settings icon
share icon
سوال

میرا ذاتی، شخصی گناہ دوسرے لوگوں کو کیسے متاثر کرتا ہے؟

جواب


اگر آپ سمندر کے بیچ کسی الگ تھلگ جزیرے پر رہتے ہوں تو پھر ممکن ہے کہ آپ کا ذاتی گناہ آپ کے سوا کسی اور شخص کو متاثر نہیں کرے گا ۔ چونکہ یہ بھی کہاوت ہے کہ "انسان اکیلا نہیں رہ سکتا ہے " لہذااس بات کا زیادہ امکان ہے کہ آپ کا اپنا ایک خاندان ہے یا کم از کم آپ کے دوست اور جاننے والے ہیں جن سے آپ مسلسل رابطے میں ہیں ۔ یہ سب کسی نہ کسی طرح سے آپ کے گناہ سے متاثر ہوں گے کیونکہ گناہ کے مخصوص نتائج ہوتے ہیں(رومیوں 6باب 23آیت)۔ یہ ایک ایسا اُصول ہے جو تخلیق کے وقت سے نافذ کردہ طریقے کی پیروی کرتا ہے ۔ تخلیق کردہ ہر چیز میں ایک بیج ہے، اور ہر چیز اُس بیج کے وسیلہ سے اپنی "جنس" کے موافق خود اپنی نسل کو فروع دیتی ہے ( پیدایش 1باب 11، 21، 25آیات)۔ دوسرے الفاظ میں اگر آپ مکئی بوتے ہیں تو آپ چقندر کی فصل کی توقع نہیں کرتے ۔ اگر آپ گناہ بوتے ہیں – چاہے یہ ذاتی ہی کیوں نہیں – تو آپ نتائج کا سامنا کرنے کی توقع کر سکتےہیں ۔ ایک اور اُصول ہے جو "وابستگی " کا اصول کہلاتا ہے، اُس کے تحت ہمارے گناہوں کے نتائج کسی نہ کسی طرح سے ہم سے وابستہ لوگوں کی زندگیوں میں کہیں نہ کہیں نمودار ہو جائیں گے۔ اِس کا مطلب یہ ہے آپ کے ارد گرد کے لوگ آپ کے ساتھ تعلق اور آپ کی طر ف سے کئے گئے ذاتی اور سر عام فیصلوں اور اعمال دونوں کے باعث برکت پا سکتے ہیں یا پھر نقصان اُٹھا سکتے ہیں۔

دوسرے لوگوں پر "ذاتی " گناہوں کے اثرات کو دیکھنے کےلیے موجودہ دور کے نامور بشارتی رہنماؤں کی زندگیوں کے ساتھ جڑے ہوئے بدنامی و رسوائی کے واقعات کو دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ جب ایسے معاملات منظرِ عام پر آجاتے ہیں –تو بائبل کی وہ بات پوری ہوتی ہے جس میں بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ " یہ جان لو کہ تمہاراگناہ تم کو پکڑے گا" ( گنتی 32باب 23آیت)- تو اس سے خاندانوں ، دوستوں ، جماعتوں اور مسیحی برادری کو بڑے پیمانے پر نقصان ہوتا ہے۔ اس سے بھی بد تربات یہ ہے کہ اس سے مسیحی گواہی کو ٹھیس پہنچے گی اور غیر ایماندار نہ صرف ہم پر ہنسیں گے اور ہمارا مذاق اُڑائیں بلکہ وہ مسیح کے نام کے خلاف کفر بھی بکیں گے ۔ایسا محسوس ہو سکتا ہے کہ لوگ ظاہری نتائج کے بغیر گناہ کرتے رہتے ہیں، لیکن جو بات پوشیدہے وہ ایک دن عیاں کی جائے گی ۔ "کیونکہ کوئی چیز چھپی نہیں جو ظاہر نہ ہو جائے گی اور نہ کوئی اَیسی پوشیدہ بات ہے جو معلوم نہ ہو گی اور ظہور میں نہ آئے گی" ( لوقا 8باب 17آیت)۔ کیا آپ ایمانداری سے اپنے کسی بھی قریبی ساتھی کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگروہ آپ کے پوشیدہ گناہوں کے بارے میں جان جائے تو وہ متاثر نہیں ہو گا ؟

ایسا گناہ جسے پوشیدہ رکھا جاتا ہے وہ احساسِ جُرم پیدا کرتا ہے اور احساسِ جُرم ہمارے اندر ایک مخصوص تبدیلی لاتا ہے۔ دوسرے لوگ اُن تبدیلیوں کو دیکھتے اور ان سے متاثر ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ایک بیوی اپنے شوہر کی فحش نگاری کی لت سے بے خبر ہے لیکن اُس کی یہ لت اُس میں یہ تبدیلی لاتی ہے کہ وہ بہت ساری باتیں اپنی بیوی سے چھپاتا ہے اور اُس کا اپنی بیوی کے ساتھ جنسی تعلق کے اندر رویہ بھی اِس بات سے متاثر ہوتا ہے۔ایسے میں بیوی اِس تبدیلی کو بھانپ لیتی ہے اور اِس کی ممکنہ وجہ کے بارے میں غور و خوص کرتی ہے – دوسری جانب شوہرکے نزدیک بیوی مزید پُرکشش نہیں رہتی ، وہ اُس سے مزید محبت نہیں کرتا یا اپنے جیون ساتھی کے علاوہ کسی اور سے جنسی تعلق قائم کر لیتا ہے ۔ اگر چہ اِن باتوں میں سے کوئی بھی سچ نہیں ہے مگر اُس کے "ذاتی "(خفیہ ) گناہ کے ممکنہ نتائج اُس کی بیوی ، اُن دونوں کی شادی اور اُن کے خاندان کے لیے تباہ کُن ہیں حالانکہ اُس کا راز ابھی تک فاش نہیں ہوا۔

یہاں غور و خوص کرنے کےلیےایک اور اُصول پیش کیا جاتا ہے "بلکہ جب تُو دُعا کرے تو اپنی کوٹھری میں جا اور دروازہ بند کر کے اپنے باپ سے جو پوشیدگی میں ہے دُعا کر۔ اِس صورت میں تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تجھے بدلہ دے گا۔ تاکہ آدمی نہیں بلکہ تیرا باپ جو پوشیدگی میں ہےتجھے روزہ دار جانے۔ اِس صورت میں تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تجھے بدلہ دے گا۔" ( متی 6باب 6، 18آیت)۔ جب ہم کلام ِ مقدس سے استدلال کرتے ہیں تو یہاں ہمیں ایک ایسا اصول ملتا ہے جس کا مثبت اور منفی دونوں طرح سے اطلاق کیا جا سکتا ہے ۔ ہم جو کام خفیہ طور پر کرتے ہیں خدا اُس کا سرِ عام صلہ دیتا ہے ۔ اگر ہم خدا وند کی مرضی کے مطابق دُعا کرتے اور روزہ رکھتے ہیں تو ہمیں اجر ملتا ہے ۔ لہذا اس سے یہ دلیل ملتی ہے کہ اگر ہم خفیہ طور پر گناہ کرتے ہیں تو ہمیں اُس عمل کا " اجر" بھی سر ِ عام ملے گا ۔ کسی بھی صورت میں چاہے یہ ذاتی یا سر عام ہوخدا گناہ کے بارے میں دیکھتا اور جانتا ہے وہ گناہ کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑ سکتا ۔

ذاتی گناہ کا سب سے سنگین اثر ہماری اپنی فانی جان پر ہوتا ہے حزقی ایل 18باب 4آیت بیان کرتی ہے کہ "جو جان گناہ کرتی ہے وہی مرے گی" اور رومیوں 6باب 23آیت ہمیں بتاتی ہے کہ" گناہ کی مزدوری موت ہے ۔" یہ آیت ایک ایسے شخص کے بارے میں بیان کرتی ہے جو نئی زندگی کے تجربے سے خالی ، نفسانی اور عادی گنہگار ہے ۔ لیکن نئی پیدایش کے حامل خدا کے اُس فرزند کی ذاتی اور عام زندگی میں ایک معیاری چال چلن پایا جاتا ہے جس نے یسوع مسیح کو اپنے نجات دہندہ کے طور پر قبول کر لیا ہے "پس تم کھاؤ یا پِیو یا جو کچھ کرو سب خُدا کے جلال کے لئے کرو " ( 1کرنتھیوں 10باب 31آیت)۔ نئی پیدایش کا حامل خدا کا فرزند خدا کے نام کو جلال دینے کےلیے زندگی بسر کرنے کی خواہش رکھتا ہے اور حتیٰ کہ جب ایسا وقت بھی آتا ہے کہ ہم ایسا کرنے میں نا کام ہو سکتے یا ہوتے ہیں تو خدا نے ایسے وقت میں ہماری اپنے ساتھ رفاقت کا بند وبست بھی کیا ہے ۔ اُس نے وعدہ کیا ہے کہ "اگر اپنے گُناہوں کا اِقرار کریں تو وہ ہمارے گُناہوں کے معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچّا اور عادِل ہے " (1یوحنا 1باب 9آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

میرا ذاتی، شخصی گناہ دوسرے لوگوں کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries