settings icon
share icon
سوال

مسیحیت کا ماہرینِ رُوحانیات کے بارے میں کیا تصور ہے؟

جواب


بائبل مُقدس بڑی سختی کے ساتھ رُوحانی عملیات، جنوں کی یاری، پراسرار علوم، افسوں گری، فالگیری، شگون نکالنے، منتر پڑھنے، اور علمِ رُوحانیات جیسے عوامل کورَد کرتی ہے (احبار 20باب27 آیت؛ استثنا 18باب 10-13 آیات)۔ اِس کے ساتھ ساتھ زائچہ دیکھنا، تاش کی گڈی سے قسمت کا حال معلوم کرنا، علمِ نجوم کو استعمال کرنا، قسمت کا حال بتانا، ہتھیلی کی لکیروں کو دیکھنا اور اِس جیسے دیگر عوامل کو بھی بائبل نے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔ اِن عوامل کی بنیاد اِس بات پر ہے کہ ہمارے ارد گرد مختلف طرح کے دیوتا، رُوحیں یا ہمارے مرنے والے پیارے عزیز و اقارب موجود رہتے ہیں جو نہ صرف ہمیں مختلف طرح کی صلاح دے سکتے ہیں بلکہ وہ بہت ساری چیزوں میں ہماری رہنمائی بھی کر سکتے ہیں۔ یہ "دیوتا" یا "روحیں" در اصل بد ارواح ہیں (2 کرنتھیوں 11باب14- 15آیات)۔ بائبل ہمیں کوئی ایسا اشارہ نہیں دیتی یا ایسی کوئی وجہ نہیں بیان کرتی جس کی بنیاد پر ہم اِس چیز پر ایمان رکھیں کہ ہمارے مر جانے والے عزیز ہم سے دوبارہ رابطہ کر سکتے ہیں۔ اگر وہ ایماندار تھے تو وہ آسمان پر ایسے خوبصورت مقامات پر ہیں جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے اور وہ زندہ اور محبت کرنے والے خُدا کے ساتھ سب سے حیرت انگیز رفاقت کی حالت میں ہیں۔اگر وہ ایماندار نہیں تھے تو وہ جہنم میں ہیں جہاں پر وہ محبت کرنے والے خُدا کو رَد کرنے اور اُس کے خلاف بغاوت کرنے کی وجہ سے کبھی نہ ختم ہونے والے عذاب میں مبتلا ہیں۔

پس اگر ہمارے مرجانے والے پیار ے ہمارے ساتھ رابطہ نہیں کر سکتے تو پھر یہ رُوحانی عامل، افسونگر اور عالمِ رُوحانیات ایسی درست معلومات کو کیسے اور کہاں سے حاصل کر سکتے ہیں؟پہلی بات تو یہ ہے کہ بہت سارے ایسے عالمِ رُوحانیات کے جعلی ہونے کے کئی ایک پول کھل چکے ہیں۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ عالمِ رُوحانیات بالکل عام ذرائع سے بہت سارے لوگوں کے بارے میں بہت زیادہ معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔ بعض دفعہ کال کرنے والے کی آئی ڈی کو استعمال کرتے ہوئے انٹرنیٹ کی مدد سے یہ عالمِ روحانیات لوگوں کے نام، ایڈریس، تاریخ پیدایش، شادی کی تاریخ اور خاندان کے افراد کے بارے میں کافی زیادہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ بہرحال ہم اِس بات سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ عالمِ روحانیات بہت دفعہ ایسی معلومات بھی حاصل کر لیتے ہیں جو اُن کے لیے محض ایک عام انسان ہونے کے ناطے حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ وہ ایسی ساری معلومات کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ شیطان اور اُس کی بُد روحوں کی مدد سے۔ "اور کچھ عجب نہیں کیونکہ شیطان بھی اپنے آپ کو نُورانی فرشتہ کا ہم شکل بنا لیتا ہے۔پس اگر اُس کے خادِم بھی راست بازی کے خادِموں کے ہم شکل بن جائیں تو کچھ بڑی بات نہیں لیکن اُن کا انجام اُن کے کاموں کے موافق ہو گا"(2 کرنتھیوں 11باب 14-15 آیات)۔ اعمال 16باب 16- 18 آیات غیب کی باتیں بتانے والی ایک لڑکی کے بارے میں بیان کرتی ہیں۔ جب تک پولس رسول نے اُس کے اندر موجود بد رُوح کو جھڑک کر نکال نہ دیا وہ لڑکی غیب کی باتیں بتانے کے قابل تھی۔

شیطان اکثرایسا روپ دھار لیتا ہے جیسے وہ لوگوں پر مہربان اور اُن کا مددگار ہے۔ وہ اکثر لوگوں کے سامنے ایک اچھی ذات کے طور پر ظاہر ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ شیطان اور اُس کی ابلیسی ارواح عالمِ روحانیات کو کسی بھی شخص کے بارے میں بہت ساری اہم معلومات دیتی ہیں اور اُس سب معلومات کو فراہم کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح اُس شخص کو بھی رُوحانی عملیات ، پُر اسرار علوم اور ایسی سرگرمیوں میں کھینچا جا سکے جن سے خُدا سختی کے ساتھ منع کرتا ہے۔ پہلے پہل تو یہ سب باتیں بالکل عام، سادہ اور معصومانہ لگتی ہیں لیکن جلد ہی لوگ اِن سب چیزوں کے عادی ہونے لگتے ہیں اور وہ شیطان کو اِس چیز کی اجازت دینے لگتے ہیں کہ وہ اُن کی زندگیوں پر اختیار رکھے اور پھر بالآخر اُنہیں تباہ کر دے۔ پطرس رسول اعلان کرتا ہے کہ"تم ہوشیاراور بیدار رہو۔ تمہارا مخالف ابلیس گرجنے والے شیر ببر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے۔" (1 پطرس 5باب8 آیت)۔ بہت دفعہ ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جن میں عالمِ الہیات خود دھوکہ کھائے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ خود نہیں جانتے کہ اُنہیں وہ سب معلومات کہاں سے مہیا ہو رہی ہے۔ معاملہ چاہے کوئی بھی ہواور معلومات کا ذریعہ بھی چاہے جو کچھ بھی ہو، کوئی بھی بات جس کا تعلق روحانی عملیات، افسوں گری، علمِ نجوم اور ایسے دیگر ذرائع کے ساتھ ہے وہ معلومات کو حاصل کرنے کا ایسا طریقہ نہیں جسے خُدا پسند کرتا ہے۔ خُدا کس طرح سے چاہتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کے لیے اُس کی پاک مرضی کو جان پائیں؟ خُدا کا منصوبہ بالکل سادہ، لیکن بہت ہی زیادہ حیرت انگیز اور کار آمد ہے: بائبل مُقدس کا مطالعہ کیجئے (2 تیمتھیس 3 باب 16- 17 آیات) اور خُدا سے حکمت حاصل کرنے کے لیے دُعا کیجئے (یعقوب 1باب5 آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مسیحیت کا ماہرینِ رُوحانیات کے بارے میں کیا تصور ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries