settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


رومیوں 10 باب 9-10 آیات کو بہت سارے مسیحیوں کی طرف سے دوسروں کو مسیحی ایمان میں لانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ "اگر تُو اپنی زُبان سے یسو ع کے خُداوند ہونے کا اِقرار کرے اور اپنے دِل سے اِیمان لائے کہ خُدا نے اُسے مُردوں میں سے جِلایا تو نجات پائے گا۔کیونکہ راست بازی کے لئے اِیمان لانا دِل سے ہوتا ہے اور نجات کے لئے اِقرار مُنہ سے کِیا جاتا ہے۔ "

اِس حوالے کا قطعی طور پر یہ مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ اگر ہم اونچی آواز کے ساتھ اپنے ایمان کا اقرار کریں تو ہم نجات پا جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ نجات مسیح پر ایمان لانے کے وسیلے خُدا کے فضل کی بدولت ملتی ہے (افسیوں 2باب8-9آیات) اور یہ کسی طرح کے اعمال کی وجہ سے نہیں ہے جن میں ہماری طرف سے منہ سے الفاظ ادا کرنا بھی شامل ہے۔ اِس لیے جیسا کے سارے کے سارے کلام کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ اگر ہم خُدا کے کلام کو پورے طور پر سمجھنا چاہتے ہیں تو اُس کے سیاق و سباق کو مدِ نظر رکھنا بہت زیادہ ضروری ہے۔

جس وقت رومیوں کے نام خط لکھا جا رہا تھا اُس وقت یسوع مسیح پر ایمان لانے اور اُس پر کھلے عام اپنے ایمان کا اظہار کرنے کا نتیجہ سخت ایذا رسانی اور پھر نتیجتاً موت کی صورت میں نکل سکتا تھا۔ اِس لیے اُس دور میں مسیح کو قبول کرنا اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایمان لانے والے کو ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یسوع پر اپنے ایمان کا کھلے عام اظہار کرنا سچی نجات اور رُوح القدس کے حقیقی کام کا اشارہ سمجھا جاتا تھا۔ جس وقت کسی کی زندگی داؤ پر لگی ہو تو اُس صورت میں ظاہری اعتراف یا اقرار کم ہی ہوتا ہے، اور ابتدائی کلیسیا ئی دور میں ایسے ہی حالات تھے۔ اوپر مذکور آیت کے اندر جب کہا جاتا ہے کہ "تو نجات پائے گا" تو اِس بات کو کرنے کے پیچھے نجات کے لیے سبھی لوگوں کے سامنے اعتراف کرنے کی شرط کو ظاہر کرنا مقصود نہیں تھا، بلکہ اِس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا تھا کہ کوئی موت کے خطرے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اُس وقت تک خُداوند یسوع مسیح پر اپنے ایمان کا اقرار نہیں کرے گا جب تک وہ حقیقی طور پر نجات یافتہ نہ ہو۔

رومیوں 10باب10 آیت میں ہم پڑھتے ہیں کہ "کیونکہ راست بازی کے لئے اِیمان لانا دِل سے ہوتا ہے اور نجات کے لئے اِقرار مُنہ سے کِیا جاتا ہے۔" اصل یونانی متن کے اندر اِس بات کا مطلب ہے' جس بات پر دِل میں ایمان لایا گیا ہے اُس کی تصدیق منہ سے کرنا اور پھر اُس کے لیے شکر گزار ہونا۔ '

رومیوں 10باب13آیت بیان کرتی ہے کہ "کیونکہ جو کوئی خُداوند کا نام لے گا نجات پائے گا۔ " 14 آیت بہرحال اِس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خُداوند کا نام لینا ایسے لوگوں کا استحقاق ہے جو حقیقت میں نجات پا چکے ہیں: "مگر جس پر وہ اِیمان نہیں لائے اُس سے کیوں کر دُعا کریں؟ " مزید برآں 12 آیت بیان کرتی ہے کہ "کیونکہ یہودِیوں اور یُونانیوں میں کچھ فرق نہیں اِس لئے کہ وُہی سب کا خُداوند ہے اور اپنے سب دُعا کرنے والوں کے لئے فیّاض ہے۔ "یہاں پر یہ الفاظ "اپنے سب دُعا کرنے والوں کے لیے فیاض ہے" نجات کی بات نہیں کرتے ، بلکہ 14 آیت کی روشنی میں ہم سیکھتے ہیں کہ صرف وہی "دُعا " کرتے ہیں جو "پہلے سے ایمان لا چکے ہیں۔"

پس خلاصہ یہ کیا جاتا ہے کہ رومیوں 10باب9-10آیات اِس بات کی تعلیم نہیں دیتیں کہ سب لوگوں کے سامنے محض اپنے منہ سے اقرار کرنا نجات پانے کا سبب بن جاتا ہے۔ اِس کے برعکس یہ آیات اِس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ اگر کوئی شخص یسوع پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان لے آتا ہے اور اِس بات کو جانتے ہوئے بھی کہ یسوع کے نام کا اقرار کرنے کی وجہ سے اُسے مشکلات اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے وہ سب کےسامنے اُس کا اقرار کرتا ہے تو اُس صورت میں وہ اپنی حقیقی نجات کی گواہی دیتا ہے۔ وہ سب جنہوں نے نجات پائی ہے وہ یسوع مسیح پر اپنے اُس ایمان کا کھلے عام اقرار کریں گے جو اُس نے اُن کے دِلوں کے اندر رکھا ہے۔ بپتسمے اور دیگر تمام نیک کاموں کی طرح ہی یسوع کا سب کے سامنے اقرار نجات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ تو نجات پانے کا ثبوت ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries