بائبل غرور/تکبر/بے جا فخر کے بارے میں کیا فرماتی ہے؟


سوال: بائبل غرور/تکبر/بے جا فخر کے بارے میں کیا فرماتی ہے؟

جواب:
فخر کی وہ قسم جس سے خدا نفرت کرتا ہے (امثال 8باب 13آیت ) اور فخر کی وہ قسم جو ہم اچھا کام کرنے پر محسوس کرتے ہیں (گلتیوں 6باب 4آیت ) یاجس کا اظہار ہم اپنے پیاروں کی کامیابی پر کرتے ہیں (2کرنتھیوں 7باب 4آیت ) بالکل مختلف ہے۔ تاہم ایسا فخر جو ہماری خود راستی یا احساسِ برتری کا نتیجہ ہو گناہ ہے اور خُدا اِس سے نفرت کرتا ہے کیونکہ یہ خُداکے ساتھ مضبوط رفاقت قائم کرنے میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔

10زبور 4آیت وضاحت کرتی ہے کہ متکبرلوگ اپنے آپ میں ایسے غرق ہوتے ہیں کہ اُن کے خیالات بھی خدا سے دور ہوتے ہیں "شریر اپنے تکبر میں کہتا ہے کہ وہ باز پُرس نہیں کرے گا۔ اُس کا خیال سراسر یہی ہے کہ کوئی خُدا نہیں"۔ اِس قسم کا سرکش تکبر عاجزی اور انکساری کے اُس جذبے کے خلاف ہے جس کا خدا تقاضا کرتا ہے"مُبارک ہیں وہ جو دِل کے غریب ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے"(متی5باب 3آیت )۔ "دِل کے غریب" وہ لوگ ہیں جو اپنی رُوحانی بدحالی اور اپنی اس نااہلی کو تسلیم کرتے ہیں کہ الٰہی فضل کے بغیر وہ خُدا کے پاس نہیں آسکتے ۔ دوسری جانب مغرور لوگ اپنے تکبر میں اتنے اندھے ہیں کہ وہ سوچتے ہیں کہ اُنہیں خُدا کی ضرورت نہیں ہےیا اس سےبھی بدتر سوچ یہ ہے کہ خُدا اُن کو ایسے ہی قبول کرے جیسے وہ ہیں کیونکہ وہ اُس کی قبولیت کے مستحق ہیں ۔

تمام بائبل میں ہمیں تکبر کے نتائج کے بارے آگاہ کیا جاتا ہے۔ امثال 16باب 18- 19آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ "ہلاکت سے پہلے تکبر اور زوال سے پہلے خُود بینی ہے۔ مسکینوں کے ساتھ فروتن بننا مُتکبروں کے ساتھ لُوٹ کا مال تقسیم کرنے سے بہتر ہے"۔ شیطان کو تکبر کی وجہ سے آسمان سے گرایا گیا تھا (یسعیاہ 14باب 12-15آیات )۔ اُس نے کائنات کے واجب حاکم کے طور پر خُدا کی جگہ لینے کی خودغرض جسارت کی تھی۔ مگر آخری عدالت میں خدا شیطان کو جہنم میں پھینک دے گا۔ کیونکہ جو خُدا کے خلاف سرکشی میں اُٹھتے ہیں اُن کو تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا (یسعیاہ 14باب 22آیت)۔

تکبر/فخر نے بہت سےلوگوں کو یسوع کو نجات دہندہ کی حیثیت سے قبول کرنےسے روک رکھا ہے ۔ گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم کرنا کہ ابدی زندگی کی میراث میں شامل ہونے کےلیے ہم اپنی قوت سے کچھ نہیں کر سکتے متکبر لوگوں کے لئے ایک مستقل ٹھوکر کا باعث ہے۔ ہمیں اپنے بارے میں فخر نہیں کرنا چاہیے اور اگر ہم فخر کرنا ہی چاہتے ہیں تو ہمیں خدا کے جلال پر فخر کرنا چاہیے ۔ اپنے بارے میں ہم جو کچھ بھی کہتے ہیں اُس کا خُدا کے کام میں کچھ عمل دخل نہیں ہے۔ اس کے بر عکس خُدا ہمارے بارے میں جو کچھ کہتا ہے صرف وہی اہمیت رکھتا ہے (2کرنتھیوں 10باب 18آیت )۔

تکبر/فخر کرنا گناہ کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ تکبر کرنا کسی ایسے کام کے لئے اپنے آپ کو اہمیت دینا ہے جو خُدا نے کیا ہو۔ تکبر کرنا اُس جلال کو اپنی ذات سے منسوب کرنا اور اپنے نام کےلیے رکھے رکھنا ہے جس کا صرف خُدا حقدار ہے ۔ تکبر کرنا بنیادی طورپر خود کی پرستش کرنا ہے۔ دنیا میں ہمارا کوئی بھی کام ممکن نہیں ہو سکتا ہے اگر خدا ہمیں قائم نہ رکھے اور اِس کے کرنے کی قوت نہ دے ۔ "تیرے پاس کون سی ایسی چیز ہے جو تُو نے دُوسرے سے نہیں پائی؟ اور جب تُو نے دُوسرے سے پائی تو فخر کیوں کرتا ہے کہ گویا نہیں پائی؟"(1-کرنتھیوں 4باب 7آیت )۔ اِس وجہ سے ہم خُدا کو جلال دیتے ہیں جو اکیلا اِس کا مستحق ہے۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
بائبل غرور/تکبر/بے جا فخر کے بارے میں کیا فرماتی ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں