settings icon
share icon
سوال

بائبل خوشحالی کی انجیل کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب


خوشحالی کی انجیل کے لیے انگریزی اصطلاح “Word of Faith Movement” (ورڈ آف فیتھ موومنٹ- ایمان سے کہے گئے الفاظ /ایمان سے کیے گئے کلام کی تحریک) استعمال کی جاتی ہے ۔ اِس تحریک میں ایمانداروں کو بتایا جاتا ہے کہ وہ خدا کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں اور یہ بات بائبل کی سچائی کے بالکل خلاف ہے کیونکہ ایماندارخُدا کو استعمال نہیں کرتے بلکہ خدا ایمانداروں کو اپنے جلال کےلیے استعمال کرتا ہے ۔ خوشحالی کی انجیل کی تحریک کا علمِ الہیات رُوح القدس کو ایک ایسی قوت کے طور پر پیش کرتا ہے جس کو ایماندار کی ہر طرح کی خواہشات کے مطابق ا ستعمال کیا جا سکتا ہے ۔ اِس کے برعکس، بائبل سکھاتی ہے کہ رُوح القدس وہ ذات ہے جو ایماندار کو خدا کی مرضی پر عمل کرنے کے قابل بناتی ہے ۔ خوشحالی کی انجیل کی تحریک بہت حد تک کچھ ایسے تبا ہ کن لالچی فرقوں سے مشابہت رکھتی ہے جو خفیہ طور پر ابتدائی کلیسیا میں شامل ہو گئے تھے ۔ پولس اور دوسرے رسول ایسے لالچی فرقوں کو کلیسیا میں جگہ نہیں دیتے تھے اور نہ ہی ایسے جھوٹے اُستادوں کو قبول کرتے تھے جو اِس طرح کی بدعتی تعلیم دیتے تھے۔ وہ ان کی نشاندہی جھوٹے اُستادوں کے طور پر کرتے اور مسیحیوں کو ایسے لوگوں سے بچنے کی ہدایت کرتے تھے ۔

پولس رسول تیمتھیس کو ایسے آدمیوں کے بارے میں 1تیمتھیس 6باب 5 اور 9-11آیات میں آگاہ کرتا ہے ۔ یہ آدمی " جن کی عقل بگڑ گئی ہے " دین داری کو نفع کا ذریعہ خیال کرتے تھے اور دولت کےلیے اُن کی خواہش ایسا پھندہ ثابت ہوئی جس نے اِن کو "تباہی اور ہلاکت کے دریا میں غرق کر " دیا تھا (9آیت )۔ دولت کی تلاش کا راستہ مسیحیوں کےلیے خطرنا ک ہے اور خد ا اس کے بارے میں خبردار کرتا ہے : " کیونکہ زَر کی دوستی ہر قسم کی بُرائی کی جڑ ہے جس کی آرزُو میں بعض نے اِیمان سے گمراہ ہو کر اپنے دِلوں کو طرح طرح کے غَموں سے چھلنی کر لیا"(10آیت)۔ اگر دولت کی تلاش ایمانداروں کےلیے ایک مناسب مقصد ہوتا تو پھر یسوع نے بھی اِس کی تلاش کی ہوتی ۔ لیکن یسوع نے دولت کو اہمیت نہیں دی تھی بلکہ یسو ع نے تواپنے رہنے کےلیے جگہ کو بھی ترجیح نہ دی ( متی 8باب 20آیت) اور اُس نے اپنے شاگردوں کو بھی ایسا ہی کرنے کی تعلیم دی تھی ۔ اِس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہوداہ وہ واحد شاگر دتھا جو دولت کے بارے میں فکر مندرہتا تھا۔

پولس رسول کہتا ہے کہ لالچ بُت پرستی کے برابر ہے ( افسیوں 5باب 5آیت) اور افسیوں کی کلیسیا کے ایمانداروں کو ایسے لوگوں سے بچنے کی نصیحت کرتا ہے جو اخلاقی بے راہروی یا لالچ کا پیغام سناتے ہیں (افسیوں 5باب 6-7آیات)۔ خوشحالی کی تعلیم خدا کو اپنےطور پر کام کرنے سے روکتی ہے ، اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدا ہر چیز پر اختیار نہیں رکھتا کیونکہ جب تک ہم اُسے کچھ کرنے کی اجازت نہ دیں وہ کوئی کام نہیں کر سکتا ۔ 'ایمان سے کہے گئے الفاظ کے عقیدے' کے مطابق ایمان فرمانبرداری میں خدا پر بھروسہ کرنا نہیں ؛ بلکہ اِس تحریک کی تعلیمات کے مطابق ایمان ایک ایسا فارمولا ہے جس کے ذریعے ہم اُن روحانی قوانین کو اپنی مرضی سے استعمال کر سکتے ہیں ،جو خوشحالی کی تحریک کے استادوں کے مطابق کائنا ت کو چلاتے ہیں ۔ جیسا کہ " ورڈ آف فیتھ "(یعنی ایمان کیساتھ بولا گیا لفظ یا ایمان کے ساتھ کیا گیا کلام) کے نام سے ظاہر ہوتا ہے یہ تحریک سکھاتی ہے کہ ایمان کاتعلق ہمارے اعتقاد یا اُن سچائیوں سے بھی بڑھکر جنہیں ہم قبول کرتے اور اپنے دل سے مانتے ہیں ہمارے منہ سے نکلنے والے الفاظ یا ہمارے منہ کے کلام کے ساتھ ہے۔

خوشحالی کی انجیل کے اساتذہ کی سب سے پسندیدہ اصطلا ح " مثبت اقرار کرنا" ۔ یہ بات اِس تعلیم کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ الفاظ بذات خود تخلیقی قوت رکھتے ہیں ۔ خوشحالی کی تحریک کے استاد دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں اُس سے اِس بات کا تعین ہوتا ہے کہ آپ کے ساتھ آئندہ ہوگا ۔ آپ کی طرف سے اقرار اور اعتراف ، خاص طور پر وہ جن میں آپ خدا کی حمایت کا مطالبہ کرتے ہیں مثبت انداز میں اور کسی طرح کے بھی شک کے بغیر ہونے چاہییں ۔ اِس صورت میں جب آپ خُدا سے کسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ لازمی جواب دیتا ہے (اِس تعلیم کے مطابق انسان خدا سے کسی بھی چیز کا مطالبہ کر سکتا ہے !)۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں برکت دینے کی خدا کی صلاحیت کا انحصار ہمارے ایمان پر ہے ۔ یعقوب 4باب 13- 16آیات واضح طور پر اِس تعلیم کی تردید کرتی ہیں :" تم جو یہ کہتے ہو کہ ہم آج یا کل فُلاں شہر میں جا کر وہاں ایک برس ٹھہریں گے اور سوداگری کر کے نفع اُٹھائیں گے۔ اور یہ جانتے نہیں کہ کل کیا ہو گا ۔ ذرا سُنو تو! تمہاری زِندگی چیز ہی کیا ہے؟ بخارات کا سا حال ہے ۔ ابھی نظر آئے ۔ ابھی غائب ہو گئے"۔ مستقبل میں چیزوں کو وجود میں لانے سے کہیں دور ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ کل کیا ہو گا یا کیا کل ہم زندہ بھی ہوں گے کہ نہیں ۔

دولت کی اہمیت پر زور دینے کی بجائے بائبل اِس کی مسلسل تلاش یااِس کے لیے مسلسل جستجو کرنے سے بھی منع کرتی ہے ۔ ایمان داروں کو اور خاص طور پر کلیسیائی رہنماؤ ں کو(1تیمتھیس 3باب 3آیت) زرکی محبت سے آزاد ہونا چاہیے (عبرانیوں 13باب 5آیت)۔ زَر کی محبت ہر قسم کی بُرائی کا باعث بنتی ہے ( 1تیمتھیس 6باب 10 آیت)۔ یسوع نے حکم دیا ہے کہ " خبردار! اپنے آپ کو ہر طرح کے لالچ سے بچائے رکھّو کیونکہ کسی کی زِندگی اُس کے مال کی کثرت پر موقُوف نہیں"( لوقا 12باب 15آیت)۔ خوشحالی کی انجیل جو اس زندگی میں پیسہ اور مال و دولت حاصل کرنے پر زور دیتی ہے کے بالکل برعکس یسوع یہ تعلیم دیتا ہے "اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں"( متی 6باب 19آیت)۔ خوشحالی کی انجیل کی تعلیمات اور ہمارے خداوند یسوع مسیح کی انجیل کے درمیان ناقابل مصالحت تردید کا خلاصہ متی 6باب 24آیت میں یسوع کے الفاظ کے ذریعے کیا گیا ہے " تُم خُدا اور دَولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے" ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل خوشحالی کی انجیل کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries