settings icon
share icon
سوال

کیا خُدا کے وجود کا کوئی فیصلہ کن ثبوت موجود ہے؟

جواب


اس سوال کے جواب کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ " فیصلہ کُن " ثبوت سے کیا مراد لیتے ہیں ۔ کیا ہم اُس طرح سے خدا تک رسائی حاصل کر سکتے یا اُسے چھو سکتے ہیں جس طرح سے ہم عام لوگوں کو چھو اور دیکھ سکتے ہیں ؟نہیں ۔ لیکن ایسے بے شمار طریقہ کار موجود ہیں جن کے وسیلہ سے ہم یقینی طور پر جان سکتے ہیں کہ خدا موجود ہے وہ حقیقی ہے اور وہ وہی کچھ ہے جو کچھ ہونے کا وہ دعویٰ کرتا ہے۔ ہم سائنس اور بائبل دونوں کو استعمال کرتے ہوئے اُس کی موجوگی کو ثابت کرنے کے تین طریقوں پر مختصر طور پر غور کریں گے۔

أ. قانونِ سبب اور اثر( علت ومعلول)۔ سائنس کا یہ قانون بیان کرتا ہے کہ ہر سبب کا ایک اثر ہوتا ہے اور ہر اثر کے پیچھے ایک سبب ہوتا ہے۔ یہ قانون تمام سائنس کی بنیاد ہے ۔ اس لحا ظ سے یہ قانون آسمان و زمین کے ماخذ سے اپنا تعلق قائم رکھتا ہے ۔ درحقیقت سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہے اور یہ بھی کہ اس کا کسی ایک مخصوص وقت پر آغاز ہو ا تھا ۔

نظریہ ِ اضافیت( The theory of relativity) جسے سائنس دانوں کے درمیان قریباً عالمی سطح پر قبول کیا جاتا ہے اس قانون ِ سبب اور اثر کی طرف خاص اشارے کرتا ہے ۔ اس کا پہلا اشارہ یہ ہے کہ کائنات جسے وقت ، خلا، مادے اور توانائی کے طور پر بیان کیا جاتا ہے اُسکا ایک نقطہ ِ آغاز ہے اور وہ ابدی نہیں ہے ۔ اور یہ آئن سٹائن کے تسویے کے وسیلہ سے ممکن ہوا ہے کہ سائنس دان ارتقاء کائنات کے اُس انتہائی ابتدائی نقطےتک جسے " singularity unite" کا نام دیا جاتا ہےیعنی وہ تاریخ میں پیچھے اُس وقت تک کھوج لگا سکتے ہیں جب کائنات درحقیقت وجود میں آئی تھی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کائنات کا تاریخ میں ایک خاص نقطہ آغاز ہے تو پھر یقیناً اس کے وجود میں آنے کا ایک خاص وقت ہے اور اس کےوجود کا لازمی طور پر ایک سبب ہے۔

پس اگر کائنات کو اپنے وجود میں آنے کےلیے کسی سبب کی ضرورت ہے تو پھر اس سبب کو کائنات-جو وقت ، خلا، مادہ اور طبعی توانائی ہے - سے بالا تر ہونا چاہیے ۔ یہ سبب اُس ذات کی مانند ہونا چاہیے جیسے مسیحی " خدا " کہتے ہیں ۔ حتیٰ کہ رچرڈ ڈاؤکنز نے جو ممکنہ طور پر ہمارے زمانے میں دہریت کا سب سے نمایاں حامی ہے ٹائم میگزین کے ایک آرٹیکل میں تسلیم کیا ہے کہ " ہوسکتا ہے کہ کوئی ناقابلِ یقین حد تک عظیم ایشان اور نا قابل ادراک اور ہمارے موجودہ شعور سے بالا تر ذات ہو "۔ ہاں ہو سکتاہے اور وہ خدا ہے !

ہم اس کائناتی ثبوت کو مندرجہ ذیل بیانات کے ساتھ بہتر ین انداز میں بیان کر سکتے ہیں ۔

(1) کوئی بھی چیز جو وجود میں آتی ہے اُس کے وجود کے لیے کسی ایک سبب کا ہونا ضروری ہے ۔

(2) کائنات کے وجود کا ایک آغاز ہوا تھا ۔

(3) لہذا کائنا ت کے وجود میں آنے کےلیے ایک سبب کا ہونا ضروری ہے ۔

(4) کائنات کے سبب کی صفات ( لازمان ، وقت، مادے اور خلا ء سے اعلیٰ و ارفع وغیرہ ہونا ) خدا کی صفات ہیں ۔

(5) پس کائنا ت کے وجود کا سبب خدا کو ہونا چاہیے ( پیدایش 1باب 1آیت)۔

ب. قانونِ غائی ۔ غایاتیات مظہرِ فطرت میں ڈیزائن/نمونہ سازی یا مقصد کا مطالعہ ہے ۔ سائنس کے اس قانون کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ جب کوئی چیز کسی استعمال ، مقصد یا ڈیزائن کی عکاسی کرتی ہے تو اس کے پیچھے یقیناً ایک ڈیزائنر/نمونہ ساز ہوتا ہے ۔ سادھے الفاظ میں کہیں تو چیزیں خود کوتشکیل نہیں دیتی ۔ یہ بات کائنا ت کی چیزوں پر پوری اُترتی ہے جو کائنا ت کے لیے ایک ڈیزائنر کے موجود ہونے کی تصدیق کرتی ہے ۔

مثال کے طور پر اگر سورج کے گرد چکر لگاتے ہوئے زمین محض ہر 18 میل پر ایک انچ کے صرف نویں حصے تک سیدھی لائن میں سورج سے دُور ہوتی ہے – انسانی اصطلاح میں ایک سیدھی لائن ہے ۔ اگر یہ مدار ہر 18میل پر ایک انچ کے دسواں حصے تک تبدیل ہو تاہے تو یہ بہت بڑی تبدیلی ہو گی اور ہم اِس طرح سے زمین کے سورج سے دور جانے کی بدولت ٹھنڈ کے باعث مر جائیں گے ۔ اور اگر یہ تبدیلی ایک انچ کے آٹھویں حصے تک سورج کی نزدیکی کی طرف ہوتی ہے تو ہم جل کر خاک ہو جائیں گے ۔ اپنے اندرونی حصے میں سورج تقریباً 20 ملین ڈگری سنٹی گریڈ پر جل رہا ہے۔ اگر زمین کو 10 فیصد اس سے دُور کیا جائے تو ہم سردی کی وجہ سے جلد مر جائیں گے ۔ اور اگر اسے 10 فیصد قریب کر دیا جائے تو ہم جل کر بھسم ہو جائیں گے ۔ کیا ہمیں یقین ہے کہ سورج اور زمین کے درمیان ایسی تفصیلی درستگی" محض اتفاق " سے ہے ؟ اس بارے میں سوچیں : سورج زمین سے 93 ملین میل دور ہے اور یہ اِس زمین پر زندگی کے موجود ہونے کے لیے بالکل درست فاصلہ ہے۔ کیا ایسا محض اتفاق سے یا ڈیزائن کے تحت ہوا تھا ۔ یہ کوئی کم حیرانی کی بات نہیں ہے کہ زبور نویس خدا کو عظیم ڈیزائنر کے طور پر پیش کرتا ہے : "آسمان خُدا کا جلال ظاہر کرتا ہے اور فضا اُس کی دست کاری دِکھاتی ہے۔ وہ آسمان کی اِنتہا سے نکلتا ہے اور اُس کی گشت اُس کے کناروں تک ہوتی ہے اور اُس کی حرارت سے کوئی چیز بے بہرہ نہیں" ( 19زبور 1 ، 6آیات)۔

ج. قوانینِ امکانات اور تکمیل شدہ نبوت:بائبل میں قریباً 1,093 پیشن گوئیاں ہیں جو یسوع مسیح اور اُس کی کلیسیا کا ذکر کرتی ہیں اور اُن میں سے ہر ایک پیشن گوئی پوری ہو چکی ہے ! پرانے عہد نامے میں یسوع کی مصلوبیت سے متعلق 48 پیشن گوئیاں پائی جاتی ہیں ۔ جب ایک ہی وقت پر یا اس کے قریب تر رونما ہونے والے متعد د واقعات کے وقوع پذیر ہونے کے امکان کے شمار کےلیے قوانین ِ امکانات کا اطلاق کیا جاتا ہے تو تمام امکانات کو ایک ساتھ ضرب دینے کی ضرورت ہے ۔ مثال کے طور پر اگر کسی اکیلے واقعے کے بے ترتیبی سے رونما ہونے کا امکان 5 میں سے ایک ہے اور کسی علیحدہ واقعے کے رونما ہونے کا امکان 10 میں سے 1 ہے تو پھر دونوں واقعات کے ایک ساتھ یا ترتیب وار رونما ہونے کا امکان 10 ضرب 5 میں سے 1 ہے جس کا حاصل 50 میں سے 1 ہے ۔

اس حقیقت پر غور کرتے ہوئے کہ ایک ہزار سال کے عرصہ میں الگ الگ علاقوں میں رہنے والے متعدد نبیوں نے مسیح کی پیدایش سے 500 سال پہلے اُس کے بارےمیں پیشن گوئیاں کی تھیں ان پیشن گوئیوں کے سچ ثابت ہونے کے امکانات کا شمار کرنا ہمارےفہم سے بالا تر ہے ۔ مثال کے طور پر کسی شخص ( یسوع) سے منسوب پیشن گوئیوں میں سے محض 8 کے اُس کی زندگی میں پورا ہونے کے امکانات کا شمار 10 کی طاقت 17 (1017)میں سے ایک ہے ( جو 1 کے ساتھ 17 صفر پر مبنی عدد ہے )۔

پوری ٹیکساس ریاست کو چاندی کے سکوں سے دو فٹ کی سطح تک ڈھا نپنے کا تصور کریں۔ پوری ریا ست کو ڈھانپنے کےلیے درکار سکوں کا شمار 10 کی طاقت 17 ہو گا ۔ ایک سکے پر " X" کا نشان لگا کر اِسے ہوئی جہاز کی مدد سے نیچے گرائیں ۔ اس کے بعد ریاست بھر میں چاندی کے تمام سکوں کو اچھی طرح ہلائیں ۔ پھر ایک شخص کی آنکھوں پر پٹی باندھیں اور اُسے بتائیں کہ وہ ٹیکسا س میں جہاں چاہے سفر کر سکتا ہے ۔ اس سفر کے دوران وہ ایک جگہ رکتا اور ہاتھ بڑھا کر دو فٹ گہرے سکوں میں سے اُس سکے کو اُٹھاتا ہے جس پر "X" کا نشان لگاہوا ہے ۔ اُس کے ایسا کرنے کے کتنے امکانات ہیں ؟ نبیوں کے پاس بھی ایسا ہی امکان تھا کہ اُن کی آٹھ پیشن گوئیاں میں سے ایک پیشن گوئی مستقبل کے کسی شخص کی زندگی میں پوری ہوتی ہے ۔

بائبل اپنی تمام تر پوری ہونے والی پیشن گوئیاں کےساتھ خدا کے وجود کو ثابت کرتی ہے ۔ قانون ِ امکان اور پوری ہونے والی پیشن گوئی کے ریاضیاتی فرق کے وسیلہ سے ہم یقین سے جان سکتے ہیں کہ ایک الٰہی ڈیزائنر اور بائبل کا مصنف موجود ہے ۔ یہ وہی ذات ہے جس نے کائنات کو وجود بخشا ہے "اور اگر تُو اپنے دِل میں کہے کہ جو بات خُداوند نے نہیں کہی ہے اُسے ہم کیونکر پہچانیں؟ تو پہچان یہ ہے کہ جب وہ نبی خُداوند کے نام سے کچھ کہے اور اُس کے کہے کے مطابق کچھ واقع یا پُورا نہ ہو تو وہ بات خُداوند کی کہی ہوئی نہیں بلکہ اُس نبی نے وہ بات خُودگستاخ بن کر کہی ہے تُو اُس سے خوف نہ کرنا " ( استثنا 18باب 21-22آیات)۔

بالآخر خدا جو کائنا ت کا خالق اور ہماری نجات کا بانی ہے ہمیں بتاتا ہے " پہلی باتوں کو جو قدِیم سے ہیں یاد کرو کہ مَیں خُدا ہوں اور کوئی دوسرا نہیں۔ مَیں خدا ہوں اور مجھ سا کوئی نہیں۔ جو اِبتدا ہی سے انجام کی خبر دیتا ہوں اور ایّامِ قدِیم سے وہ باتیں جو اب تک وقوع میں نہیں آئیں بتاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ میری مصلحت قائم رہے گی اور مَیں اپنی مرضی بالکل پُوری کروں گا" ( یسعیاہ 46باب 9-10آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا خُدا کے وجود کا کوئی فیصلہ کن ثبوت موجود ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries