسف بیان کرتا ہے کہ کیسے وہ شریر وں اور مغروروں کے بارے میں حسد میں مبتلا تھا جنہیں کسی طرح کی کوئی فکر مندی نہیں بلکہ وہ دوسرے لوگ سے فائدہ اُٹھاتے اور اپنا مال جمع کرتے ہیں مگر جب وہ اُن کے آخری انجام پر نگاہ ڈالتا ہے تو تسلی پاتا ہے ۔ اس کے برعکس آسف کےلیے جو چیز سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ اُسے 25آیت میں بیان کرتا ہے " آسمان پر تیرے سوا میرا کون ہے ؟ اور زمین پر تیرے سوا میں کسی کا مشتاق نہیں "۔ آسف کےلیے خدا کی رفاقت زندگی میں سب چیزوں سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔ اور یقیناً اِس رفاقت کے بغیر زندگی اپنا حقیقی مقصد کھو دیتی ہے ۔

پولس رسول اُن سب باتوں اور چیزوں کے بارے میں بیان کرتا ہے جو اُ س نے جی اُٹھے یسوع سے ملنے سے پہلے مذہبی طور پر حاصل کی تھیں اور یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ یسوع کو جاننے کی فضیلت کے مقابلے میں وہ چیزیں اب اُس کے لیے گندگی کے ایک ڈھیر کی مانند ہیں ۔ افسیوں 3باب 9- 10آیات میں پولس رسول بیان کرتا ہے کہ وہ مسیح کو جاننے اور "اُس میں پائے جانے "، اُس کی راستبازی حاصل کرنے ، اور اُس میں ایمان کے وسیلہ سے زندہ رہنے کےعلاوہ کچھ نہیں چاہتا حتیٰ کہ اِس کے لیے اُسے بہت زیادہ دُکھ اور موت ہی کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے ۔ پولس کی زندگی کا مقصد مسیح کو جاننا ، اُس میں ایمان کے وسیلہ سے راستبازی کو حاصل کرنا اور اُس کی رفاقت میں رہنا تھا، چاہےاِس مقصد کا حصول اُس کے لیے دُکھ کا باعث تھا اِس بات سے اُسے کوئی پرواہ نہیں تھی ( 2تیمتھیس 3باب 12آیت )۔ آخر میں وہ اُس وقت کا انتظار کرتا ہے جب وہ " مُردوں میں سے جی اٹھنے کے عمل " کا حصہ ہو گا ۔

خدا نے اصل میں انسان کو جیسا تخلیق کیا تھا اُسی لحاظ سے اُس نے انسان کی زندگی کے مقصد کو بھی متعین کیا تھا:

‌أ. خداکو جلال دینا اور اُس کی رفاقت سے لطف اندوز ہونا،

‌ب. دوسرے لوگوں سے اچھی رفاقت رکھنا،

‌ج. کام کرنا،

‌د. اور زمین کو معمور و محکوم کرنا۔

لیکن انسان کے گناہ میں پڑنے کی وجہ سے خدا کے ساتھ ہماری رفاقت ٹوٹ گئی ہے ،دوسرے لوگوں کے ساتھ ہمارے تعلقات تناؤ کا شکار ہو گئے ہیں ،کام کرناہمیں ہمیشہ ہی مایوس کن دکھائی دیتا ہے اور انسان کو فطرت پر اپنے تسلط کی کسی بھی طرح کی شکل کو قائم رکھنے کےلیے شدید محنت کرنی پڑتی ہے ۔ صرف یسوع مسیح پر ایمان کے وسیلہ سے خدا کے ساتھ رفاقت کو بحال کرکے ہی زندگی کے مقصد کو پھر سے دریافت کیا جا سکتا ہے ۔

انسان کی زندگی کا مقصد خدا کے نام کو جلال دینا اور اُس کی رفاقت سے ہمیشہ لطف اندوز ہونا ہے ۔ ہم خداوند کا خوف ماننے اور اُس کی فرمانبرداری کرنے، اپنی آنکھیں مستقبل کے اپنے آسمانی گھر پر مرکوز کرنے اور خدا کو قریب سے جاننے کے ذریعہ سے اُس کے نام کو جلال دیتے ہیں ۔ ہم اپنی زندگیوں کے لیے خدا کے مقصد کی پیروی کرنے کے ذریعے اُس کی رفاقت سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور یہ سب ہمیں حقیقی اور دائمی خوشی یعنی وہ بھر پور زندگی جو خدا ہمارے لیے چاہتا ہے کا تجربہ کرنے کے قابل بنا تا ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

زندگی میں مقصد کی تلاش کیسے کی جانی چاہیے، بائبل اِس بارے میں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries