settings icon
share icon
سوال

کیا عوامی طور پر دُعا کرنا بائبل کے مطابق ہے؟ کیا کھلے عام دُعا کرنا مناسب ہے؟

جواب


عوامی طور پر دعا کرنا ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا بہت سے مسیحیوں کو سامنا ہے ۔ چونکہ بائبل میں بہت سے ایماندار عوام الناس کے درمیان کھلے عام دُعا کرنے کے عمل سےوا قف تھے اور یسوع نے خود بھی ایسا کیا تھا لہذا کھلے عام یا عوامی طور پر دُعا کرنے میں کچھ غلط بات نہیں ہے ۔ پرانے عہد نامے کے بہت سے رہنماؤں نے قوم کےلیے کھلے عام عوامی دعا کی تھی ۔ سلیمان نے پوری قوم کے سامنے اُن کے لیے اور اپنے لیے دُعا کی تھی ۔ اس میں ایسی کوئی بات نہیں جو یہ نشاندہی کرے کہ یہ دعا خداوند کے حضور قابل قبول نہیں تھی ( 1سلاطین 8باب 22-23آیات)۔ بنی اسرائیل کی بابل کی اسیری سے واپسی کے بعد عزرا نبی اس بات سے پریشان تھا کہ اسرائیلیوں نے سچے خدا کی عبادت کرنا چھوڑ دیا ہے پس اُس نے خدا کے گھر کے سامنے زار زار رو کر د عا کی تھی ۔ اُس کی دُعا اتنی پُر جوش تھی اُس نے " اِسرائیل میں سے مَردوں اور عَورتوں اور بچّوں کی ایک بہت بڑی جماعت " کو تحریک بخشی تھی (عزرا 10باب 1آیت)۔

تاہم حنّہ اور دانی ایل کی مثالیں یہ واضح کرتی ہیں کہ سرِ عام کی جانے والی دُعا کا غلط سمجھا جانا یا حتی ٰ کہ اس کے لیے دُکھ اُٹھانا ممکن ہے ۔ ہر دُعا کی طرح سرِ عام دُعا کو بھی درست رویے اور نیت کےسا تھ پیش کیا جانا چاہیے ۔ کلامِ مقدس میں مندرج متعد مثالوں سے سرِ عام کی جانے والی دُعا کی ایک واضح تصویر سامنےآتی ہے جو خدا کے حضور قابلِ قبول اور اُس کی تعظیم کا باعث ہے ۔

سموئیل نبی کی ماں حنّا نہ صرف کئی سالوں سے بے اولاد تھی بلکہ وہ اُس شرمندگی اور تکلیف کا بھی سامنا کر رہی تھی جو بے اولادی کے باعث بائبل کے زمانے میں عورتوں کو درپیش تھی ( 1-سموئیل 1باب 1-6آیات)۔ وہ باقاعدگی سے خیمہ اجتماع میں جا کر خدا سے التجا کرتی کہ وہ اُسے فرزندِ نرینہ عطا کرے اور " نہایت دل گیر " ہو کر دُعا کرتی۔ اُس کی دُعا ایسی دل گیری کی حالت میں تھی کہ عیلی کاہن سمجھا کہ حنا نشے میں ہے (1-سموئیل 1باب 10-16آیات)۔

یہ ایک ایسی مثال ہے جب سرِ عام دُعا کرنے کی غلط تشریح کی گئی ہے ۔ حنا کی دُعا سچی تھی اور اُس کا دل صحیح جگہ پر تھا ۔ وہ توجہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہی تھی بلکہ وہ فقط پریشان حال اور دُعا کی ضرورت سے سرشار تھی ۔ عیلی سمجھا کہ وہ نشے میں ہے لیکن یہ حناّ کا قصور نہیں بلکہ عیلی کی غلطی تھی ۔

دانی ایل کا سرِ دُعا کرنا اُس کے دشمنوں کےلیے اُسے ستانے اور اُسے قتل کرنے کی کوشش کا موقع تھا ۔ دارا بادشاہ کے ماتحت ایک ناظم کی حیثیت سے دانی ایل اپنے فرائض میں اس قدرسبقت لے گیا تھا کہ بادشاہ اسے تمام سلطنت کا سربراہ مقرر کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا ( دانی ایل 6باب 1-3آیت)۔ اس بات کو سُن کر دوسرے ناظم مشتعل ہوئے اور وہ دانی ایل کو بدنام یا تباہ کرنے کی سازش کرنے لگے ۔ لہذ ااُنہوں نے دارا بادشاہ کو ایک ایسا حکم جاری کرنے کی ترغیب دی جس کے تحت اُس کی رعایا کو اگلے تیس دن تک بادشاہ کے علاوہ کسی اور سے دعا کرنے سے منع کیا جائے ۔ نا فرمانی کرنے والوں کی سزا شیروں کی ماند میں ڈالا جانا تھا ۔ تاہم دانی ایل نے خدا سے ایسے سرِ عام دعا کرنا جاری رکھناکہ اُس کے کمرے کی کھڑے سے اُسے ایسا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا ۔ دانی ایل جس انداز میں دُعا کرتا تھا وہ نہ صرف دوسروں کے لیے قابل مشاہد ہ تھا بلکہ اس نے دانی ایل کو اُس کے دشمنوں کے سامنے بے نقاب بھی کر دیا تھا۔ تاہم وہ پوری طرح جانتا تھا کہ اُس کی دُعا خدا کی تعظیم کےلیے ہے لہذا اُس نے دُعا کے اپنے اس عمل کو ترک نہ کیا ۔ اُس نے انسانی آراء اور یہاں تک کہ لوگوں کی دھمکیوں کو خداوند کی فرمانبرداری کی اپنی خواہش سے زیادہ اہم نہ جانا ۔

اس بات کو یقینی بنانے کےلیے کہ ہماری دعائیں سچی ہیں یسوع متی 6باب 5-7آیات میں ہمیں دو طریقے بتاتا ہے ۔ پہلا، دعائیں دوسرے لوگوں کے سامنے خود کو راستباز یا " روحانی " ظاہر کرنے کے مقصد کے تحت نہیں کی جانی چاہییں ۔ دوسرا ، محض لاحاصل تکرار یا " خالی الفاظ " کے بجائے دعائیں سیدھا دل سے کی جانے کے ناطے حقیقی ہونی چاہییں ۔ تاہم جب اُن حوالہ جات کے ساتھ موازانہ کیا جائے جو لوگوں کو کھلے عام دُعا کرتے پیش کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ تنہا دُعا کرنا ایک نصیحت نہیں ہے ۔کیونکہ اصل مسئلہ گناہ سے بچنا ہے ۔ ایسے لوگوں جو نیک خیال کئے جانے کی خواہش سے جدوجہد کرتے ہیں اور جو اس بات سے آگاہ ہیں کہ سرِ عام دعا کرنے میں آزمایش میں پڑنے کا اندیشہ ہے اُن کے لیے یسوع کی اُس نصیحت پر غور کرنا بہتر ہوگاجہاں وہ تنہائی میں آسمانی باپ سے دُعا کرنے کے لیے کہتا ہے جو پوشیدگی میں بدلہ دے گا ۔ یسوع جانتا تھا کہ فریسیوں کی اصل خواہش خدا سے بات نہیں تھا بلکہ آدمیوں کے سامنے خود کو راستباز ظاہر کرنا تھا۔ دعا کے بارے میں اس بیان سے مراد ایک ذاتی اعتقاد تھا جو تمام مسیحیوں کےلیے نصیحت آموز ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر دُعا پوشیدگی میں ہی ہونی چاہیے ۔

سرِ عام دعا خدا کی تعظیم کےلیے ، بے غرض اور انسانوں کی بجائے خدا سے بات چیت کرنے کی حقیقی خواہش پر مبنی ہونی چاہیے ۔ اگر ہم ان اُصولوں کی خلاف ورزی کیے بغیر کھلے عام دُعا کرسکتے ہیں تو ہم سرِ عام دُعا کرنے میں پوری طرح درست ہیں ۔ تاہم اگر ہمارا ضمیر ایسا کرنے سے منع کرتا ہے تو پوشیدگی میں کی گئی دُعا میں کچھ غیر مؤثر بات نہیں ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا عوامی طور پر دُعا کرنا بائبل کے مطابق ہے؟ کیا کھلے عام دُعا کرنا مناسب ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries