settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


کفارہ دینے کے لیے استعمال ہونے والا لفظ propitiation اپنے اندر اطمینان دلانے، تسلی کروانے، تسکین دینے کے معنی رکھتا ہے اور جب یہ خُدا کی ذات کے تعلق سے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ خُدا کے غضب و قہر کے تقاضے کو پورا کرنے کے معنی دیتا ہے۔ کفارہ دینے یعنی propitiation کی اصطلاح دو طریقے سے کام کرتی ہے، یہ ناراض ہونے والے شخص کے غصے یا غضب کو ٹھنڈا کرنے کے ساتھ ساتھ اُس شخص کے ساتھ صلح کے کام کو بھی سر انجام دیتی ہے۔

خُدا کو خوش کرنے کی ضرورت ایک ایسی چیز ہے جس کا تصور بہت سارےمذاہب کے اندر پایا جاتا ہے۔ قدیم بُت پرستی کے مذاہب میں اور موجودہ طور پر بھی کئی ایک مذاہب کے اندر اِس تصور کی تعلیم دی جاتی ہے کہ انسان خُدا کے حضور مختلف قسم کے تحائف لا کر یا مختلف قسم کی قربانیاں گزران کر اُسے خوش کر سکتا ہے۔ بہرحال بائبل یہ تعلیم دیتی ہے کہ خود خُدا نے ہی ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جس کے ذریعے سے گناہگار انسان اُس کے قہر کو ٹھندا کر سکتا ہے اور اِس کے ساتھ ہی اُس کے ساتھ صلح کر سکتا ہے۔ نئے عہد نامے میں کفارے کی فراہمی کو خُدا کی طرف سے کئے گئے کام کے ساتھ ہی جوڑا جاتا ہے نہ کہ انسان کی طرف سے خُدا کو پیش کئے جانے والے تحائف اور قربانیوں کے ساتھ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ انسان مکمل طور پر خُدا کے قہر کو ٹھنڈا کرنے کی قابلیت نہیں رکھتا، سوائے اِس کے کہ وہ اپنے گناہوں کی قیمت ادا کرنے کے لیے اپنی ابدیت جہنم میں گزارے۔ ایسی کوئی خدمت، قربانی یا تحفہ نہیں ہے جسے خُدا کے قہر کو ٹھنڈا کرنے اور اُس کے کامل انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اُسکے حضور پیش کیا جا سکے۔ وہ واحد کفارہ جو خُدا کے حضور قابلِ قبول ہے اور جو گناہگار انسان کی خُدا کے ساتھ صلح کروا سکتا ہے وہ خود خُدا کی طرف سے مہیا کیا گیا ہے۔ اِسی وجہ سے خُدا بیٹا ، یسوع مسیح حلیمی اختیار کرتے ہوئے مجسم ہو کر اِس دُنیا میں آیا تا کہ وہ ہمارے گناہوں کی قربانی دے اور "گُناہوں کا کفّارہ دینے کے " وسیلہ سے خُدا کے غضب کو ٹال دے (عبرانیوں 2باب17آیت)۔

لفظ propitiation کا استعمال کئی ایک آیات کے اندر اِس بات کو بیان کرنے کے لیے کیا گیا ہے کہ یسوع نے صلیب پر جان دینے کے وسیلے ہمارے لیے کونسے کام کو سرانجام دیا ہے۔ مثال کے طور پر رومیوں 3باب24-25آیات کے اندرایمانداروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ"مگر اُس کے فضل کے سبب سے اُس مخلصی کے وسیلہ سے جو مسیح یِسُو ع میں ہے مُفت راست باز ٹھہرائے جاتے ہیں۔اُسے خُدا نے اُس کے خُون کے باعث ایک اَیسا کفّارہ ٹھہرایا جو اِیمان لانے سے فائدہ مند ہو تاکہ جو گناہ پیشتر ہو چکے تھے اور جن سے خُدا نےتحمل کر کے طرح دی تھی اُن کے بارے میں وہ اپنی راست بازی ظاہِر کرے۔ " اِس کتاب کے اندر پولس رسول جو پیغام دے رہا ہے یہ آیات اُس کی رُوحِ رواں ہیں اور یہ انجیل کے اصل پیغام کا مرکز ہیں۔

رومیوں کے نام خط کے پہلے تین ابواب کے اندر پولس یہ تعلیم دیتا ہے کہ تمام یہودی اور غیر اقوام کے لوگ خُدا کے حضور ایک جیسے ہیں اور سبھی خُدا کے غضب کے نیچے ہیں (رومیوں 1باب18آیت)۔ ہر کسی نے گناہ کیا ہے اور خُدا کے فضل سے محروم ہے (رومیوں 3باب23آیت)۔ ہم میں سے ہر ایک خُدا کے غضب اور اُس کی طرف سے گناہوں کی سزا کا مستحق ہے۔ خُدا نے اپنے لا محدود فضل اور رحم کے وسیلے ہمارے لیے ایک ایسی راہ مہیا کی ہے جس کے ذریعے سے اُس کے غضب کو ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے اور ہماری اُس کے ساتھ صلح ہو سکتی ہے۔ وہ راہ یا طریقہ اُس کے اپنے بیٹے خُداوند یسوع مسیح کی صلیبی موت کے وسیلے ہمارے گناہوں کی قیمت کی ادائیگی ہے۔ یسوع مسیح پر خُدا کے حضور کامل قربانی کے طو ر پر ایمان لانے سے ہماری خُدا کے ساتھ صلح ہو جاتی ہے۔ صرف یسوع مسیح کی صلیبی موت اور پھر تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وسیلے سے ہی جہنم میں جانے کے مستحق گناہگار کی خُدا کے ساتھ صلح ہوتی ہے۔ انجیل کی حیرت انگیز سچائی یہ ہے کہ مسیحی خُدا کے غضب سے محفوظ ہیں اور اُن کی خُدا کے ساتھ صلح ہو چکی ہے، اِس لیے نہیں کہ "ہم نے خُدا سے مُحبّت کی بلکہ ۔۔۔ اُس نے ہم سے مُحبّت کی اور ہمارے گُناہوں کے کفّارہ کے لئے اپنے بیٹے کو بھیجا " (1 یوحنا 4 باب 10آیت)۔

یسوع نے کہا ہے کہ "راہ اور حق اور زِندگی مَیں ہُوں ۔ کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا "(یوحنا 14باب6آیت)۔ خُدا کے قہر کو ٹھنڈا کرنے اور ہماری خُدا کے ساتھ صلح کروانے کے لیے واحد راستہ خُداوند یسوع مسیح کی ذات ہے۔ اِس کے علاوہ کوئی اور دوسرا راستہ نہیں ہے۔ اِس سچائی کو 1 یوحنا 2باب2آیت کے اندر بھی بیان کیا گیا ہے، "اور وُہی ہمارے گُناہوں کا کفّارہ ہے اور نہ صرف ہمارے ہی گناہوں کا بلکہ تمام دُنیا کے گناہوں کا بھی۔ " خُدا وند یسوع کے نجات بخش کام کا ایک حصہ خُدا کے غضب سے بچانا بھی ہے؛ مسیح کا صلیب پر ہمارے گناہوں کا دیا ہوا کفارہ ہی وہ واحد چیز ہے جو گناہ کے خلاف خُدا کی راست سزا کو ٹال سکتا ہے۔ وہ سب جو یسوع مسیح کو اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر رَد کرتے ہیں اور اُس پر ایمان لانے سے انکار کرتے ہیں اُن کے پاس نجات کی کوئی اُمید نہیں ہے۔ وہ صرف خُدا کے اُس غضب اور قہر کا سامنا کرنے کی ہی اُمید کر سکتے ہیں جو اُس نے یومِ عدالت کے لیے مقرر کر رکھا ہے(رومیوں 2باب5آیت)۔ اِس کے علاوہ کوئی ایسا کفارہ یا قربانی نہیں ہے جو گناہ کےلیے پیش کی جا سکتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries