settings icon
share icon
سوال

نبوّتی دُعا کیا ہے؟

جواب


" دُعا ئیہ تحریک " کے دیگر پہلوؤں جیسا کہ ) متغرق (بھگو دینے والی / بھیگی دُعا(soaking prayer)، نبوّتی دعا- یا "نبوّتی شفاعت" کی طرح نبوّتی دُعا بھی ایک غیر بائبلی مشق ہے جو دُعا کی اُس طاقت اور اختیار سے منسوب ہونے کی کوشش کرتی ہے جس کی بائبل میں کوئی بنیاد نہیں ہے ۔

نبوّتی دُعا کے ماننے والے یہ ایمان رکھتے ہیں کہ وہ دنیا میں عین خدا کے الفاظ پر مبنی دعا کر رہے ہیں ۔ اس قسم کی دعا ایسے خود ساختہ " نبیوں کی طرف سے کی جاتی ہے جن کا خیال ہے کہ وہ براہ ِراست خدا کے تخت سے پیغامات لے سکتے ہیں اور اس طرح وہ خود کو خدا کے کلام کے وسیلہ کے طور پر پیش کرتے ہوئے اپنی دُعاؤں کو " نبوّتی " قرار دیتے ہیں ۔ مگر بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ کلام ِ مقدس کا نبوّتی سلسلہ اب بند ہو چکا ہے ( مکاشفہ 22باب 18آیت)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا آج کے نام نہاد نبیوں کو نیا الہام نہیں دے رہا ۔ وہ اپنے کلام کے وسیلہ سے بات کر چکا ہے اور اب ہمارا کام " اُس اِیمان کے واسطے جانفشانی ( کرنا ہے ) جو مُقدّسوں کو ایک ہی بار سونپا گیا تھا" ( یہوداہ 3آیت)۔ ہمیں خدا سےمزید مکاشفہ جات کے حصول کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ۔

نبوّتی دُعا کو عام طور پر ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جس میں زمین پر خدا کی " نبوّتی رویا " کی تکمیل کا حکم دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں خداکی مرضی پوری ہو گی ۔ کچھ کرشماتی منسڑیوں میں نبوّتی دعا کو زمین پر خدا کی عدالت لانے اور خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کےایک ذریعے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ نبوّتی دُعا نہ صرف انفرادی طور پر لوگوں کو ہد ف بناتی ہے کہ وہ " اپنے نبوّتی مقصد" ( خدا کے منصوبے میں اُن کی خدمت) کو پورا کر پائیں بلکہ وہ عام دنیا کو بھی نشانہ بناتی ہے تاکہ زمین پر خدا کی مرضی کی تکمیل ہو سکے ۔ لیکن متی 6باب میں یسوع کی دُعا ہمیں خدا کی مرضی کے تابع ہوناسکھاتی ہے ؛ یہ دعا اس بات کی تعلیم بھی نہیں دیتی کہ خدا کی مرضی کو عملی شکل دینے کےلیے ہم خا ص طاقتوں کے مالک ہیں ۔ خدا کا منصوبہ اُس کی اُس عین ترتیب کے مطابق رونما ہو گا جواُس نے ہمیں نہیں بتایا ہوا( متی 24باب 36آیت؛ 25باب 13آیت؛ مرقس 13باب 32آیت؛ لوقا 12 باب 37-47آیات)۔ کسی " نبی " کی مرضی کی بنیاد پر اُس کی عدالت کے واقع ہونے اور اُس کی بادشاہی کے رونما ہونے کا تقاضا کرنا متکبر انہ اور ممکنہ طور پر کفر ہے ۔ یہ خداوند ہی ہے جو اپنی تمام مرضی کو پورا کرے گا :" مَیں ہی نے یہ کہا اور مَیں ہی اِس کو وُقُوع میں لاؤُں گا۔ مَیں نے اِس کا اِرادہ کِیا اور مَیں ہی اِسے پُورا کرُوں گا" ( یسعیاہ 46باب 11آیت)۔

نبوّتی دُعا اس جدید دُور میں ایسے نبیوں اور مَرد و خواتین کی موجودگی کو تسلیم کرتی ہے جو دنیا میں خدا کے ترجمان ہیں اور جو خود خدا کے تمام اختیار کے ساتھ الٰہی الہام کا اظہار کر سکتے ہیں ۔ جب کوئی شخص نبوّتی دُعا میں مشغول ہوتا ہے تو وہ اس بات کی التجا نہیں کر رہا ہوتا کہ خدا کی مرضی پوری ہو بلکہ وہ اس بات کا حکم دے رہا ہوتا ہے کہ خدا کی مرضی پوری ہو اور اُسے یقین ہے کہ جیسےایلیاہ کے دُعا کرنے پر بارش ہوئی تھی اُسی طرح اس کی بات کی پیروی کی جائے گی ۔

ایسے لوگ جو نبوّتی دُعا کی تعلیم دیتے ہیں وہ دعائے ربانی کے نمونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو اِن الفاظ پر مشتمل ہے کہ " تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پُوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو" ( متی 6باب 10آیت)۔ اُن کے بقول یہ آیت سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنےاردگرد کی دنیا میں خدا کی مرضی کو مانگنا چاہیے ۔ اس جدید دُور کا کوئی بھی نبی جب " زمین پر " یا " اپنےارد گرد کی فضامیں " خدا کا کلام کرتا ہے تو اُس کا یقین ہوتا کہ وہ اپنے ماحول کو خدا کے حکم کے موافق تبدیل کرتا اور اُس کے مقصد کے لیے راہ ہموار کررہا ہوتا ہے ۔ نبوّتی دُعا کے حامی مانتے ہیں کہ وہ محض یہ نبوت نہیں کرتے کہ کیا ہوگا بلکہ وہ نبوت کردہ چیزوں کو تخلیق کرتے ہیں ! ماناجاتا ہے کہ نبوّتی دُعا درحقیقت اپنے جواب کو بذات خود وجود بخشتی ہے ۔ مگر بائبل بیان کرتی ہے کہ یہ فیصلہ صرف خدا ہی کرتا ہے کہ وہ کب ، کہاں اور کیسے عمل کرے گا ۔ ہمیں دُعا کرنی چاہیے کہ وہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں بلکہ اپنی کامل مرضی اور وقت کے مطابق عمل کرے ۔

جو لوگ نبوّتی دُعا کی تعلیم دیتے ہیں وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ خدا نبیوں کو دوسرے لوگوں کی دعاؤں کے جواب فراہم کرنےکےلیے استعمال کرتا ہے ۔ اُن کے مطابق اگر کوئی شخص دُعا کاجواب تلاش کر رہا ہے تو خدا کسی نبی کو نبوّتی انداز میں دُعا کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے اور اِس طرح دوسرے شخص کی دُعا کا جواب دے دیا جائے گا۔ لیکن بائبل سکھاتی ہے کہ ہماری دُعاؤں کے جواب کا انحصاراس دنیا میں کسی بھی " نبی" پر نہیں ہے ۔ خدا اور انسان کے بیچ ایک ہی درمیانی ہے اور وہ یسوع مسیح ہے ( 1 تیمتھیس 2باب 5آیت)۔ کیا نبوتی دُعا بائبل کے مطابق ہے ؟ نہیں ، نبوتی دُعا بائبل کے مطابق نہیں ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

نبوّتی دُعا کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries