آخری زمانہ کی نبوتوں کے پوراہونے کا نظریہ کیا ہے؟



سوال: آخری زمانہ کی نبوتوں کے پوراہونے کا نظریہ کیا ہے؟

جواب:
نبوتوں کے پوراہونے کا نظریہ کے مطابق بائبل کی ساری نبوتیں سچ مچ میں ایک تاریخ ہے۔ کلام کا ترجمہ جو نبوتوں کے پورا ہونے سے متعلق ہے وہ پہلی صدی کے آویزش کے اشاری طور پر لکھے گئے مکاشفہ کی کتاب سے تعلق رکھتاہے۔ وہ کوئی بیان نہیں ہے جو آخری دنوں میں یا آخری زمانہ میں ہو کر رہے گا۔ نبوتوں کے لئے موسوم کیا ہوا یہ لفظ "پری ٹیرزم" لاطینی لفظ کے "پریٹر" سے آیا ہے جس کے معنی ہیں ماضی یا ماضی میں کی گئی نبوتیں ہیں۔اسی طرح پرٹیرزم کا نظریہ یہ ہے کہ کلام پاک کی نبوتیں جو آخر زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں وہ ماضی میں ۔ پہلے ہی پوری ہو چکی ہیں۔ نبوتیں براہ راست مستقبل کے لئے پیش کی گئی ہیں اور جو آخری زمانہ کی نبوتیں ہیں وہ ابھی بھی ایک مستقبل کی تکمیل بطور رکھاتی دیتی ہیں۔

ماضی کو دو قسموں میں تقسیم کیا گیاہے: مکمل (یا با اصول) ماضی اور ادھورا ماضی ۔ یہ تحریر مکمل ماضی کے بحث کو روکے گا (اس کو کچھ لوگ حسب معمول سے زیادہ ماضی بھی کہتے ہیں)۔

ماضی کا اصول مکاشفہ کے کتاب کی مستقبل کے نبوت کی خاصیت کا انکار کرتاہے۔ ماضی کی تحریک لازمی طور سے تعلیم دیتاہے کہ تمام نئے عہدنامہ کی آخری زمانہ کی نبوتیں عیسوی 70 میں پوری ہو چکی تھیں جب رومیوں نے یروشلیم پر حملہ کرکے اسے برباد کر دیا تھا۔ ماضی کا اصول سکھاتاہے کہ ہر ایک واقعہ حسب معول طریقہ سے آخری زمانہ کے واقعات کے ساتھ جڑاہوا ہے۔ مسیح کی دوبارہ آمد، بڑی مصیبت ، مردوں کی قیامت اور آخری عدالت یہ سب پہلے ہی سے واقعہ ہو چکے ہیں۔ (جہاں تک آخری عدالت کا سوال ہے اس کے طریق عمل کا سلسلہ پورا ہونے کے لئے جارہی ہے)۔ یسوع کا زمین پر واپس آنا ایک "روحانی" واقعہ تھا نہ کہ ایک جسمانی۔

ماضی کا اصول سکھاتا ہے کہ سن 70 عیسوی میں شریعت کا قانون پورا ہو چکا تھا۔ اور خدا کا عہد جو نبی اسرائیل کے ساتھ تھا وہ ختم ہو چکا تھا ۔ نیا آسمان اور نئی زمین جس کی بابت مکاشفہ 21:1 میں بتایا گياہے وہ ماضی سے تعلق ہے۔ وہ نئے عہد کے تحت ہے۔ جس طرح ایک نیا مخلوق بنایا جاتاہے (2 کرنتھیوں 5:17)۔ اسی طرح موجودہ دنیا نئے عہد کے تحت ایک "نئی زمین" ہے۔ ماضی کا یہ پہلو الہی علم کے بدل میں ایک اعتقاد کے لئے آسانی سے آگے لے جاتا ہے۔

ماضی کااصول عام طور پر زیتون کا پہاڑ پر یسوع کے ذریعہ جو وعظ پیش کیا گیا تھااس کی ایک عبارت کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں شاگردوں کے بحث پر شرح پیش کیا گیا تھا۔ آخری زمانہ کے کچھ واقعات کابیان کرتے ہوئےیسوع کہتاہے (متی 24:34)"میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک یہ سب باتیں نہ ہو لیں یہ نسل ہر گز تمام نہ ہو نگی۔ " ماضی کا اصول اس عبارت کا یہ معنی پیش کرتاہےکہ متی 24 باب میں یسوع نے جو بھی کچھ کہاان میں سے ہر ایک بات کا واقع ہونا اسی نسل کے رہتے ہوئے ہو نا تھا۔ اس لئے 70 عیسوی میں جو یروشلیم کی بربادی ہوئی ایسا کہا جاتا ہے کہ وہ عدالت کا دن" تھا۔

ماضی کے اصول کے ساتھ پریشانیاں بہت ہیں۔ ایک چیز کے لئے خدا کا عہد بنی اسرائیل کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے (یرمیاہ 36-33 :31)، اوربنی اسرائیل کے لئے مستقبل کی بحالی بھی ہوگی (یسعیاہ 11:12)۔ پولس رسول نے ان لوگوں کے خلاف خبردار کی جو جھوٹی تعلیم دیتے تھے کہ مردوں کی قیامت ہو چکی ہے ان میں سے ہمینیس اور فلیتس تھے جو یہ تعلیم دیتے تھے۔ ایسا کہہ کر وہ یمانداروں کوحق سے گمراہ کرتے تھے (2 تموتھیس 18-17 :2)۔ اور یسوع مسیح نے متی 24 میں اس نسل کی بات کہی اس کو اس بطور لیتے ہیں کہ جو نسل یسوع کے زمانہ میں موجود تھی وہ ان واقعات کی شروعات کو دیکھنے کے لئے زندہ تھے۔

معاد کا عقیدہ یعنی آخری زمانہ کے واقعات کا علم ایک پیچيدہ موضوع ہے اور بربادیوں کے تصورات کے لئے بائبل کااستعمال کئی ایک نبوتوں سے جوڑنے کے لئے کیا جاتا ہے جو آخری زمانہ کے واقعات کا کئي طرح سے ترجمانی کے لئے رہنمائی کی گئی ہے۔ ان باتوں سے متعلق مسیحیت کے اندر کچھ ایک نا منظوری کے لئے ابھی بھی جگہ باقی ہے۔ کسی طرح مکمل ماضی کا اصول کچھ سنجیدہ درازیں (شگاف) پیدا کرتاہے جس میں وہ مسیح کی دوبارہ آمد کی سچائی کا انکار کرتاہے۔ اور بڑی مصیبت کے خوفناک ماہیت کو محدود کرتے ہوئے اس واقعہ کو یروشلیم کی تباہی جتا کر ظاہرا کے لئے کم اہمیت دیتاہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



آخری زمانہ کی نبوتوں کے پوراہونے کا نظریہ کیا ہے؟