مسیحی مانباپ کو کیا کرنا چاہئے جب انکے پاس ایک مسرف بیٹا یا (بیٹی) پایا/ پائی جائے؟



سوال: مسیحی مانباپ کو کیا کرنا چاہئے جب انکے پاس ایک مسرف بیٹا یا (بیٹی) پایا/ پائی جائے؟

جواب:
مسرف بیٹے کی کہانی میں ایک وارث پایا جاتا ہے جسکو (لوقا32- 15:11) میں ذکرکیا گیا ہے۔ کئی ایک اصول ہیں جنہیں ایماندار مانباپ اپنے ان بچوں کے ردعمل اور برتاؤ کے لئے استعمال کرسکتے ہیں جو انکے راستے کے خلاف میں چلتے ہیں جنہوں نے انکو پالا پوسا اور بڑا کیا تھا۔ مانباپ کو بھی یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ انکے بچے بالغ ہوچکے ہیں اور اب وہ مانباپ کے اختیار میں نہیں رہے۔

مسرف بیٹے کہانی میں چھوٹا بیٹا اپنی وراثت کا حصہ لیکر دورداز ملک کو چلاجاتا ہے اسے عیاشی میں خرچ کردیتا ہے۔ ایسے بچے کے معاملہ میں جو نئے سرے سے پیدا ہؤا ایماندار نہ ہو اس نے ایسا ہی کیا جیسے فطرتاً دیگر بچے کرتے ہیں۔ مگر اس بچہ کے معاملہ میں جسے نے مسیح پر پوری طرح سے ایمان کا اقرار کیا ہو وہ اگر ایسا کرتا ہے تو اس بچہ کو ہم ایک "مسرف" بیٹا کہتا ہیں۔ اس لفظ کے معنی ہیں " ایک شخص جس نے اپنی ساری آمدنی کے ذرا‏ئع یا کمائی کو فضول میں خرچ کردیا ہو"۔ اس عبارت میں ایک لڑکے کا بیان جو اپنا گھر چھوڑ دیتا ہے اور گھر سے دود جاکر نہ صرف اپنے مانباپ کی دنیوی ورا‎ثت کو بلکہ اپنے مانباپ کی روحانی وراثت کو بھی فضول میں خرچ کرتا ہے جو اس کے مانباپ نے اس پر خرچ کیا تھا۔ انہوں نے اس کی پرورش کی تھی، تعلیم دی تھی، اپنا پیار دیا تھا۔ اس کی پرواہ کی تھی۔ ان سب کو اس لڑکے نے بھول کر خدا کے خلاف بغاوت کردی۔ ایک بچہ اگر وہ اپنے مانباپ کے خلاف بغاوت کرتا ہے وہ سب سے پہلے خدا کے خلاف بغاوت کرتا ہے۔

اس با ت کو نوٹ کریں کہ اس تمشیل میں باپ لڑکے کو گھر چھوڑنے کے اس کے ارادہ پر روک نہیں لگایا نہ ہی وہ اس کی حفاظت کی کوشش میں اس کا پیچھا کرتا ہے بلکہ اس لڑکے کے مانباپ ایمان کے ساتھ گھر پر رہکر اس کے لئے دعا کرتے ہیں اور جب وہ لڑکا "اپنے ہوش میں آتا ہے"۔ اور پیچھے مڑکر دیکھتا ہے اور گھر واپس آتا ہے تو یہی پاتا ہے کہ اس کا باپ اس کے لئے انتظار کر رہا ہوتا اور دوڑ اس کے گلے لگتا ہے کیونکہ اس کا لڑکا "بہت دنوں تک اس سے دور رہا تھا"۔

جب ہمارے جوان بیٹے بیٹیاں اپنے دل کی کرنے لگتے ہیں— یہ سوچ کر کہ ہم قانونی طور سے ایسا کرسکتے ہیں — اور سوچتے ہییں کہ کسی طرح نتیجہ تک پہنچ سکتے ہیں تو مانباپ کو چاہئے کہ انکو جانے دیں اور اپنے سے جدا ہونے دیں۔ مانباپ کو ان کے پیچھے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور جو انجام ہاتھ لگینگے اس میں دخل اندازی کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ مانباپ کو چاہئے کہ ان کے لئے وافاداری سے دعا کرتے رہیں۔ اور اس بات کا انتظار کریں کہ وہ کب توبہ کرینگے، اور جب تک یہ باتیں نہ ہولیں تب تک مانباپ کو چاہئے کہ آپس میں صلاح مشورہ کریں۔ بغاوت میں انکا ساتھ نہ دیں اور دخل اندازی نہ کریں۔ 1 پطرس 4:15۔

ایک بار جب لڑکے بچے قانونی طور سے بالغ ہوجاتے ہیں تب وہ صرف خدا کے ماتحت ہوجاتے اور حکومت کے سپرد ہوجاتے ہیں۔ (رومیوں7- 13:1)۔ مانباپ ہونے کے ناتے ہم اپنے مسرف بیٹوں اور بیٹیوں کے لئے دعا میں اور پیار میں سہارا دے سکتے ہیں۔ اور ایک بار جب وہ خدا کی طرف پھرتے ہیں تو انکے ساتھ ہر معاملے میں کھڑے رہ سکتے ہیں۔ خدا اکثر اپنے خود کو سپرد ہوکر پریشانی جھیلنے کے ذریعہ سے ہمکو عقلمند بناتا ہے۔ اور یہ ہر ایک شخص کا ذاتی معاملہ ہے کہ اس کا مناسب طور سے جواب دیں۔ مانباپ ہونے کے ناتے ہم اپنے بچوں کو نہیں بچا سکتے— صرف خدا ہی یہ کرسکتا ہے۔ جب تک وہ وقت آئے ہم کو انتظار کرنا ہے، دعا کرنا ہے اور معاملہ کو خدا کے ہاتھوں سونپنا ہے۔ یہ طریقہ عمل دردناک ثابت ہوسکتا ہے مگر جب اسے بائيبل کے طریقہ انجام دیا جا تا ہے تو یہ دل کو تسلی اور دماغی سکون لے آتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کا انصاف نہیں کرسکتے مگر خدا کر سکتا ہے۔ خدا کے انصاف میں بڑی تسلی ہوتی ہے۔ "کیا تمام دنیا کا انصاف کرنے والا خدا انصاف نہ کریگا"؟ (پیدایش 18:25b)۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



مسیحی مانباپ کو کیا کرنا چاہئے جب انکے پاس ایک مسرف بیٹا یا (بیٹی) پایا/ پائی جائے؟