علمِ نفسیات بائبلی صلاح کاری کے ساتھ ملکر کیسے کام کرتا ہے؟


سوال: علمِ نفسیات بائبلی صلاح کاری کے ساتھ ملکر کیسے کام کرتا ہے؟

جواب:
دُنیاوی نفسیات کی بنیاد سگمنڈ فرائیڈ، کارل جانگ، اور کارل راجرز جیسے نفسیاتی ماہرین کی تعلیمات پر ہے۔ دوسری جانب بائبلی صلاح کاری کی بنیاد مکمل طور پر خُدا کے ظاہر کردہ کلام پر ہے۔ بائبلی صلاح کاری کے نقطہ نظر سے کتاب ِ مُقدس خُدا کے فرزند کو ہر ایک نیک کام کے لئے بالکل تیار کرنے کی تربیت دینے کے لئے کافی سمجھتی ہے (2 تیمتھیس3 باب 17 آیت)۔ بائبلی صلاح کار سکھاتے ہیں کہ انسان کا بنیادی مسئلہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے رُوحانی ہے، اِس لئے خُدا کی ذات کے منکر ماہرِ نفسیات جو رُوحانی طور پر مُردہ ہیں انسانی حالت میں حقیقی بصیرت نہیں رکھتے۔

اِسی حوالے سے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ "مسیحی صلاح کاری" اپنی نوعیت کے لحاظ سے "بائبلی صلاح کاری " سے مختلف ہے کیونکہ مسیحی صلاح کاری اکثر بائبل کے ساتھ ساتھ دُنیاوی نفسیات کوبھی استعمال کرتی ہے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک مسیحی صلاح کار بائبلی صلاح کار نہیں ہوتا، بلکہ اِس سے مُراد ہے کہ مسیحی صلاح کار اکثر ایسے مسیحی ہوتے ہیں جو دُنیاوی نفسیات کو اپنی مشاورت میں استعمال کرتے ہیں۔ بائبلی صلاح کار دُنیاوی نفسیات کو مکمل طور پر ردّ کرتے ہیں۔

زیادہ تر نفسیات اپنی فطرت میں انسان شناس ہوتی ہے۔ دُنیاوی انسانیت پسندی کا نظریہ در اصل انسانیت کوحقیقت، اور اخلاقیات کے اعلیٰ ترین معیار کے طور پر پیش کرتے ہوئے ایمان، مافوق الفطرت قدرت، اور بائبل کو ردّ کرتا ہے۔ اِس لئے دُنیاوی نفسیات رُوحانیت کے تعلق اور پہچان کے بغیر انسان کے رُوحانی پہلو کو سمجھنے اور اُسے مرمت کرنے کی انسانی کوشش ہے۔

بائبل اعلان کرتی ہے کہ انسان خُدا کی صورت و شبیہ پر بنائی گئی منفرد تخلیق ہے (پیدایش1 باب26 آیت، 2باب 7 آیت)۔ بائبل واضح طور پر انسان کی رُوحانیت، بشمول گناہ میں اُس کی گراوٹ، گناہ کے نتائج، اور خُدا کے ساتھ انسان کے موجودہ تعلقات پر بات کرتی ہے۔

دُنیاوی نفسیات کی بُنیاد اِس خیال پر ہے کہ انسان بنیادی طور پر نیک ہے اور اُس کے مسائل کا جواب خُود اُسکی اپنی ذات میں موجود ہے۔ بائبل انسان کی حقیقی حالت کی کافی مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ انسان "بنیادی طور پر نیک" نہیں ہے؛ وہ "اپنے گناہوں اور اپنے قصوروں میں مُردہ" ہے (افسیوں2 باب 1 آیت)، اور گناہگار دِل "حیلہ باز/دھوکہ باز اور لاعلاج "ہے (یرمیاہ 17باب 9 آیت)۔ اِس لئے بائبلی صلاح کار بالکل مختلف نظریہ رکھتا ہے: روحانی مسائل کو اپنی ہی عقل سے حل کرنے کی بجائے وہ گناہ کا مقابلہ کرنے، اور خُدا کی طرف سے حکمت حاصل کرنے(یعقوب3 باب 17 آیت)، اور خُد اکے کلام کا حالات پر اطلاق کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

بائبلی صلاح کار ماہرینِ نفسیات اور بعض مسیحی صلاح کاروں کے برعکس بائبل کو صلاح کاری کے لیے ایک جامع اور تفصیلی ذریعے/وسیلےکے طور پر دیکھتے ہیں(2 تیمتھیس 3 باب 15-17آیات؛ 2 پطرس1باب 4 آیت )۔ بائبلی صلاح کاری خُدا کو اپنے کلام کے وسیلہ سے خود بولنے کی اجازت دیتی ہے۔ بائبلی صلاح کاری زندہ اور حقیقی خُدا کی محبت کا اطلاق کرنے کی کوشش کرتی ہے، ایسی محبت جو گناہ کے ساتھ نمٹتی ، اور فرمانبرداری پیدا کرتی ہے۔

علم نفسیات کی بنیاد ضرورت پر ہے۔ یہاں پر خُود اعتمادی، محبت، قبولیت اوراپنی اہمیت کی ضرورت غالب آتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اگر یہ ضروریات پوری کر دی جائیں تو مانا جاتا ہے کہ لوگ خوش ، مہربان، اور اخلاقی ہوں گے، اگر یہ ضروریات پُوری نہیں ہوتیں تو لوگ خستہ حال، نفرت انگیز، اور غیر اخلاقی ہوں گے۔ بائبلی صلاح کاری سکھاتی ہے کہ حقیقی اطمینان اور خوشی صرف خُدا کے ساتھ تعلقات اور خُدا ترسی کی زندگی میں ہی پائی جا سکتی ہے۔مثال کے طور پر، نفسیاتی علاج کی کوئی بھی مقدار کسی خودغرض شخص کو بے غرض نہیں بنا سکتی، لیکن خُدا کا فرمانبردار خاد م اپنی خوشی اور خود غرضی سے خالی سخاوت سے مطمئن ہو جاتا ہے (2 کرنتھیوں9 باب 7 آیت)۔

پس علم نفسیات بائبلی صلاح کاری کے ساتھ کیسے کام کرتا ہے؟ یہ بائبلی صلاح کاری کے ساتھ کام نہیں کرتا! دُنیاوی علمِ نفسیات انسان اور اُس کے خیالات کے ساتھ ہی شروع ہوتا ہے اور اُس کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے۔ حقیقی بائبلی صلاح کاری اُن لوگوں کو جو صلاح کاری کے لیے آتے ہیں مسیح اور خُدا کے کلام کی طرف راغب کرتی ہے۔ بائبلی صلاح کاری پاسبانہ سرگرمی یا خدمت ، اور نصیحت کی رُوحانی نعمت کی پیداوار ہے، اور اِس کا مقصد خود توقیری نہیں بلکہ تقدیس ہے۔

Englishs
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
علمِ نفسیات بائبلی صلاح کاری کے ساتھ ملکر کیسے کام کرتا ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں